نیویارک:(آئی پی ایس)
سلامتی کونسل کے قطر پر ہونے والے اجلاس کے دوران اسرائیلی نمائندے کے ریمارکس کے جواب میں اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے جوابی بیان دے دیا۔
شکریہ جناب صدر مجھے کچھ تبصروں کا جواب دینے کے لیے بات کرنے پر مجبور ہونا پڑ رہا ہے۔
اسرائیل کے نمائندے نے شاید آج کی بحث میں تمام کونسل اراکین اور دیگر مقررین کی بات توجہ سے نہیں سنی۔
ہماری رائے میں یہ ناقابلِ قبول بلکہ مضحکہ خیز ہے کہ ایک جارح، ایک قابض، اقوامِ متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قانون کا مسلسل خلاف ورزی کرنے والا ملک یعنی اسرائیل اس ایوان کا غلط استعمال کرے اور اس کونسل کے تقدس کی توہین کرے۔
اور یہ پہلا موقع نہیں ہے دوسروں پر انگلیاں اٹھانا اور بے بنیاد الزامات لگانا دراصل اپنی ہی غیر قانونی کارروائیوں اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزیوں کو چھپانے کی ایک کوشش ہے۔
جناب صدر، لیکن یہ قطعاً حیران کن نہیں ہے۔ یہ ایک قابض ہے جو کسی کی نہیں سنتا؛ کسی کی نصیحت کو اہمیت نہیں دیتا، حتیٰ کہ اپنے دوستوں کی بھی، اگر اب کوئی باقی بچے ہوں؛ یہ تردید کرتا ہے، بلکہ صرف تردید ہی نہیں کرتا بلکہ بین الاقوامی برادری کے اراکین، بین الاقوامی میڈیا، انسانی حقوق اور انسانی ہمدردی کی تنظیموں کو دھمکاتا ہے؛ یہ عالمی عدالتِ انصاف اور عالمی فوجداری عدالت کی بھی نہیں سنتا، اور اقوامِ متحدہ اور اس کے اعلیٰ عہدیداروں کو بھی دھمکاتا ہے؛ اور یہ سب کچھ وہ بلاخوف و خطر کرتا ہے۔
اس کے حامی، جو بار بار اس کی غیر قانونی کارروائیوں اور بین الاقوامی برادری کی توہین پر آنکھیں بند کرتے ہیں، اسے ڈھال فراہم کرتے ہیں۔
اور ہر قابض کی طرح، باوجود اس کے کہ وہ خود جارح ہے، یہ مظلوم بننے کا ڈھونگ رچاتا ہے۔ لیکن آج یہ پوری طرح بے نقاب ہو چکا ہے۔
جناب صدر، اس کونسل نے دہائیوں تک مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال اور مسئلۂ فلسطین پر بحث کی ہے۔ اجلاس در اجلاس ہم اس ایجنڈے پر گھنٹوں صرف کرتے ہیں۔ یہ کسی اور کی وجہ سے نہیں ہے۔
یہ اسرائیل کی وجہ سے ہے جو اپنے غیر قانونی قبضے کو ختم کرنے سے انکار کرتا ہے اور اس کونسل کی قراردادوں کی کھلم کھلا خلاف ورزی کرتا ہے۔ یہی وہ وجہ ہے کہ ہمیں یہ بحثیں کرنی پڑتی ہیں۔
اسرائیل نے ایک غیر متعلقہ واقعے کا حوالہ دینا بھی ضروری سمجھا اور پاکستان کے بارے میں گمراہ کن ریمارکس دیے تاکہ اپنی ہی غیر قانونی کارروائیوں اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزیوں کو درست ثابت کر سکے
