ڈاکٹر مھدی طاھری(ڈی جی خانہ فرھنگ ایران راولپنڈی)
ایران کی موجودہ صورتحال کو دشمنوں کی ایک منظم، پیچیدہ سکیورٹی مہم اور ہمہ گیر میڈیا و تجزیاتی جنگ کے تناظر میں سمجھنا ضروری ہے۔ جو کچھ بظاہر ’’احتجاجات‘‘ کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے، اگرچہ اس کی بنیاد حقیقی معاشی مشکلات پر ہے، تاہم دشمن نیٹ ورکس نے بہت تیزی سے ان حالات کو نظام کی تبدیلی کے اہداف کے لیے نشانہ بنا کر منظم کیا اور انہیں مخصوص سمت میں ہانکنا شروع کر دیا۔
دسمبر ۲۰۲۵ کے اواخر سے تہران اور چند دیگر شہروں میں بے چینی اور بدامنی کا آغاز ہوا۔ ابتدا میں یہ صورتحال عوامی معاشی مسائل کے گرد مرکوز تھی، جن میں ریال کی قدر میں شدید کمی، بلند افراطِ زر اور بازار میں عدم استحکام شامل تھا۔ لیکن چند ہی دنوں بعد مسلح عناصر اور دہشت گرد گروہ—جن میں بیرونی دشمنوں سے وابستہ عناصر بھی شامل تھے—میدان میں آ گئے۔ انہوں نے سکیورٹی فورسز حتیٰ کہ عام شہریوں پر فائرنگ کر کے پرامن احتجاج کو تشدد، خوف اور ملک گیر عدمِ تحفظ میں تبدیل کرنے کی منظم کوشش کی۔
اسی دوران مغربی حکام، جیسے ڈونلڈ ٹرمپ (امریکی صدر)، نے ’’مظاہرین کی حمایت‘‘ کا اعلان کرتے ہوئے انٹرنیٹ کی بحالی کے لیے بات چیت کی خواہش ظاہر کی (مثلاً اسٹارلنک کے ذریعے)، جبکہ کینیڈا جیسے ممالک نے سخت مذمتی بیانات جاری کر کے ایران کی حاکمیت کے خلاف واضح مؤقف اختیار کیا۔ دوسری جانب ایران کی حکومت نے بدامنی کی مزید تنظیم سازی کو روکنے اور خبروں کے پھیلاؤ پر قابو پانے کے لیے ملک بھر میں انٹرنیٹ سروس عارضی طور پر معطل کر دی ہے۔
پسِ پردہ: ایران میں عدمِ تحفظ پیدا کرنے کے لیے دشمنوں کا منصوبہ
ایران کے دشمن، بالخصوص صہیونی حکومت اور امریکہ، ان بدامنیوں کو ایران کو کمزور کرنے کے لیے ایک سنہری موقع کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔ ان کا منصوبہ چند بنیادی نکات میں یوں سمیٹا جا سکتا ہے:
۱.دشمن کی میڈیا اور تجزیاتی استحصال
صہیونی حکومت کے سکیورٹی تھنک ٹینک، جیسے (INSS)، نے ایران میں ’’احتجاجات کی حقیقی وقت میں نگرانی‘‘ کے لیے خصوصی صفحات قائم کیے ہیں اور حکومت ایران کو کمزور کرنے کے مختلف منظرنامے تجزیہ کر رہے ہیں۔ عبرانی زبان کے میڈیا ادارے، جیسے اسرائیل ہیوم، عوامی نارضایتی پر زور دیتے ہوئے اس صورتحال کو ایران کو کمزور کرنے کا ایک موقع قرار دے رہے ہیں۔ صہیونی تجزیہ کار یہ اعتراف کرتے ہیں کہ امریکہ اور اسرائیل ان حالات کا استعمال اپنے سیاسی اور جغرافیائی مفادات کو آگے بڑھانے کے لیے کر رہے ہیں۔
۲. ایران کی حکومت کو غیر قانونی ظاہر کرنے اور نظام کی تبدیلی کی کوشش
رہبر اسلامی جمہوریہ ایران نے بارہا زور دیا ہے کہ دشمنان، خاص طور پر امریکہ اور اسرائیل، ایران کے خلاف سازشیں کر رہے ہیں، لیکن یہ تمام منصوبے عوام کی بصیرت اور ہوشیاری کے ذریعے ناکام بنا دیے جائیں گے۔
ان سازشوں کا آخری مقصد عوام اور حکومت کے درمیان خلیج پیدا کرنا اور بالآخر نظام میں تبدیلی لانا ہے۔ دشمن ایران کے عوام کو “قابل تسلیم” بنانے کی کوشش کر رہا ہے، لیکن ایک ہزاروں سالہ تہذیب رکھنے والی قوم کبھی زبردستی کے تحت نہیں جھکے گی۔
۳. بدامنی کے لیے عملی اور لاجسٹک مدد
اسلامی جمہوریہ ایران کی فوج کے حالیہ بیان میں کھلے الفاظ میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل اور دہشت گرد گروہوں کی طرف سے عوامی تحفظ اور سکیورٹی میں خلل ڈالنے کی سازش کی جا رہی ہے، اور فوج اس بات کی وارننگ دے رہی ہے کہ وہ اہم اسٹریٹجک ڈھانچوں کے تحفظ کے لیے عملی اقدامات کرے گی۔
ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان میں ایرانی عوام کو اسٹارلنک کے ذریعے انٹرنیٹ فراہم کرنے کی بات، داخلی کنٹرولز کو توڑنے اور بدامنی کے عمل کو منظم کرنے میں عملی حمایت کی واضح نشانی ہے.
۴. دشمنوں کا غیر معمولی اتحاد
اس مرحلے پر ہم امریکہ، صہیونی حکومت اور بعض مخالف گروہوں کے غیر متوقع اتحاد کے مشاہدے کر رہے ہیں، جو ایران پر دباؤ بڑھانے کے لیے سامنے آئی ہے۔ یہ ہم آہنگی تیز بین الاقوامی مذمت اور کھلے خطرات میں واضح طور پر نظر آ رہی ہے۔
۵. ایران کی قوم کا اتحاد
ایرانی قوم اپنے اتحاد کو برقرار رکھ کر دشمن کے منصوبوں کے سامنے سب سے بڑی رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔ فوج اور دیگر مسلح افواج، جیسے سپاہ، آئین کے مطابق ملکی سالمیت اور اسلامی جمہوریہ کے نظام کے تحفظ کی ذمہ داری رکھتے ہیں اور اس صورتحال میں ملک کے تحفظ کے لیے مکمل تیاری کا اعلان کر چکے ہیں۔ تاریخ نے ثابت کیا ہے کہ حساس مواقع پر ایرانی قوم اپنی بصیرت اور ثابت قدمی کے ذریعے دشمن کے منصوبوں کو ناکام بنا دیتی ہے۔
ایران کی موجودہ صورتحال ایک مرکب جنگ (Hybrid War) ہے، جس میں دشمن داخلی مشکلات (معاشی) کا فائدہ اٹھاتے ہوئے، بدامنی منظم کر کے اور وسیع میڈیا کور کے ذریعے، قومی حاکمیت اور ایران کی سکیورٹی کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ صہیونی حکومت، ایک مسلمان امت کے سب سے بڑے دشمن کے طور پر، اس سازش کی صفِ اوّل میں موجود ہے۔
لیکن جیسا کہ حضرت آیت اللہ خامنہ ای نے زور دیا ہے، ’’اسلامی جمہوریہ ایران اس مرحلے سے بھی عبور کر لے گا‘‘ اور عوام اور مسلح افواج کی ہوشیاری سے دشمن کے منصوبے ناکام ہو جائیں گے۔ ایران اور پاکستان کی عوام کے درمیان تعلقات، خاص طور پر اسلامی امت کے دائرے میں، ان مشترکہ سازشوں کے خلاف مؤثر کردار ادا کر سکتے ہیں۔
ایران کی بدامنی میں صہیونی رژیم کا کردار
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
