Monday, January 26, 2026
ہومپاکستانزراعت اور لائیو اسٹاک کی بہتری کیلئے پاکستان کا آسٹریلوی مہارت سے استفادے کا عزم

زراعت اور لائیو اسٹاک کی بہتری کیلئے پاکستان کا آسٹریلوی مہارت سے استفادے کا عزم

اسلام آباد(آئی پی ایس )وزیراعظم پاکستان کی ہدایات پر وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین کی زیرِ صدارت زرعی اور لائیو اسٹاک شعبوں میں تعاون کے فروغ کے لیے آسٹریلیا کے ہائی کمشنر برائے پاکستان جناب ٹموتھی کین کے ساتھ ایک اعلی سطحی اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں وزیراعظم کے معاونِ خصوصی ہارون اختر، لائیو اسٹاک کمشنر اور متعلقہ اداروں کے سینئر افسران نے بھی شرکت کی۔اجلاس کے دوران زرعی و لائیو اسٹاک پیداوار میں اضافے، مارکیٹ تک رسائی، بایو سیکیورٹی کے امور اور تکنیکی تعاون کے فروغ پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

وفاقی وزیر نے اس موقع پر کہا کہ پاکستان اور آسٹریلیا کے مابین 1948 سے دوستانہ تعلقات قائم ہیں اور دولتِ مشترکہ (کامن ویلتھ)کے رکن ہونے کے باعث دونوں ممالک کے درمیان کئی مشترکہ اقدار اور مفادات موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں آسٹریلوی ہائی کمشنر کی موجودگی دوطرفہ تعاون کو مزید مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرے گی۔وفاقی وزیر نے پاکستان کی معیشت میں زراعت کی مرکزی حیثیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ملک کی تقریبا 65 فیصد آبادی براہِ راست یا بالواسطہ زراعت سے وابستہ ہے جبکہ 36 فیصد روزگار کا انحصار اسی شعبے پر ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ پاکستان کی زرعی معیشت کا تقریبا 60 فیصد حصہ لائیو اسٹاک پر مشتمل ہے، تاہم اس شعبے میں پیداوار اب بھی کم ہے۔ انہوں نے دو بڑے چیلنجز کی نشاندہی کی، جن میں فوٹ اینڈ ماتھ ڈیزیز سے پاک علاقوں کا قیام اور جانوروں کے وزن اور پیداوار میں اضافہ شامل ہے تاکہ کسانوں کی آمدنی میں بہتری لائی جا سکے۔انہوں نے اجلاس کو آگاہ کیا کہ حکومتِ پاکستان نے FMD کے تدارک کے لیے دو سال کے لیے 7 اعشاریہ35 ارب روپے مختص کیے ہیں، فری کمپارٹمنٹس کے قیام کا آغاز کر دیا گیا ہے اور اس بیماری پر قابو پانے کے لیے روس اور چین سے ویکسین درآمد کی جا رہی ہیں۔ وفاقی وزیر نے بتایا کہ پاکستان میں فی ایکڑ اوسط زرعی پیداوار 30 من ہے جبکہ بھارت میں یہ 45 من ہے۔ انہوں نے عالمی سطح پر بڑھتے ہوئے غذائی تحفظ کے چیلنجز کے تناظر میں زرعی پیداوار بڑھانے کے لیے آسٹریلیا کے تجربات سے استفادہ کرنے کی خواہش کا اظہار کیا۔باغبانی کے شعبے کا ذکر کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان آسٹریلیا کو آموں کی برآمدات میں اضافہ کرنا چاہتا ہے۔

اگرچہ آسٹریلیا نے پاکستان سے مزید آم درآمد کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے، تاہم بعض تکنیکی اور ریگولیٹری تقاضے اب بھی ایک چیلنج ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان تمام زیرِ التوا امور کو فوری طور پر حل کرنے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ وزارتِ قومی غذائی تحفظ و تحقیق نے ردِعملی خط و کتابت کے بجائے فعال بین الاقوامی روابط کی حکمتِ عملی اختیار کی ہے۔ اس مقصد کے لیے وفاقی وزیر کی سربراہی میں ایک خصوصی ورکنگ گروپ قائم کیا جائے گا جو تمام زیرِ التوا معاملات پر عملدرآمد کو یقینی بنائے گا۔ دونوں ممالک فوکل پرسنز نامزد کریں گے اور سال میں دو سے تین مرتبہ باقاعدہ اجلاس منعقد کیے جائیں گے۔آسٹریلوی ہائی کمشنر مسٹر ٹموتھی کین نے پاکستان کے ساتھ تعلقات کو انتہائی اہم قرار دیتے ہوئے پاکستان کی زرخیز زمین اور زرعی صلاحیت کو سراہا۔ انہوں نے بتایا کہ آسٹریلیا فائیٹو سینیٹری اور دیگر ریگولیٹری نظام کو ڈیجیٹلائز کر رہا ہے اور پاکستانی حکام کو تکنیکی تبادلوں اور تربیت کے مواقع فراہم کیے جائیں گے۔ انہوں نے برازیل میں اپنے سابقہ تجربے کا حوالہ دیتے ہوئے برازیل کے فوڈ سیکیورٹی اور زرعی پیداوار کے ماڈل کو قابلِ تقلید قرار دیا۔وزیراعظم کے معاونِ خصوصی ہارون اختر نے کہا کہ آسٹریلیا کم پانی کے استعمال سے زیادہ پیداوار حاصل کرنے میں نمایاں تجربہ رکھتا ہے، جس سے پاکستان کو سیکھنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت شوگر سیکٹر سمیت مختلف شعبوں میں اصلاحات اور ڈی ریگولیشن کی جانب بڑھ رہی ہے۔ پاکستان میں لائیو اسٹاک کی بڑی تعداد کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی منڈیوں میں مسابقت کے لیے نئی نسلوں، سرٹیفائیڈ سلاٹر ہاسز اور ویلیو ایڈیشن ناگزیر ہیں۔ انہوں نے تجویز دی کہ ایک پاکستانی وفد آسٹریلیا کا دورہ کرے تاکہ وہاں کی جدید لائیو اسٹاک اور گوشت برآمدی سہولیات کا مشاہدہ کیا جا سکے، کیونکہ آسٹریلیا دنیا کے بڑے گوشت برآمد کنندگان میں شمار ہوتا ہے۔لائیو اسٹاک کمشنر نے اجلاس کو آگاہ کیا کہ آسٹریلیا کے تعاون سے کئی منصوبے پہلے ہی پاکستان میں جاری ہیں، بالخصوص ڈیری ڈویلپمنٹ، بریڈ امپروومنٹ، چراگاہوں کے انتظام اور استعداد کار میں اضافے کے شعبوں میں۔ انہوں نے کہا کہ آسٹریلیا کے ساتھ قریبی تعاون سے پاکستان میں لائیو اسٹاک کی پیداوار اور برآمدی صلاحیت میں نمایاں بہتری لائی جا سکتی ہے۔اجلاس کے اختتام پر دونوں فریقین نے زرعی اور لائیو اسٹاک شعبوں میں تکنیکی تعاون، مارکیٹ تک بہتر رسائی، باقاعدہ روابط اور استعداد کار میں اضافے کے ذریعے تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا، تاکہ باہمی فائدہ اور علاقائی غذائی تحفظ کو فروغ دیا جا سکے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔