Friday, January 16, 2026
ہومپاکستانجماعت اسلامی پنجاب کے زیر اہتمام پنجاب کے بلدیاتی قانون کے خلاف چار روزہ ریفرنڈم کا آغاز

جماعت اسلامی پنجاب کے زیر اہتمام پنجاب کے بلدیاتی قانون کے خلاف چار روزہ ریفرنڈم کا آغاز

اسلام آباد (سب نیوز )پنجاب حکو مت کی جانب سے بلدیاتی کالے قانون کے خلاف صوبے کے تمام اضلاع میں چار روزہ عوامی ریفر نڈم کا آغاز ہو گیا ہے جس میں امختلف مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے شہریوں اور بڑی تعداد میں عوام الناس نے شر کت کی، جماعت اسلامی کے کارکنان پنجاب کے تمام اضلاع اور یونین کونسل کی سطح پر ریفرنڈم بوتھ، کیمپ اور کارکنان بیلٹ بکس لے کر بھی دوکانوں، مارکیٹوں، بس اڈوں، ریلوے اسٹیشنز، مساجد، چوراہوں پر عوام بلد یاتی قانون کے حوالے بیلٹ پیپر پر رائے لے رہے ہیں۔

،جماعت اسلامی کی جانب سے منعقد کیے جا نے والے ریفر نڈم میں تمام اضلاع میں زبر دست جوش خروش پایا جا رہا ہے نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان لیاقت بلوچ اور امیر جماعت اسلای پنجاب ڈاکٹر طارق سلیم نے کچہری چوک گجرات میں جبکہ سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پنجاب اقبال خان نے اٹک میں ریفر نڈم کے کیمپ کا افتتاح کیا اور مختلف شہروں اور اضلاع کا دورہ بھی کیا۔ اس موقع پر گفتگو کر تے ہو ئے لیاقت بلوچ نے کہا پنجاب کا بلدیاتی قانون غیر جمہوری اور آئین سے متصادم ہے،پہلے سینٹ اور قومی اسمبلی میں انسانوں کی منڈی لگتی تھی اب غیر جماعتی بلدیاتی انتخابات کے ذریعے حکمران خاندان یہ منڈی نچلی سطح تک لے کر جانا چاہتے ہیں۔

،موجودہ حکومت نے بلدیاتی اداروں کو بیورو کریسی کے تابع بنا کر عوامی فیصلہ سازی کا حق چھین لیا ہے، جماعت اسلامی اس قانون کے خلاف بھرپور مزاحمت جاری رکھے گی اورحکومت کو اسے واپس لینے پرمجبورکردیں گے، اس قانون کے ذریعے انتظامی، مالیاتی اور فیصلہ کن اختیارات منتخب نمائندوں سے چھین کر افسر شاہی کو دے دیے گئے ہیں، جسکی آئین میں کوئی گنجائش موجود نہیں۔ ڈاکٹر طارق سلیم اور اقبال خان نے کہا عوامی ریفرنڈم میں عوام سے رائے لی جائے گی کہ کیا وہ اِن مطالباب کے حق یا مخالفت میں ہیں کہ بلدیاتی انتخابات جماعتی بنیاد پر ہوں؛ یوسی چیئرمین، وائس چیئرمین براہِ راست ووٹ کے ذریعے منتخب ہوں، بااختیار بلدیاتی نظام میں مکمل مالی، سیاسی، انتظامی اختیارات دیئے جائیں، بااختیار بلدیاتی نظام میں ضلعی نوکر شاہی منتخب نمائندوں کے سامنے جوابدہ ہوں، انھوں نے کہا ریفرنڈم میں صوبہ کے کروڑوں لوگوں سے پنجاب کے بلدیاتی قانون پر رائے لی جائے گی،

پنجاب کا نیا بلدیاتی نظام عوام کے جمہوری اور آئینی حقوق پر براہِ راست حملہ ہے، عوامی مسائل کا حل اس وقت تک ممکن نہیں جب تک بلدیاتی اداروں کو مکمل مالی، انتظامی اور سیاسی خودمختاری نہیں دی جاتی، ہمارا مطالبہ ہے کہ بلدیاتی ایکٹ میں فوری ترمیم کی جائے، میئر اور چیئرمینوں کے براہِ راست انتخابات کو بحال رکھا جائے اور ترقیاتی فنڈز کے استعمال کا مکمل اختیار عوام کے منتخب نمائندوں کے پاس ہو، انھوں نے کہا بلدیاتی اداروں کو آئینی تحفظ دے کر صوبہ بھر میں بااختیار، شفاف اور فعال مقامی حکومتوں کا قیام یقینی بنایا جائے تاکہ عوام کو ریلیف ملے اور اختیارات حقیقی معنوں میں عوام تک پہنچ سکیں۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔