Tuesday, January 13, 2026
ہومکالم وبلاگزکالمزپینشن: ایک قومی ذمہ داری، ایک ممکن حقیقت

پینشن: ایک قومی ذمہ داری، ایک ممکن حقیقت


تحریر: چوہدری شفقت محمود دھول
صدر، پاکستان انویسٹر فورم
جدہ، مملکتِ سعودی عرب


اوورسیز پاکستانی برسوں نہیں بلکہ دہائیوں تک پردیس میں محنت کرتے ہیں۔ ان کی جوانی، صحت اور صلاحیتیں غیر ملکی معیشتوں کی نذر ہو جاتی ہیں، جبکہ وطنِ عزیز پاکستان کو ہر سال اربوں ڈالر کی صورت میں ترسیلاتِ زر حاصل ہوتی ہیں۔ مگر افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ جب یہی پاکستانی عمر کے اس حصے میں داخل ہوتے ہیں جہاں آرام، تحفظ اور وقار کی سب سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے تو ریاستی سطح پر ان کے لیے کوئی باضابطہ پینشن نظام موجود نہیں ہوتا۔


یہ مسئلہ محض فلاحی نہیں بلکہ خالصتاً قومی پالیسی کا ہے۔ اوورسیز پاکستانی ریاست کے خیر خواہ، معیشت کے مضبوط ستون اور دنیا بھر میں پاکستان کے سفیر ہیں۔ سوال یہ نہیں کہ کیا انہیں پینشن دی جا سکتی ہے، اصل سوال یہ ہے کہ کیا ریاست اپنی اس ذمہ داری کو تسلیم کرنے کے لیے تیار ہے؟


اکثر یہ دلیل دی جاتی ہے کہ پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک کے لیے اوورسیز پینشن کا نظام ممکن نہیں، مگر یہ دلیل زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتی۔ دنیا میں ایسی واضح مثال موجود ہے جو ثابت کرتی ہے کہ اگر نیت ہو تو نظام بنایا جا سکتا ہے — اور وہ مثال ہے فلپائن۔


فلپائن کے شہری جب روزگار کے لیے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، یورپ یا امریکہ جاتے ہیں تو وہ اپنے وطن کے سوشل سیکیورٹی سسٹم سے الگ نہیں ہو جاتے۔ بیرونِ ملک کام کرنے والے فلپائنی شہری (OFWs) اپنے ملک کے Social Security System میں رضاکارانہ مگر باقاعدہ کنٹری بیوشن دیتے رہتے ہیں۔ ریاست انہیں مجبور نہیں کرتی بلکہ ایک محفوظ، شفاف اور مکمل طور پر ڈیجیٹل نظام فراہم کرتی ہے۔ نتیجتاً جب وہ ریٹائرمنٹ کی عمر کو پہنچتے ہیں تو انہیں فلپائن کی حکومت کی جانب سے ماہانہ پینشن ملتی ہے — خواہ وہ وطن واپس آئیں یا بیرونِ ملک ہی مقیم رہیں۔


فلپائن کا یہ ماڈل اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ وہاں پینشن خیرات نہیں بلکہ کنٹری بیوٹری حق ہے۔ شہری اپنی آمدن کے مطابق حصہ ڈالتا ہے، ریاست اس رقم کی حفاظت اور سرمایہ کاری کی ذمہ دار ہوتی ہے، اور بڑھاپے میں شہری کو تنہا نہیں چھوڑا جاتا۔ یہی وجہ ہے کہ فلپائن کو نہ صرف مستقل ریمیٹنس حاصل ہوتی ہیں بلکہ اوورسیز شہریوں کا ریاست پر اعتماد بھی قائم رہتا ہے۔
اس کے برعکس پاکستان میں اگر کوئی اوورسیز پاکستانی تیس یا چالیس سال بیرونِ ملک محنت کرے تو وطن واپسی پر اس کے لیے کوئی ریاستی پینشن موجود نہیں ہوتی۔ ساری زندگی کی جمع پونجی چند برسوں میں ختم ہو جاتی ہے اور پھر وہی فرد معاشی اور سماجی عدم تحفظ کا شکار ہو جاتا ہے۔


فلپائن کا ماڈل پاکستان کے لیے مکمل طور پر قابلِ تقلید ہے۔ یہاں بھی ایک کنٹری بیوٹری اوورسیز پینشن اسکیم متعارف کروائی جا سکتی ہے، جس میں اوورسیز پاکستانی اپنی مرضی اور استطاعت کے مطابق ماہانہ کنٹری بیوشن دیں، جبکہ حکومتِ پاکستان ریگولیٹری سرپرستی، شفاف سرمایہ کاری اور انتظامی سہولت فراہم کرے۔ نادرا، اوورسیز پاکستانی فاؤنڈیشن اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے ذریعے ایک ڈیجیٹل، پورٹیبل اور قابلِ اعتماد نظام قائم کرنا کوئی ناممکن کام نہیں۔


یہ بات واضح ہونی چاہیے کہ اوورسیز پاکستانیوں کے لیے پینشن دینا احسان نہیں بلکہ دور اندیش قومی پالیسی ہے۔ جب ایک شہری کو یہ یقین ہوگا کہ اس کا ملک اس کے بڑھاپے کا بھی ذمہ دار ہے تو وہ زیادہ اعتماد کے ساتھ سرمایہ کاری کرے گا، زیادہ دلجمعی سے ترسیلاتِ زر بھیجے گا اور وطن سے اس کا رشتہ مزید مضبوط ہوگا۔


اب وقت آ گیا ہے کہ اوورسیز پاکستانیوں کے مستقبل کو محفوظ بنانے کی طرف عملی قدم اٹھایا جائے۔ فلپائن یہ کر کے دکھا چکا ہے۔
سوال صرف یہ ہے: پاکستان کب کرے گا؟

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔