Tuesday, January 27, 2026
ہومپاکستاندرآمدات پر انحصار کم کرکے برآمدات کو فروغ دینے پر توجہ مرکوز ہے، محمد اورنگزیب

درآمدات پر انحصار کم کرکے برآمدات کو فروغ دینے پر توجہ مرکوز ہے، محمد اورنگزیب

اسلام آباد (سب نیوز)وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ حکومت کی بنیادی توجہ برآمدات کو فروغ دینے اور درآمدات پر انحصار کم کرنے پر مرکوز ہے تاکہ معیشت کو پائیدار بنیادوں پر استوار کیا جا سکے۔اپنے ایک بیان میں انہوں نے بتایا کہ حکومت آئندہ چند ہفتوں میں مالی مشیروں کے انتخاب کے لیے باضابطہ تجویز جاری کرے گی۔اس بات پر بھی غور کیا جا رہا ہے کہ عالمی مارکیٹ سے سرمایہ حاصل کرنے کے لیے ڈالر، یورو، اسلامی سکوک یا پانڈا بانڈ میں سے کون سا آپشن اختیار کیا جائے۔ پاکستان جلد اپنی تاریخ کا پہلا پانڈا بانڈ متعارف کرانے کی تیاری بھی کررہا ہے۔

وزارتِ خزانہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق 4سال کے وقفے کے بعد پاکستان دوبارہ عالمی بانڈ مارکیٹ میں قدم رکھنے جا رہا ہے، جو ملکی معیشت میں آنے والے استحکام کی عکاسی کرتا ہے۔وزیرِ خزانہ نے واضح کیاکہ مختلف مالیاتی ذرائع پر غور جاری ہے، جن میں ڈالر، یورو اور اسلامی سکوک بانڈز کے ساتھ پانڈا بانڈ کا اجرا بھی شامل ہے۔ ان اقدامات کو عالمی مالیاتی منڈیوں میں پاکستان کی واپسی کی جانب اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔محمد اورنگزیب نے کہا کہ سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈاووس میں ورلڈ اکنامک فورم کے دوران پاکستانی وفد، وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں، عالمی سرمایہ کاروں کو یہ اعتماد دلانے میں مصروف ہے کہ پاکستان کی معیشت سنبھل چکی ہے اور معدنیات، زراعت اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول موجود ہے۔ان کا کہنا تھا کہ حالیہ عرصے میں معاشی استحکام کے حوالے سے نمایاں پیش رفت ہوئی ہے اور مہنگائی، شرحِ سود، مالی خسارہ اور کرنٹ اکانٹ جیسے اہم معاشی اشاریے مثبت سمت میں جا رہے ہیں۔

وزیرِ خزانہ کے مطابق پاکستان 2022 کے بعد عملی طور پر عالمی بانڈ مارکیٹ سے باہر ہو گیا تھا، تاہم آئی ایم ایف پروگرام کے تحت سخت مالی اصلاحات کی گئیں۔ایک وقت میں 40 فیصد تک پہنچنے والی مہنگائی اب کم ہو کر ایک ہندسی سطح پر آ چکی ہے، حکومت نے دوبارہ پرائمری سرپلس حاصل کیا ہے اور عالمی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسیوں نے پاکستان کی درجہ بندی بہتر کی ہے۔انہوں نے کہاکہ توقع ہے کہ جون تک زرمبادلہ کے ذخائر 3 ماہ کی درآمدات کے برابر ہو جائیں گے، جو عالمی سطح پر ایک معیاری حد سمجھی جاتی ہے۔ ان کے مطابق ادائیگیوں کے توازن میں بہتری، ترسیلاتِ زر اور سروسز کی برآمدات میں اضافے کے باعث روپے پر فوری دبا نہیں، جبکہ قومی کرنسی گزشتہ ڈیڑھ سال سے نسبتا مستحکم ہے۔محمد اورنگزیب نے مزید بتایا کہ معاشی بہتری کے ساتھ ساتھ دیرینہ اصلاحات پر بھی عمل کیا جا رہا ہے، جن میں سرکاری اداروں کی نجکاری اور ٹیکس نیٹ کا دائرہ بڑھانا شامل ہے۔ان کے مطابق قومی ایئرلائن کی فروخت گزشتہ ماہ مکمل ہو چکی ہے، جبکہ روزویلٹ ہوٹل نیویارک میں حکومتی حصص کی فروخت، بڑے ہوائی اڈوں کے انتظامات آٹ سورس کرنے اور تقریبا دو درجن دیگر سرکاری اداروں کی نجکاری پر بھی غور جاری ہے۔وزیرِ خزانہ نے زور دیا کہ حکومت برآمدات پر مبنی ترقی کو ترجیح دے رہی ہے تاکہ درآمدات کی وجہ سے بار بار جنم لینے والے ادائیگیوں کے بحران سے بچا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ مستقل اور پائیدار معاشی ترقی کے لیے اصلاحات کے عمل کو جاری رکھنا ناگزیر ہے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔