Tuesday, January 27, 2026
ہومپاکستانپی ٹی آئی سے مذاکرات میں سنجیدہ ہیں مگر ہم کس پر اعتبارکریں، خواجہ آصف

پی ٹی آئی سے مذاکرات میں سنجیدہ ہیں مگر ہم کس پر اعتبارکریں، خواجہ آصف

اسلام آباد(آئی پی ایس ) وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ 18ویں ترمیم ایک ڈھکوسلا ثابت ہوئی ہے، سارے اختیارات صوبائی حکومت کو منتقل ہوگئے ہیں، کراچی میں ہونے والے واقعات متقاضی ہیں کہ اختیارات نچلی سطح پر منتقل کیے جائے۔قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے وزیر دفاع خواجہ آصف نے سانحہ گل پلازہ پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کراچی میں آتشزدگی کا واقعہ ہوا، اس پر جتنا افسوس کیا جائیکم ہے، ڈمپرز حادثات میں بھی جانی نقصان ہوا۔خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ 18ویں ترمیم ایک ڈھکوسلا ثابت ہواہے، سارے اختیارات صوبائی حکومت کو منتقل ہوگئے ہیں، اتفاق رائے تھا کہ لوکل گورنمنٹ کو اختیارات منتقل کیے جائیں، ہم چاہتے تھے کہ گوادر سے گلگت تک ایک تعلیمی نصاب ہو، کراچی میں ہونے والے واقعات متقاضی ہیں کہ اختیارات نچلی سطح پر منتقل کیے جائے۔

خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ جب تک عوام کو اختیارات منتقل نہیں کریں گے یہ ہاوس بے معنی رہیگا، ستم ظریفی دیکھیں جب بھی ڈکٹیٹرز آئے انہوں نے بااختیارلوکل گورنمنٹ متعارف کرائی، ایوب خان، ضیا الحق اور مشرف نے لوکل باڈی کے الیکشن کرائے، ہم لوگ لوکل گورنمنٹ کے الیکشن نہیں کراتے، الیکشن شیڈول بھی آئے توبہانے کرتے ہیں، ہماریملک اور سسٹم کی بقا کے لیے لوکل گورنمنٹ کو مضبوط کرنا ہوگا۔وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ چین میں موجودہ صدر ایک سیاسی عمل سے ابھر کر سامنے آئے، لوکل گورنمنٹ سے لیڈرشپ پیدا ہوتی ہے اور ایسے عمل سے آگے بڑھتی ہے، آگ کاواقعہ ہمارے سسٹم کی تباہی کی نشانی ہے، ملک میں عوام کو مضبوط کرنے کے لیے لوکل گورنمنٹ کو مضبوط کرنا ہوگا، خواہش ہے کہ ایک مضبوط لوکل گورنمنٹ سسٹم ہو تاکہ ملک آگے بڑھ سکے، ایک ایسا نظام تعلیم ہونا چاہییکہ وفاق سمیت صوبوں کو بھی نئی نسل پہچانے ، یکساں نظام تعلیم ایک قوم بناتا ہے لیکن ایسا نہ ہو سکا۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ایسا نظام اب بننا چاہیے تاکہ صوبے سے تحصیل اور وارڈ کی سطح تک اختیارات جائیں، اگر یہی رہا تو پھر آخر میں وزارت دفاع کی فائر بریگیڈ ہی آگ بجھانے کے لیے آئیگی، پاکستان کے استحکام کے لیے اب فیصلے کرنا ہوں گے۔

پارلیمنٹ ہاوس میں گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ حکومت تحریک انصاف سے مذاکرات میں سنجیدہ ہے لیکن میں نہیں سمجھتا کہ پی ٹی آئی مذاکرات میں سنجیدہ ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ پی ٹی آئی چار پانچ زبانیں بولتی ہے، پی ٹی آئی والے فرینچ میں بات کرتے ہیں، انگلش،پنجابی اور اردو میں بات کرتے ہیں، ہم ان کی کون سی زبان سمجھیں، ، ہمیں بتائیں ہم ان کی کون سی زبان پر اعتبار کریں، خیبرپختونخواحکومت الگ اوراسمبلی میں بیٹھنیوالیالگ زبان بول رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ جولوگ باہربیٹھ کر گالم گلوچ کرتے ہیں سب سے پہلے ان کی زبان بندی ضروری ہے، باہربیٹھ کر جولوگ پاکستان کیخلاف بولتے ہیں یہ ان کی مرضی سے بول رہے ہیں، باقاعدہ ایک حکمت عملی کے تحت باہر سے لوگ بیٹھ کر لوگوں کو گالیاں دے رہے ہیں۔وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی بیک ٹریک کرنے کے لیے اور دو نمبری کرنے کے لیے اپنی اسپیس رکھنا چاہتی ہے، یہ صرف پی ٹی آئی کی نیت کا فتور ہے، پی ٹی آئی کی نیت ہو تو مذاکرات بھی ہوسکتے ہیں اور ان کا زرلٹ بھی نکل سکتاہے، تحریک انصاف کی بدنیتی ختم نہیں ہو رہی، یہ تاش کی بازی لگی ہوئی ہے اور سارے مل کر کھیل رہے ہیں۔خواجہ آصف نے کہا کہ مجھے یہ بتائیں ایک اکثریتی پارٹی نے اپنا لیڈر آف اپوزیشن کیوں نہیں بنایا؟ محمودخان اچکزئی کو اپوزیشن لیڈر بنایاگیا ہے وہ بھائی ہے اپنا اور میں محمود اچکزئی کا بڑا احترام کرتا ہوں، میرا ان کی سیاست سے اختلاف ضرور ہوسکتا ہے لیکن میرا ان سے بڑا برادرانہ تعلق ہے، بہت اچھی بات ہیکہ وہ اپوزیشن لیڈر بنیہیں میں ان کو ویلکم کرتا ہوں۔ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف اور شہباز شریف مجھے حق دیتے ہیں کہ میں ان سے اختلاف کرسکتا ہوں حالانکہ کوئی وزیراعظم اپنے وزرا کو یا ورکرز کو اتنی اسپیس نہیں دیتا جتنی شہباز شریف دیتے ہیں، پاکستان کی سیاست میں یہ لوگ ایک رول ماڈل ہیں۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔