Tuesday, January 13, 2026
ہومکالم وبلاگزالیکٹرک بس سروس: ایک خوش آئند قدم، مگر ناکافی سہولیات

الیکٹرک بس سروس: ایک خوش آئند قدم، مگر ناکافی سہولیات


تحریر: شاویز ہاشمی


اسلام آباد، ملک کا دارالحکومت ہونے کے ساتھ ساتھ ہر سال لاکھوں نئے افراد کا مسکن بنتا جا رہا ہے، جس کے باعث یہ شہر تیزی سے ایک بڑے میٹروپولیٹن مرکز کی شکل اختیار کر رہا ہے۔ اگرچہ سہولیات کے اعتبار سے اسلام آباد ملک کے بیشتر شہروں سے بہتر ہے، تاہم پبلک ٹرانسپورٹ کے ناکافی اور غیر مربوط نظام نے شہریوں کی بڑی تعداد کو ذاتی سواری استعمال کرنے پر مجبور کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں ٹریفک، آلودگی اور شہری دباؤ میں اضافہ ہو رہا ہے۔


2015 میں پہلی بار جڑواں شہروں کے محدود علاقوں میں میٹرو بس سروس کا آغاز ہوا، مگر روزانہ ہزاروں مسافروں کی ضروریات کے مقابلے میں یہ سہولت ناکافی ثابت ہوئی۔ بعد ازاں 2025 میں اسلام آباد کے مختلف روٹس پر مناسب کرایوں اور بہتر حالت والی الیکٹرک بسوں کا اجرا ایک خوش آئند قدم تھا، جس سے نہ صرف شہر کے اندر سفر آسان ہوا بلکہ ٹیکسلا اور فتح جنگ جیسے قریبی شہروں تک عوامی آمد و رفت میں بھی سہولت پیدا ہوئی۔ اگرچہ بسوں کی تعداد کم اور انتظار کا وقت طویل ہونا اب بھی ایک مسئلہ ہے، تاہم ماضی کے مقابلے میں صورتحال میں نمایاں بہتری آئی ہے۔


اس سروس کی افادیت کے باوجود چند بنیادی مسائل ایسے ہیں جن پر فوری توجہ کی ضرورت ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کے پاس اتنے مالی وسائل موجود ہیں کہ وہ یہ نسبتاً چھوٹے مگر اہم مسائل حل کر سکے۔
سب سے سنگین مسئلہ بعض اہم بس اسٹیشنز پر مسافروں کے لیے مناسب انتظار گاہوں کا نہ ہونا ہے۔ مثال کے طور پر پمز بس اسٹیشن، بری امام اور کھنہ پل جیسے مقامات، جہاں سے روزانہ ہزاروں افراد سفر کرتے ہیں، وہاں نہ دھوپ اور بارش سے بچاؤ کے لیے کوئی چھت موجود ہے اور نہ ہی ضعیف، بیمار یا خواتین مسافروں کے بیٹھنے کے لیے مناسب انتظام۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ وہاں تعینات ورکرز بھی صاف پینے کے پانی اور واش روم جیسی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔


مزید برآں، بس روٹس اور اوقات کے بارے میں معلومات فراہم کرنے کے لیے سی ڈی اے کی جانب سے تیار کردہ موبائل ایپ بھی اکثر تکنیکی مسائل کا شکار رہتی ہے، جو کبھی کام کرتی ہے اور کبھی نہیں۔ اس ایپ کو مؤثر، مستحکم اور صارف دوست بنانے کی اشد ضرورت ہے تاکہ شہری درست معلومات تک بروقت رسائی حاصل کر سکیں۔
جیسا کہ پہلے ذکر کیا گیا، بسیں نسبتاً چھوٹی جبکہ مسافروں کی تعداد زیادہ ہے۔ اگر بعض مصروف روٹس پر بسوں کے درمیان وقفہ آدھے گھنٹے کے بجائے 15 منٹ کر دیا جائے تو نہ صرف عوام کو نمایاں سہولت ملے گی بلکہ سی ڈی اے کی آمدنی میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔