تہرن (آئی پی ایس )غیر ملکی خبررساں ادارے رائٹرز کے مطابق ایران کے ایک عہدیدا ر نے دعوی کیاہے کہ ایران میں حالیہ احتجاجی مظاہروں کے دوران سیکیورٹی اہلکاروں سمیت تقریبا 2 ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ایرانی عہدیدارکے مطابق ہلاک ہونے والوں میں مظاہرین اور سیکیورٹی اہلکار دونوں شامل ہیں، تاہم انہوں نے ہلاکتوں کی تفصیلی تقسیم فراہم نہیں کی۔ عہدیدار نے دعوی کیا کہ جن عناصر کو انہوں نے “دہشت گرد” قرار دیا، وہی مظاہرین اور سیکیورٹی فورسز کی ہلاکتوں کے ذمہ دار ہیں۔ایران کی جانب سے سرکاری سطح پر اب تک ہونے والی ہلاکتوں سے متعلق کوئی اعدادو شمار جاری نہیں کیئے گئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق ایران میں یہ احتجاج خراب معاشی حالات کے باعث شروع ہوئے، یہ صورتحال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب گزشتہ سال اسرائیلی اور امریکی حملوں کے بعد ایران پر بین الاقوامی دبا میں بھی اضافہ ہو چکا ہے۔دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کی شب اعلان کیا کہ ایران کے ساتھ کاروبار کرنے والے کسی بھی ملک سے درآمد کی جانے والی مصنوعات پر 25 فیصد ٹیرف عائد کیا جائے گا۔ امریکی صدر کا کہنا ہے کہ ایران کے خلاف مزید فوجی کارروائی بھی زیر غور ہے، اور رواں ماہ کے آغاز میں انہوں نے کہا تھا کہ “ہم مکمل طور پر تیار ہیں”۔
