واشنگٹن (آئی پی ایس): امریکا نے وینزویلا کا تیل غیر معینہ مدت تک کنٹرول کرنے کا اعلان کر دیا ہے، وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کاراکاس میں عبوری حکام کے ساتھ تیل معاہدے کی تفصیلات بتا دیں۔
مارکو روبیو کا کہنا تھا کہ وینزویلا سے 30 سے 50 ملین بیرل تیل وصول کرنے کے بعد مارکیٹ ریٹ پر بیچیں گے، سینیٹ ارکان کو بریفنگ کے بعد میڈیا سے گفتگو میں مارکو روبیو نے کہا وینزویلا میں پہلا قدم استحکام، دوسرا بحالی اور تیسرا مرحلہ تبدیلی کا ہوگا۔
رپورٹس کے مطابق امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے بدھ کے روز کہا کہ امریکا کے پاس وینزویلا کے لیے تین مرحلوں پر مشتمل ایک منصوبہ ہے، جس کا آغاز ہفتے کے روز امریکی افواج کی جانب سے صدر نکولس مادورو کو حراست میں لینے کے بعد ملک میں استحکام پیدا کرنے سے ہوگا، اس کے بعد بحالی کے مرحلے میں امریکی تیل کمپنیوں کو ملک تک رسائی یقینی بنائی جائے گی، اور آخر میں اقتدار کی منتقلی کے عمل کی نگرانی کی جائے گی۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر مادورو کے قریبی حلقے کے وہ افراد، جنھوں نے ملک کی قیادت سنبھال لی ہے، ان کے مطالبات پر تعاون نہیں کرتے تو وینزویلا کے خلاف مزید فوجی کارروائیاں کی جائیں گی۔ ان مطالبات کا زیادہ تر محور وینزویلا کے تیل کے حصول پر ہے۔ ریپبلکن صدر نے کہا کہ امریکا وینزویلا کے خام تیل کے 5 کروڑ بیرل تک صاف کر کے فروخت کرے گا، جب کہ بدھ کے روز بھی امریکی افواج وینزویلا سے منسلک تیل بردار جہازوں کو تحویل میں لیتی رہیں۔
مارکو روبیو نے کہا ’’اصل بات یہ ہے کہ اب ہم نے وینزویلا کے عبوری حکام کے اقدامات اور صلاحیتوں پر غیر معمولی کنٹرول حاصل کر لیا ہے اور ان پر ہمارا غیر معمولی دباؤ موجود رہے گا۔‘‘
روبیو اور وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے بدھ کے روز صدر ٹرمپ کی انتظامیہ کے لاطینی امریکی ملک سے متعلق منصوبے پر سینیٹ اور ایوانِ نمائندگان کے مکمل ارکان کو خفیہ بریفنگ دی۔ دو بریفنگز کے درمیان، ہیگسیتھ کے ہمراہ کھڑے ہو کر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے روبیو نے کہا ’’لیکن ظاہر ہے کہ یہ ایک عبوری عمل ہوگا۔ آخرکار، اپنے ملک کو بدلنے کا فیصلہ وینزویلا کے عوام کو ہی کرنا ہوگا۔‘‘
روبیو نے کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ وینزویلا کے 3 کروڑ سے 5 کروڑ بیرل تیل حاصل کر کے اسے ’’مارکیٹ قیمت پر‘‘ فروخت کرنے کے معاہدے کو حتمی شکل دینے کے قریب ہے، اور اس سے حاصل ہونے والی رقم وینزویلا میں نئی حکومت کی جانب منتقلی کے لیے استعمال کی جائے گی۔ انھوں نے کہا ’’اس رقم کو اس انداز میں استعمال کیا جائے گا کہ اس کی تقسیم ہمارے کنٹرول میں ہو، تاکہ اس کا فائدہ وینزویلا کے عوام کو پہنچے، نہ کہ بدعنوانی کو، نہ ہی کسی حکومت کو۔ اس طرح ہمارے پاس استحکام کے محاذ پر آگے بڑھنے کے لیے خاصا دباؤ موجود ہوگا۔‘‘
