ثاقب خان کھٹڑ
پاکستان کی معیشت ایک نازک مگر حساس مرحلے سے گزر رہی ہے۔ بعض اشارے امید کی نوید دیتے ہیں جبکہ دیگر حوالوں میں مشکلات برقرار ہیں۔ عام شہری کی زندگی پر اس کا اثر براہِ راست محسوس ہوتا ہے، چاہے وہ مہنگائی ہو، روزگار کے مسائل ہوں یا قرضوں کا بوجھ۔
پاکستان کی معاشی شرح نمو 2025 میں تقریباً دو اعشاریہ چھ فیصد رہنے کی توقع ہے اور اگلے مالی سال میں یہ تین اعشاریہ چھ فیصد تک بڑھنے کی پیشگوئی ہے۔ یہ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ معیشت سست مگر مثبت سمت میں بڑھ رہی ہے، مگر رفتار توقعات سے کم ہے، جس کا مطلب ہے کہ بڑھتی ہوئی آبادی کے مقابلے میں نمو کا فائدہ محدود ہے۔
مہنگائی کی شرح میں گزشتہ سال بلند ترین سطح کے بعد کمی آئی ہے، لیکن اب بھی یہ چھ سے آٹھ فیصد تک رہنے کا امکان ہے۔ قیمتوں کے دباؤ کا اثر بنیادی اشیائے خوردونوش اور توانائی پر محسوس کیا جا رہا ہے۔ یوں مہنگائی میں کمی کے باوجود عوام کی زندگی میں مشکلات باقی ہیں۔
روزگار بھی ایک کلیدی مسئلہ ہے۔ بے روزگاری کی شرح تقریباً سات اعشاریہ پانچ فیصد تک کم ہونے کی توقع ہے، مگر حقیقی دنیا میں بے روزگار نوجوان، کم تنخواہیں اور غیر رسمی شعبے کی بڑھتی ہوئی تعداد ایک بڑا چیلنج بنی ہوئی ہے۔
پاکستان کی معیشت طویل عرصے سے بیرونی قرضوں پر انحصار کرتی رہی ہے۔ عوامی قرضہ مجموعی ملکی پیداوار کا ایک بڑا حصہ بن چکا ہے، جس نے مالیاتی لچک کو کم کیا اور بیرونی قرضوں کی خدمت کرنے کی صلاحیت پر دباؤ بڑھایا ہے۔ مالیاتی اصلاحات، ٹیکس بیس کی توسیع اور قرضوں کا نظم و نسق ناگزیر ہو چکا ہے۔ معاشی استحکام اس بات پر منحصر ہے کہ حکومت اخراجات کو کنٹرول کرے، ٹیکس وصولیوں کو بہتر بنائے اور غیر ضروری سبسڈیز کم کرے۔
بیرونی خسارہ کچھ حد تک کم ہوا ہے، مگر کمزور برآمدات اور درآمدات کا دباؤ برقرار ہے۔ یہ صورتحال غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر اور روپے کی قدر پر براہِ راست اثر ڈالتی ہے، جو عوام کی زندگی میں قیمتوں اور ادائیگیوں کے دباؤ کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔
پاکستان کی معیشت کے مثبت پہلو بھی موجود ہیں۔ افراط زر میں کمی اور کچھ حد تک استحکام، نمو کا آہستہ مگر منظم اضافہ، اور ٹیکس وصولیوں میں بہتری، یہ سب کچھ امید کی کرنٹ دکھاتے ہیں۔ تاہم، بے روزگاری، عوامی قرضوں اور مالیاتی خسارے کو کم کرنا، صنعتی شعبے میں کمزور سرمایہ کاری اور معاشی متنوعی کی کمی بڑے چیلنجز ہیں۔
پاکستان کی معیشت کا حال ایک عارضی استحکام کی طرف بڑھتی ہوئی معیشت کی عکاسی کرتا ہے، مگر مکمل بحالی کی سطح ابھی حاصل نہیں ہوئی۔ اس صورتحال کا تعلق صرف مالیاتی اعداد و شمار سے نہیں بلکہ سیاسی استحکام، پالیسی کی تسلسل، شفافیت اور معاشی ڈھانچے کی مضبوطی سے بھی ہے۔
حکومت، پالیسی ساز اور عوام کو بجٹ خسارہ کم کرنے، تعلیم، ہنر اور سرمایہ کاری پر توجہ دینے، برآمدات کو فروغ دینے اور قرضوں کا دانشمندانہ انتظام کرنے پر توجہ دینی ہوگی۔ پاکستان کی معیشت اس وقت ایک نازک مگر امید افزا مرحلے میں ہے۔ کوتائیوں کے ساتھ ساتھ بہتری کے اشارے بھی موجود ہیں۔ ملکی پالیسی کو طویل المدتی سوچ، عوامی بھلائی اور شفافیت کے ساتھ ترتیب دینا ہوگا تاکہ نہ صرف حساب کتاب بہتر ہو بلکہ حقیقی لوگوں کی زندگیوں پر مثبت اثر بھی پڑے۔
