اسلام آباد (آئی پی ایس )تحریک تحفظ آئین پاکستان نے آئی ایم ایف رپورٹ میں سامنے آنے والی معاشی بے ضابطگیوں پر تحقیقات کا مطالبہ کر دیا۔سابق گورنر سندھ محمد زبیر نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ حکومتی نمائندے آئی ایم ایف کی رپورٹ پر اپنا مقف سامنے رکھیں، 48 گھنٹوں سے زائد وقت گزر گیا لیکن کسی حکومتی نمائندے نے آئی ایم ایف رپورٹ کی تردید نہیں کی، آئی ایم ایف کی شرط تھی کہ رپورٹ جاری ہوگی تو اگلی قسط ملے گی۔
تیمور سلیم جھگڑا نے کہا کہ آئی ایم ایف کہہ رہا ہے کہ پاکستان میں کرپشن ہے، آئی ایم ایف کہتا ہے اداروں کی کارکردگی سیاسی دبا میں آجاتی ہے، احتساب ہونا بہت ضروری ہے۔یاد رہے کہ آئی ایم ایف کی جانب سے جاری حالیہ رپورٹ میں کہا گیا ہیکہ پاکستان میں سیاسی اور معاشی اشرافیہ سرکاری پالیسوں پرقبضہ کرکے معاشی ترقی میں رکاوٹ ڈال رہی ہے۔
رپورٹ میں پاکستان میں مسلسل بدعنوانی کے خدشات کی نشاندہی کرتے ہوئے آئی ایم ایف کا 15 نکاتی اصلاحاتی ایجنڈا فوری شروع کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے جبکہ اس رپورٹ کا دائرہ صرف وفاقی سطح کی کرپشن اور گورننس تک محدود ہے۔ رپورٹ میں اہم سرکاری اداروں کو حکومتی ٹھیکوں میں خصوصی مراعات ختم کرنے، ایس آئی ایف سی کے فیصلوں میں شفافیت بڑھانے، حکومت کے مالیاتی اختیارات پر سخت پارلیمانی نگرانی کی سفارش کی گئی ہے جب کہ انسدادِ بدعنوانی اداروں میں اصلاحات کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔
آئی ایم ایف نے ایس آئی ایف سی کے اختیارات، استثنا اور شفافیت پر سوالات اٹھاتے ہوئے ایس آئی ایف سی کی جانب سے سالانہ رپورٹ فوری جاری کرنے کا مطالبہ کیا۔رپورٹ میں تمام سرکاری خریداری بھی 12 ماہ میں ای گورننس سسٹم پر لانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا گیا ہیکہ پالیسی سازی اور عملدرآمد میں زیادہ شفافیت اور جواب دہی ضروری ہے۔
