Sunday, March 8, 2026
ہومپاکستانسپریم کورٹ کے حکم پر گریڈ 16اور اوپرکے ریگولر کیے گئے ہزاروں سرکاری افسران کی اسکروٹنی شروع

سپریم کورٹ کے حکم پر گریڈ 16اور اوپرکے ریگولر کیے گئے ہزاروں سرکاری افسران کی اسکروٹنی شروع

اسلام آباد(سب نیوز) سپریم کورٹ کے حکم پر فیڈرل پبلک سروس کمیشن نے 2012 اور 2013 میں ریگولر کیے گئے ہزاروں سرکاری افسران کی اسکروٹنی شروع کردی۔
تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ نے محسن رضاگوندل اور دیگر کی جانب سے دائر کردہ درخواستوں پر 13ستمبر 2024 کو فیصلہ سنایا تھا جس میں قرار دیاگیا کہ کابینہ کی سب کمیٹی کو گریڈ 16 اور اس سے اوپر کے افسروں کی ریگو لرائزیشن کا اختیار نہیں ہے، یہ اختیار وفاقی پبلک سروس کمیشن (FPSC) کا ہے لہذا کمیٹی کے کیے گئے تمام کیسز ایف پی ایس سی کو بھیجے جائیں۔سپریم کورٹ کے فیصلے پر اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے وزارت قانون و انصاف سے رائے لینے کے بعد تمام وزارتوں، ڈویژنوں اور وفاقی محکموں کو 19مارچ2025کو ایک آفس میمو رنڈم بھیجا جس میں ہدایت کی گئی کہ سپر یم کورٹ کے مذکورہ بالا فیصلے پر عمل درآمد کو یقینی بنا یا جائے۔
اس مشق سے 2012 اور 2013 میں خورشید شاہ کمیٹی کی سفارش پر ریگولر کیے گئے سیکڑوں افسران کا مستقبل بے یقینی اور خطرے سے دو چار ہوگیا ہے کیونکہ یہ اب ایف پی ایس سی کی اسکروٹنی سے مشروط ہوگیا ہے۔ متاثرہ افسروں کے دبا پر یہ عمل تاخیر کا شکار رہا لیکن اب متعلقہ وزارتوں نے ایسے کیسز ایف پی ایس سی کو بھجوانا شروع کردیے ہیں، دراصل یہ افسران اب اعلی عہدوں پر فائز ہیں اور ترقیاں بھی حاصل کرچکے ہیں۔سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں فیڈرل پبلک سروس کمیشن نے کابینہ کی سب کمیٹی کی سفارش پر گریڈ 16 اور اس سے اوپر کے ہزاروں افسروں کی ملازمت کی ریگو لر ائز یشن کی اسکروٹنی اور جانچ پڑتال کا عمل شروع کردیا ہے۔
ذرائع کے مطابق سپر یم کورٹ کے حکم پر عمل درآمد کرتے ہوئے اب تک 14وزارتوں اور وفاقی محکموں نے ایسے 897 کیسز وفاقی پبلک سروس کمیشن کو بھجوا دیے ہیں تاہم بہت سی وزارتیں سیا سی دباو کی وجہ سے کیسز ایف پی ایس سی کو بھجوانے میں لیت و لعل سے کام لے رہی ہیں اور انہوں نے کیسز ابھی تک نہیں بھجوائے جو سپریم کورٹ اور اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کی حکم عدولی ہے۔ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کا موقف ہے کہ جب تک ان افسروں کی تقرری کی ایف پی ایس سی سے توثیق نہیں ہوتی ان کو ترقی اور سنیارٹی بھی نہیں دی جاسکتی۔
کمیشن کے ذرائع نے بتایا کہ جن محکموں کے کیسز مو صول ہوئے ان میں ایف آئی اے کے 21، وزارت انسانی حقوق کے 2، بیوروآف امیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ کے 25 ، نیشنل پولیس فا نڈیشن کے 2، فیڈرل میڈیکل کالج کے 9، وزارت تعلیم و پیشہ وارانہ تربیت کے 551، کابینہ ڈویژن کے 2، امیگریشن اینڈ پاسپورٹ کے 199، وزارت فوڈ سکیورٹی کے 3، ایف بی اآر کے19، فیڈ رل جنرل ہسپتال کے 32 اور ملٹری انٹیلی جنس کے 32کیسز شامل ہیں۔
ذرائع کے مطابق وزارت صحت میں متعدد ذیلی اداروں کیکیسز اس زمرے میں آتے ہیں لیکن ابھی تک صرف 2 اداروں کیکیسز بھیجے گئے ہیں اور وزارت صحت نے نیشنل ٹی بی پروگرام، پمز اور پولی کلینک کے کیسز ابھی تک ایف پی ایس سی کو نہیں بھیجے ہیں۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔