Monday, January 26, 2026
ہومبریکنگ نیوزمینیسوٹا میں وفاقی جج کا اہم حکم: آئی سی ای ایجنٹس پر پرامن مظاہرین کے خلاف طاقت کے استعمال پر پابندی

مینیسوٹا میں وفاقی جج کا اہم حکم: آئی سی ای ایجنٹس پر پرامن مظاہرین کے خلاف طاقت کے استعمال پر پابندی

مینیسوٹا (شاہ خالد خان کی رپورٹ)

امریکی ریاست مینیسوٹا کی وفاقی عدالت نے ایک اہم ابتدائی حکم نامہ جاری کرتے ہوئے امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (آئی سی ای) کے ایجنٹس کو پرامن مظاہرین کے خلاف طاقت کا استعمال، گرفتاریاں یا انتقامی کارروائیاں کرنے سے روک دیا ہے۔ یہ حکم نامہ یو ایس ڈسٹرکٹ جج کیتھرین مینینڈیز نے جاری کیا ہے، جس میں مرچ سپرے کے استعمال پر پابندی عائد کی گئی ہے اور آپریشنز کے دوران محفوظ طریقے سے گاڑیوں کی پیروی کرنے والوں کے لیے گاڑیوں کو روکنے کی حدود کا تعین کیا گیا ہے۔

یہ فیصلہ مینیاپولس میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور آئی سی ای کی جانب سے ضرورت سے زیادہ طاقت کے استعمال کی شکایات کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔ اس کی بنیاد ایک افسوسناک واقعے پر ہے، جہاں ایک آئی سی ای ایجنٹ نے ایک مظاہرین کو گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا۔ اس واقعے نے علاقے میں انسانی حقوق کی تنظیموں اور شہریوں میں شدید غم و غصہ پیدا کیا، اور متعدد احتجاجی مظاہرے شروع ہو گئے۔ مظاہرین کا دعویٰ ہے کہ آئی سی ای ایجنٹس نے غیر قانونی طور پر تارکین وطن کی گرفتاریوں کے دوران مظاہرین کو نشانہ بنایا، جس میں جسمانی تشدد، گرفتاریاں اور دھمکیاں شامل ہیں۔

جج مینینڈیز کے حکم نامے کے مطابق، آئی سی ای ایجنٹس کو پرامن مظاہرین کے خلاف کسی بھی قسم کی طاقت کا استعمال کرنے سے منع کیا گیا ہے، بشمول مرچ سپرے، جسمانی حملے یا گرفتاریاں۔ حکم نامے میں واضح کیا گیا ہے کہ مظاہرین کو آئی سی ای کی گاڑیوں کی پرامن پیروی کرنے کا حق حاصل ہے، بشرطیکہ یہ کوئی زبردستی رکاوٹ نہ ہو۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر مظاہرین محفوظ فاصلے سے آپریشنز کی نگرانی کر رہے ہوں تو انہیں روکا نہیں جا سکتا، لیکن اگر وہ راستہ روکیں یا آپریشن میں مداخلت کریں تو کارروائی کی جا سکتی ہے۔

ڈپارٹمنٹ آف ہوم لینڈ سیکیورٹی (ڈی ایچ ایس) نے اس حکم نامے پر شدید تنقید کی ہے۔ ڈی ایچ ایس کے ترجمان کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ آئی سی ای کے افسران کی حفاظت کو خطرے میں ڈال سکتا ہے اور غیر قانونی امیگریشن کے خلاف کارروائیوں کو کمزور کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ “یہ حکم نامہ مظاہرین کو غیر قانونی طور پر افسران کی نگرانی کرنے کی اجازت دیتا ہے، جو ہمارے ملازمین کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔” تاہم، جج مینینڈیز نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ یہ حکم نامہ امریکی آئین کے تحت آزادی اظہار اور پرامن احتجاج کے حقوق کی حفاظت کرتا ہے، اور یہ صرف ان مظاہرین پر لاگو ہوتا ہے جو قوانین کی خلاف ورزی نہیں کر رہے۔

یہ معاملہ مینیاپولس میں ایک وسیع تر تنازعے کا حصہ ہے، جہاں حالیہ مہینوں میں آئی سی ای کی کارروائیوں کے خلاف احتجاج میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں جیسے کہ امریکن سول لبرٹیز یونین (اے سی ایل یو) نے اس فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔ اے سی ایل یو کی ایک ترجمان نے کہا کہ “یہ حکم نامہ ایک اہم قدم ہے جو سرکاری افسران کی جانب سے ضرورت سے زیادہ طاقت کے استعمال کو روکے گا اور شہریوں کے بنیادی حقوق کی حفاظت کرے گا۔”

اس واقعے کی ابتداء ایک مہلک شوٹنگ سے ہوئی، جب ایک آئی سی ای ایجنٹ نے ایک مظاہرین کو گولی مار دی۔ اس واقعے کی تحقیقات جاری ہیں، اور مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ ایجنٹ کے خلاف فوری کارروائی کی جائے۔ مینیاپولس پولیس اور وفاقی افسران کے درمیان بھی تعاون کی سطح پر تنازعات سامنے آئے ہیں، جو اس کشیدگی کو مزید بڑھا رہے ہیں۔

یہ حکم نامہ ابتدائی نوعیت کا ہے، یعنی یہ ایک مکمل مقدمے کی سماعت تک نافذ العمل رہے گا۔ فریقین کو اپیل کرنے کا حق حاصل ہے، اور ڈی ایچ ایس نے اشارہ دیا ہے کہ وہ اس فیصلے کے خلاف اعلیٰ عدالتوں سے رجوع کرے گا۔ اس دوران، مینیاپولس میں احتجاج جاری ہیں، اور انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ دیگر ریاستوں میں بھی اسی طرح کی کارروائیوں کے لیے ایک مثال قائم کر سکتا ہے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔