Tuesday, January 27, 2026
ہومپاکستانخواتین کا معاشی بااختیار ہونا پاکستان کی پائیدار ترقی کے لیے اسٹریٹجک ضرورت ہے، چیئرمین سینیٹ

خواتین کا معاشی بااختیار ہونا پاکستان کی پائیدار ترقی کے لیے اسٹریٹجک ضرورت ہے، چیئرمین سینیٹ

اسلام آباد (سب نیوز)
چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ خواتین کا معاشی بااختیار ہونا محض مساوات کا معاملہ نہیں بلکہ پاکستان کی پائیدار ترقی کے لیے ایک اسٹریٹجک ضرورت ہے۔ وہ اسلام آباد کے ایک مقامی ہوٹل میں منعقدہ چوتھی آل پاکستان ویمن چیمبرز پریذیڈنٹس انٹرنیشنل کانفرنس سے بطور مہمانِ خصوصی خطاب کر رہے تھے۔


چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ یہ کانفرنس صرف کاروباری رہنماؤں کا اجتماع نہیں بلکہ جامع ترقی کے لیے ایک قومی تحریک کی نمائندہ ہے، جہاں خواتین کو پاکستان کی معاشی تبدیلی کی کلیدی معمار تسلیم کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے خواتین کاروباری شخصیات کی جرات، حوصلے اور عزم کو خراجِ تحسین پیش کیا جو سماجی اور ساختی رکاوٹوں کے باوجود دقیانوسی تصورات کو توڑتے ہوئے تجارت اور صنعت میں نئے راستے بنا رہی ہیں۔

انہوں نے گزشتہ برسوں میں ہونے والی پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ملک بھر میں 30 سے زائد ویمن چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کا قیام قوم کی تعمیر میں خواتین کے کردار کے حوالے سے سوچ میں بنیادی تبدیلی کا مظہر ہے۔ تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اب سفر کو محض اداروں کے قیام سے آگے بڑھا کر عملی نتائج کی جانب لے جانا ہوگا، جہاں یہ چیمبرز مضبوط، پیشہ ورانہ طور پر منظم اداروں کی صورت میں کاروبار، جدت اور روزگار کے فروغ میں مؤثر کردار ادا کریں۔

چیئرمین سینیٹ نے شہید محترمہ بینظیر بھٹو کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے انہیں خواتین کے بااختیار بنانے کی علمبردار قرار دیا، جن کا وژن آج بھی پاکستان کی خواتین کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ انہوں نے محترمہ بینظیر بھٹو کی تاریخی خدمات کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ خواتین اسٹڈیز سینٹرز کا قیام، فرسٹ ویمن بینک کا آغاز، سرکاری ملازمتوں میں خواتین کے لیے کوٹہ، اور لیڈی ہیلتھ ورکرز پروگرام جیسے اقدامات ان کی دوراندیش قیادت کا ثبوت ہیں۔ انہوں نے کہا کہ محترمہ بینظیر بھٹو کا پختہ یقین تھا کہ کوئی بھی قوم اس وقت تک اپنی مکمل صلاحیت حاصل نہیں کر سکتی جب تک اس کی نصف آبادی کو معاشی اور سماجی زندگی سے باہر رکھا جائے۔

انہوں نے بطور اسپیکر قومی اسمبلی، وزیرِ اعظم پاکستان اور اب چیئرمین سینیٹ اپنی عوامی خدمات کے تجربات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ خواتین کی شمولیت جمہوری اداروں کو مضبوط اور ترقی کے عمل کو تیز کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے دورِ وزارتِ عظمیٰ میں خواتین کو اہم وفاقی وزارتوں کی ذمہ داریاں سونپی گئیں، جو پاکستان پیپلز پارٹی کے جامع طرزِ حکمرانی کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔

چیئرمین سینیٹ نے ایوانِ بالا کو وفاق کی علامت قرار دیتے ہوئے کہا کہ سینیٹ آف پاکستان خواتین کے معاشی، سماجی اور قانونی مسائل کے حل میں تمام صوبوں کی سطح پر اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی قیادت میں سینیٹ قانون سازی میں اصلاحات، کاروباری طریقہ کار میں آسانی، ضابطہ جاتی رکاوٹوں میں کمی، سرکاری خریداری تک رسائی میں اضافہ اور قانونی تحفظات کو مضبوط بنانے کے لیے بھرپور تعاون جاری رکھے گا تاکہ خواتین کی کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دیا جا سکے۔
انہوں نے اس امر کا اعتراف کیا کہ بے پناہ صلاحیت کے باوجود خواتین کی رسمی معیشت میں شمولیت اب بھی توقعات سے کم ہے، جس کی وجہ سماجی اور ساختی رکاوٹیں ہیں۔ انہوں نے اس خلا کو قومی مواقع کے ضیاع سے تعبیر کرتے ہوئے کہا کہ خواتین کی قیادت میں چلنے والا ہر کاروبار معاشی ترقی، روزگار کے مواقع اور نسل در نسل بااختیاری کا ذریعہ بنتا ہے۔

چیئرمین سینیٹ نے اسلام آباد ویمن چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے قائدانہ کردار کو سراہتے ہوئے ملک بھر میں نئے قائم ہونے والے ویمن چیمبرز کی سرپرستی اور رہنمائی کے اقدام کی تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ اس نوعیت کا تعاون، رہنمائی اور بہترین تجربات کا تبادلہ خواتین کی قیادت میں معاشی ترقی کے لیے کئی گنا اثرات پیدا کرے گا۔
انہوں نے بین الاقوامی تعاون، بالخصوص آذربائیجان–پاکستان جوائنٹ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے ساتھ شراکت داری کا خیرمقدم کیا اور ویمن چیمبرز پر زور دیا کہ وہ عالمی تجارتی روابط، بین الاقوامی نمائشوں میں شرکت اور برآمدات پر مبنی مصنوعات و خدمات کی ترقی میں فعال کردار ادا کریں۔

اپنے خطاب کے اختتام پر چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے ویمن چیمبرز کی صدور اور قیادت پر زور دیا کہ وہ خود کو محض عہدے دار نہیں بلکہ ایک قومی تحریک کے قائدین سمجھیں۔ انہوں نے ادارہ جاتی نظم و نسق کو مضبوط بنانے، رسائی میں اضافہ، رہنمائی کے نیٹ ورکس قائم کرنے، شراکت داریوں کو فروغ دینے اور قابلِ پیمائش نتائج کو دستاویزی شکل دینے کی تلقین کی۔

انہوں نے کہا کہ میں ایک ایسے پاکستان کا تصور رکھتا ہوں جہاں خواتین کاروباری شخصیات معاشی ترقی کا مرکزی ستون ہوں، جہاں ویمن چیمبرز ترقی کے معتبر شراکت دار ہوں، اور جہاں ہر نوجوان لڑکی کاروبار کو ایک باوقار اور قابلِ قدر مستقبل کے طور پر دیکھے۔ چیئرمین سینیٹ نے ملک بھر کی خواتین کاروباری شخصیات کو ان کی جرات اور خدمات پر خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ مشترکہ کاوشیں ایک زیادہ جامع اور خوشحال پاکستان کی راہ ہموار کریں گی۔

     

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔