جدہ (خالد نواز چیمہ)
ضلع وزیرآباد کے حلقہ این اے 66 سے بلامقابلہ منتخب ہونے والے نوجوان، متحرک اور عوام دوست رہنما چوہدری بلال فاروق تارڑ نے عمرہ کی سعادت حاصل کرنے کے بعد پاکستان روانہ ۔ حرمین شریفین میں حاضری کے دوران انہوں نے پاکستان کی سالمیت، استحکام اور سلامتی کے لیے خصوصی دعائیں کیں جبکہ افواجِ پاکستان کے عظیم شہداء کے درجات کی بلندی اور وطنِ عزیز کے تحفظ کے لیے بھی ربِ کعبہ کے حضور ہاتھ اٹھائے۔
چوہدری بلال فاروق تارڑ، رکن قومی اسمبلی اور وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ کے بھائی ہیں، تاہم انہوں نے اپنی سیاسی پہچان خاندانی نسبت سے نہیں بلکہ عوامی خدمت، مسلسل رابطے اور خلوص سے قائم کی۔ وہ دن رات اپنے حلقے کے عوام میں موجود رہتے ہیں، ان کے مسائل سنتے ہیں اور عملی اقدامات کے ذریعے حل کے لیے کوشاں رہتے ہیں، جس کے باعث وہ این اے 66 میں ایک مقبول اور قابلِ اعتماد عوامی لیڈر بن کر ابھرے ہیں۔
یہ مقبولیت صرف پاکستان تک محدود نہیں بلکہ سعودی عرب سمیت دنیا بھر میں مقیم اوورسیز پاکستانی بھی چوہدری بلال فاروق تارڑ کو ایک مخلص، دیانت دار اور عوام دوست رہنما کے طور پر دیکھتے ہیں۔ اوورسیز پاکستانی ان کی سادگی، وطن سے محبت اور قومی مسائل پر واضح مؤقف کو سراہتے ہیں اور انہیں نوجوان قیادت کی امید قرار دیتے ہیں۔
واضح رہے کہ اسی حلقے کے سابقہ رکن قومی اسمبلی محمد احمد چھٹہ کی نااہلی کے بعد ضمنی انتخابات کا مرحلہ آیا تو وزیر اعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف نے روایتی سیاست سے ہٹ کر قومی اسمبلی کا ٹکٹ سابقہ رکن اسمبلی چوہدری نثار احمد چیمہ کے بجائے نوجوان قیادت کو دینے کا جرات مندانہ فیصلہ کیا۔ وقت نے ثابت کیا کہ یہ فیصلہ بالکل درست تھا۔
حلقہ این اے 66 کے باشعور عوام نے چوہدری بلال فاروق تارڑ کو بلامقابلہ منتخب کر کے نہ صرف وزیر اعظم کے فیصلے پر مہرِ تصدیق ثبت کی بلکہ یہ بھی ثابت کر دیا کہ وہی اس حلقے کی حقیقی اور مؤثر نمائندگی کے اہل ہیں۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ بلال فاروق تارڑ کی سیاست کا محور اقتدار نہیں بلکہ خدمت، دیانت اور عوامی فلاح ہے، جو انہیں موجودہ سیاسی منظرنامے میں ممتاز مقام عطا کرتی ہے۔
سیاسی و سماجی مبصرین کے مطابق چوہدری بلال فاروق تارڑ کی کامیابی اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ پاکستان کا مستقبل نوجوان، باکردار اور عوام سے جڑی قیادت کے ہاتھوں میں محفوظ ہے۔
