تحریر: (راحیل حسن )
یورپ حالیہ کچھ عرصے سے ایک بڑے سیاسی تغیر (Political Shift) سے گزر رہا ہے۔ دائیں بازو (Right-wing) کی سیاست کا عروج، امیگریشن پر سخت پالیسیاں، یوکرین جنگ کے اثرات، اور یورپی یونین کے اندر بڑھتی ہوئی سیاسی بے چینی—یہ سب عوامل نہ صرف یورپ بلکہ دنیا کے دیگر ممالک، خصوصاً پاکستان، پر گہرے اثرات مرتب کر رہے ہیں۔ پاکستانی عوام اور پالیسی ساز حلقوں میں عموماً یورپی سیاست کو ایک دور کی چیز سمجھا جاتا رہا ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ یورپ میں ہونے والے فیصلے پاکستان کی معیشت، امیگریشن، خارجہ پالیسی اور سمندر پار پاکستانیوں کی زندگیوں پر براہِ راست اثر ڈالتے ہیں۔گزشتہ چند برسوں میں یورپ کے اہم ترین ملکوں اٹلی، جرمنی، فرانس اور نیدرلینڈ میں دائیں بازو (Right-wing) کی جماعتوں نے امیگریشن مخالف بیانیہ، قومی شناخت، اور اسلام سے متعلق سخت مؤقف جیسے موضوعات کو سیاست کا مرکزی نکتہ بنا کر غیر معمولی مقبولیت پائی۔ یہ محض اتفاق نہیں بلکہ یورپی معاشروں میں پیدا ہونے والی کئی سیاسی، معاشی اور سماجی تبدیلیوں کا نتیجہ ہے۔
اٹلی میں وزیرِ اعظم جورجیا میلونی کی جماعت برادرز آف اٹلی (Fratelli d’Italia) دائیں بازو کی سیاست کی سب سے واضح مثال ہے۔ اس جماعت نے غیر قانونی امیگریشن کے خلاف سخت مؤقف اپناتے ہوئے اطالوی شناخت اور روایتی اقدار کا نعرہ لگایا اور یورپی یونین کی پالیسیز پر تنقید کو اپنی سیاست کا مرکز بنایا۔ بحیرۂ روم کے راستے افریقہ اور ایشیا سے آنے والے تارکینِ وطن کے مسئلے نے اٹلی میں عوامی بے چینی کو جنم دیا، جسے دائیں بازو کی جماعتوں نے کامیابی سے سیاسی حمایت میں تبدیل کیا۔ اسی طرح فرانس میں بھی شناخت، سکیورٹی اور اسلام پر بحث میں تیزی آئی ہے۔ مارین لی پین کی جماعت نیشنل ریلی (National Rally) کئی برسوں سے مضبوط ہوتی جا رہی ہے۔ یہاں دہشت گردی کے واقعات، مہاجرین کی بڑھتی تعداد، سیکولرازم اور مذہبی علامات خصوصاً حجاب پر تنازعات نے دائیں بازو کے بیانیے کو تقویت دی۔ ادھر اسکینڈینیویئن ملک نیدرلینڈز میں حالیہ برسوں میں گیرٹ وائلڈرز کی جماعت “پارٹی فار فریڈم” (PVV) نے غیر معمولی کامیابیاں حاصل کیں۔ اس جماعت کی مقبولیت کی بڑی وجوہات میں بھی اسلام اور امیگریشن کے خلاف سخت بیانات کے علاوہ مہنگائی اور ہاؤسنگ بحران جیسے مسائل شامل ہیں۔ یورپ کا اہم ترین ملک جرمنی اگرچہ تاریخی طور پر انتہا پسند سیاست سے محتاط رہا ہے، مگر حالیہ معاشی دباؤ نے دائیں بازو کے لیے جگہ پیدا کی اور یہاں بھی پناہ گزین بحران، یوکرین جنگ کے بعد مہنگائی اور توانائی بحران کو بنیاد بنا کر آلٹرنیٹو فار جرمنی (AfD) نے خاصی عوامی حمایت حاصل کی۔ یورپ کی کئی دائیں بازو کی جماعتوں نے قومی شناخت، حجاب ، مساجد اور اسلام مخالفت، عالمی تنازعات، سکیورٹی خدشات اور معاشی عدم تحفظ جیسے موضوعات کو سادہ مگر جارحانہ بیانیے میں پیش کیا، جو عام ووٹر کے لیے قابلِ فہم بھی تھا اور پرکشش بھی۔
یہی وہ سیاسی بیانیہ ہے جو اب صرف داخلی سیاست تک محدود نہیں رہا بلکہ اس کا دباؤ یورپی اداروں، بالخصوص یورپی پارلیمنٹ، پر بھی منتقل ہوتا ہے۔ نتیجتاً یورپی یونین کی خارجہ پالیسی میں انسانی حقوق اور اقلیتوں کے معاملات کو زیادہ جارحانہ انداز میں اجاگر کیا جانے لگتا ہے، خاص طور پر ان ممالک کے خلاف جو یورپ کے ساتھ تجارتی یا سفارتی تعلقات رکھتے ہیں اور پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جس کو جی ایس پی پلس اسٹیٹس کے تناظر میں یورپی منڈیوں تک ڈیوٹی فری رسائی حاصل ہے۔ یہ محض ایک تجارتی رعایت نہیں بلکہ ایک مشروط معاہدہ ہے، جس کے تحت پاکستان کو انسانی حقوق، آزادیٔ اظہار، مذہبی و نسلی اقلیتوں کے حقوق اور گڈ گورننس سے متعلق بین الاقوامی کنونشنز پر عمل درآمد کا پابند ہونا پڑتا ہے۔ گزشتہ چند برسوں کے دوران یورپی پارلیمنٹ میں پاکستان کے GSP+ اسٹیٹس کے حوالے سے متعدد بار تشویش کا اظہار کیا گیا۔ توہینِ مذہب کے قوانین، صحافیوں اور سول سوسائٹی پر دباؤ، اقلیتوں کے حقوق اور آزادیٔ اظہار پر پابندیوں کے الزامات کو بنیاد بنا کر بعض یورپی اراکینِ پارلیمنٹ نے یہ مؤقف اختیار کیا کہ پاکستان GSP+ کی شرائط پر مکمل عمل درآمد نہیں کر رہا جسکے باعث اسے مسلسل اور سخت نگرانی کے دائرے میں رکھا گیا ہے۔ پاکستان کو ہر چند برس بعد یہ ثابت کرنا پڑتا ہے کہ وہ یورپی شرائط پر پورا اتر رہا ہے، ورنہ GSP+ اسٹیٹس معطل ہونے کا خطرہ موجود رہتا ہے۔
یورپ کی بدلتی سیاست کا دوسرا بڑا اثر امیگریشن پالیسیز کی صورت میں سامنے آ رہا ہے۔ اٹلی، جرمنی اور دیگر ممالک میں ایشیائی اور افریقی افراد کے خلاف بڑھتی عوامی نفرت، غیر قانونی تارکینِ وطن کے خلاف سخت کارروائیاں ورک ویزا کے قوانین میں تبدیلی اسٹوڈنٹ ویزا کے بعد رہائش کے مواقع محدود ہوتے جا رہے ہیں۔ اگر یورپ میں امیگریشن مزید محدود ہوتی ہے تو پاکستانی نوجوانوں کے لیے قانونی راستے کم ہوں گے غیر قانونی امیگریشن میں اضافے کا خدشہ بڑھے گا اور یورپ سے پاکستان جانے والی ترسیلاتِ زر متاثر ہو سکتی ہیں، یہ ایک معاشی مسئلہ بھی ہے اور سماجی چیلنج بھی۔
ماضی میں یورپ کو اکثر امریکہ کے سٹریٹیجک سائے میں دیکھا جاتا تھا، خصوصاً سیکیورٹی اور خارجہ پالیسی کے معاملات میں۔ تاہم یوکرین جنگ، ٹرمپ کی نیٹو اتحاد یورپ سے تعلقات کی خرابی، چین کے بڑھتے اثر و رسوخ، اور مشرقِ وسطیٰ میں بدلتی امریکی ترجیحات کے بعد یورپی یونین اب خود کو نسبتاً ایک خودمختار عالمی طاقت کے طور پر منوانے کی کوشش کر رہی ہے۔ یہ تبدیلی پاکستان کے لیے ایک چیلنج ضرور ہے، مگر اس سے کہیں بڑھ کر ایک سفارتی موقع بھی ہے، بشرطیکہ پاکستان اپنی خارجہ پالیسی میں یورپ کو امریکہ کے ذیلی باب کے طور پر دیکھنے کے بجائے ایک علیحدہ اسٹریٹجک شراکت دار کے طور پر لے۔ پاکستان کے پاس موقع ہے کہ وہ یورپی یونین کو ایک خودمختار سیاسی بلاک کے طور پر انگیج کرے، صرف برسلز ہی نہیں بلکہ اہم یورپی دارالحکومتوں کے ساتھ بھی براہِ راست سفارتی مکالمہ کو ایک نئی جہت دے، اس سے پاکستان انسانی حقوق اور تجارتی امور پر صرف (Reactive) ردِعمل کی پوزیشن میں رہنے کی بجائے(Proactive) طور پر اپنا مؤقف زیادہ مؤثر انداز میں پیش کر سکتا ہے۔ ساتھ ہی پاکستان یورپ کو انسدادِ دہشت گردی، سرحدی سیکیورٹی، غیر قانونی امیگریشن جیسے معاملات پر اپنے تجربے سے فائدہ پہنچا سکتا ہے۔ اگر پاکستان خود کو صرف “مسئلہ” نہیں بلکہ سیکیورٹی پارٹنر کے طور پر پیش کرے تو یورپ کے ساتھ انٹیلی جنس تعاون، تربیتی پروگرامز اور سیکیورٹی ڈائیلاگ کے نئے دروازے کھل سکتے ہیں۔ اس وقت پاکستان-یورپ تعلقات کا مرکز محض GSP+ کے تحت تجارت ہے، جو ایک غیر متوازن تعلق پیدا کرتے ہیں، کیونکہ دباؤ کا آلہ ہمیشہ یورپ کے پاس ہوتا ہے۔ پاکستان کیلئے ضروری یہ ہے کہ
تعلیم، تحقیق، گرین انرجی، ٹیکنالوجی اور سیکیورٹی
جیسے شعبوں کو بھی تعلقات کا حصہ بنایا جائے تاکہ پاکستان محض “ٹیکسٹائل ایکسپورٹر” نہ رہے بلکہ یورپ کا ایک کثیرالجہتی شراکت دار بنے۔
یورپ اب پاکستان کے لیے “دور کا معاملہ” نہیں رہا، یورپ کی بدلتی عالمی پوزیشن اور داخلی و خارجی پالیسیز نے پاکستان کے لیے ایک نیا دور کھول دیا ہے۔ حالیہ برسوں میں انڈیا کے ساتھ بڑھتی کشیدگی کے بعد پاکستان نے عالمی سطح پر اپنی اہمیت اور توجہ حاصل کی ہے، اور یہ موقع اسے اپنے مفادات کو مؤثر انداز میں پیش کرنے کا ایک نادر موقع فراہم کرتا ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ پاکستان محض ردِعمل دینے والا ملک نہ رہے، بلکہ اپنے سفارتی، تجارتی اور سیکیورٹی اقدامات میں پیش قدمی کرے، اور اپنے کردار کو ایک معتبر اور فعال عالمی کھلاڑی کے طور پر منوائے۔ اس نئے منظرنامے میں کامیابی کے لیے پاکستان کو داخلی نظم و نسق، قانونی اصلاحات اور بین الاقوامی تعلقات کو ہم آہنگ کرنا ہوگا، تاکہ یورپی شراکت داری نہ صرف اقتصادی فوائد بلکہ علمی، ثقافتی اور سیکیورٹی اعتبار سے بھی مضبوط بنیاد فراہم کرے۔
