اسلام آباد(سب نیوز)وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے اہم قدرتی ورثے نیشنل پارک کے تحفظ اور اسکی قدرتی خوبصورتی کو برقرار رکھنے کیلئے چیئرمین کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے)و چیف کمشنر اسلام آباد محمد علی رندھاوا کی ہدایت پر سیدپور کے علاقے میں غیر قانونی تعمیرات و تجاوزات کے خاتمے کو یقینی بنانے کیلئے وسیع پیمانے پر قبضہ مافیا کے خلاف انسدادِ تجاوزات کارروائیاں کامیابی کیساتھ مکمل کرلی گئی ہیں۔ ان کارروائیوں میں جدید سیٹلائٹ جیو میپنگ اور ڈیجیٹل نقشہ جات کا استعمال کرتے ہوئے نیشنل پارک کی اصل حدود کی نشاندہی کی گئی اور غیر قانونی تجاوزات کو ختم کیا گیا۔
سی ڈی اے انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کے مطابق نیشنل پارک کا علاقہ دارالحکومت اسلام آباد کے ماحولیاتی توازن، قدرتی آبی ذخائر، جنگلی حیات کی بقا اور شہری آلودگی میں کمی کیلئے انتہائی اہم ہے۔ تاہم گزشتہ عرصے میں اس حساس علاقے پر غیر قانونی آبادیوں اور تجاوزات نے نہ صرف ماحولیاتی نظام کو نقصان پہنچایا بلکہ قومی مفاد کے بھی منافی صورتحال پیدا کردی تھی جسکے باعث وزیراعظم پاکستان شہباز شریف اور وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے وژن اور چیئرمین سی ڈی اے و چیف کمشنر اسلام آباد محمد علی رندھاوا کی ہدایت پر عملدرآمد کرتے ہوئے سی ڈی اے انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے ضلعی انتظامیہ اور اسلام آباد پولیس کی معاونت سے سید پور کے اور اس سے ملحقہ علاقوں میں مرحلہ وار آپریشن کا آغاز کیا تھا۔ چیئرمین سی ڈی اے محمد علی رندھاوا کی ہدایت پر پہلے مرحلے میں سیٹلائٹ جیو میپنگ کی مدد سے نیشنل پارک کی اصل حد بندی، سرکاری اراضی اور تجاوز شدہ رقبے کی واضح نشاندہی کی گئی، جسکے بعد 320 کنال قیمتی سرکاری اراضی کو غیرقانونی قبضے سے واگزار کروالیا گیا۔ چیئرمین سی ڈی اے کی ہدایت پر واگزار کروائی گئی اس قیمتی سرکاری اراضی کو رواں برس موسم بہار میں وسیع پیمانے پر شجرکاری اور ماحولیاتی بحالی کے منصوبوں کیلئے استعمال کیا جائیگا تاکہ علاقے کا قدرتی حسن اور ماحولیاتی نظام دوبارہ بحال ہوسکے۔
واضح رہے، نیشنل پارک کے علاقے میں یہ کارروائیاں گزشتہ دس سالوں کے دوران کی جانے والی پہلی بڑی انسدادِ تجاوزات مہم ہے، جو سرکاری اراضی کے تحفظ اور حکومت کی ماحول دوست پالیسیوں کے عملی نفاذ کی واضح عکاسی کرتی ہے۔ کارروائی کے دوران شفافیت اور احتساب کو یقینی بنانے کیلئے سخت اصولوں پر عملدرآمد کیا گیا۔ اس ضمن میں غیر قانونی تجاوزات میں سہولت کاری کے شبہ میں دو سی ڈی اے اہلکاروں اور ایک پولیس اہلکار کے خلاف باقاعدہ انکوائری بھی شروع کردی گئی ہے تاکہ ذمہ داران کا تعین کرکے مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کو بھی یقینی بنایا جاسکے۔ اس موقع پر انوائرمنٹ ونگ کے متعلقہ سنئیر افسران نے کہا کہ سیٹلائٹ جیو میپنگ کی طرز پر کی گئی یہ کارروائیاں نیشنل پارک کے تحفظ اور قدرتی وسائل کے پائیدار استعمال کی ایک مثالی اقدام ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ مراحل میں بھی نیشنل پارک کی حدود میں موجود دیگر تجاوزات کے خاتمے اور علاقے کی مکمل ماحولیاتی بحالی کے اقدامات تسلسل کیساتھ جاری رہیں گے۔ اس سلسلے میں شہریوں سے بھی تعاون کی اپیل کی گئی ہے کہ وہ قومی ورثے کے تحفظ میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں اور سرکاری اراضی پر کسی بھی قسم کے غیر قانونی قبضے میں ملوث نہ ہوں۔واضح رہے چیئرمین سی ڈی اے کی ہدایت پر وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سے غیر قانونی تعمیرات و تجاوزات کے خاتمے کو یقینی بنانے کیلئے دن رات مصروف عمل ہے اس ضمن میں غیر قانونی قابضین سے ابتک اربوں کھربوں روپے کی قیمتی سرکاری اراضی واگزار کروائی جاچکی ہے۔
