امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنگ کے بعد غزہ کے انتظامات کے لیے سابق برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر کو ایک اہم کردار دیا ہے اور ایک امریکی فوجی افسر کو نئی قائم ہونے والی سکیورٹی فورس کی قیادت سونپی ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق صدر ٹرمپ نے غزہ کی نگرانی کے لیے ایک بورڈ کے ارکان کا اعلان کیا ہے جس میں اکثریت امریکیوں کی ہے۔
یہ قدم اس وقت اُٹھایا گیا ہے جب غزہ کا انتظام سنبھالنے والی فلسطینی ماہرین کی کمیٹی نے قاہرہ میں اپنا پہلا اجلاس منعقد کیا، جس میں امریکی صدر کے داماد جیرڈ کشنر بھی شریک تھے جو مشرقِ وسطیٰ کے امور میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
صدر ٹرمپ پہلے ہی خود کو ’بورڈ آف پیس‘ کا سربراہ قرار دے چکے ہیں اور جمعے کو انہوں نے اس کے تمام ارکان کا اعلان کیا، جن میں ٹونی بلیئر کے ساتھ ساتھ اہم امریکی شخصیات شامل ہیں، جیسے جیرڈ کشنر، وزیرِ خارجہ مارکو روبیو اور سٹیو وِٹکوف جو ٹرمپ کے کاروباری ساتھی اور عالمی مذاکرات کار ہیں۔
ٹونی بلیئر مشرقِ وسطیٰ میں ایک متنازع شخصیت سمجھے جاتے ہیں کیونکہ انہوں نے 2003 میں عراق پر حملے میں کردار ادا کیا تھا۔ صدر ٹرمپ نے خود گزشتہ سال کہا تھا کہ وہ یہ یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ ٹونی بلیئر سب کے لیے قابلِ قبول انتخاب ہوں۔
ٹونی بلیئر نے 2007 میں وزارتِ عظمیٰ چھوڑنے کے بعد اقوامِ متحدہ، یورپی یونین، امریکہ اور روس پر مشتمل ’مشرقِ وسطیٰ کوارٹیٹ‘ کے نمائندے کے طور پر اسرائیل اور فلسطین کے مسئلے پر کئی برس تک کام کیا۔
وائٹ ہاؤس کے مطابق ’بورڈ آف پیس‘اُن امور پر کام کرے گا جن میں حکمرانی کی صلاحیت میں اضافہ، علاقائی تعلقات، تعمیرِ نو، سرمایہ کاری کو راغب کرنا، بڑے پیمانے پر فنڈنگ اور سرمائے کی فراہمی شامل ہیں۔
بورڈ کے دیگر ارکان میں عالمی بینک کے صدر اجے بنگا، امریکی ارب پتی مالیاتی ماہر مارک روون، اور رابرٹ گیبریل شامل ہیں جو ٹرمپ کے قریبی ساتھی اور قومی سلامتی کونسل کے رکن ہیں۔
یاد رہے کہ جنگ کے بعد غزہ کا انتظام سنبھالنے والی فلسطینی ٹیکنوکریٹس کی کمیٹی نے جمعے کو مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں اپنا پہلا اجلاس منعقد کیا۔
یہ کمیٹی بدھ کو اس وقت تشکیل دی گئی تھی جب امریکہ کی ثالثی میں طے پانے والے غزہ جنگ بندی معاہدے کے دوسرے مرحلے کا آغاز ہوا۔ اس کمیٹی میں 15 ٹیکنوکریٹس شامل ہیں جنہیں فلسطینی علاقے میں روزمرہ امور چلانے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔
