اسلام آباد(آئی پی ایس) وزیراعظم شہباز شریف کی زیرصدارت قومی سلامتی کمیٹی کا ہنگامی اجلاس منعقد ہوا جس میں حالیہ بھارتی حملوں کے بعد پیدا شدہ صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کے بعد جاری اعلامیے میں بھارتی افواج کی بلااشتعال، بزدلانہ اور غیرقانونی جنگی کارروائیوں کی شدید مذمت کی گئی۔
وزیراعظم شہباز شریف نے بھارتی جارحیت اور پاکستان کے منہ توڑ جواب پر قومی اسمبلی میں خطاب اور اراکین کو اعتماد میں لینے کا فیصلہ کیا ہے۔
وزیراعظم شہبازشریف کی زیر صدارت قومی سلامتی کمیٹی کا ہنگامی اجلاس ختم ہوگیا میں اعلیٰ فوجی حکام، وزرا اور دیگر اہم شخصیات شریک ہوئیں۔
اعلامیہ کے مطابق اجلاس میں بھارت کی بلا اشتعال، بزدلانہ اور جنگی اقدام کی صورتحال پر غور کیا گیا جبکہ اجلاس میں شہدا کے لئے فاتحہ خوانی اور شہدا کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت اور زخمیوں کی صحت یابی کی دعاکی گئی۔
اجلاس میں بھارتی جارحیت کے نتیجے میں شہید ہونے والے معصوم شہریوں کے لیے فاتحہ خوانی کی گئی اور زخمیوں کی جلد صحتیابی کے لیے دعا کی گئی۔ اعلامیے کے مطابق بھارتی افواج نے رات گئے سیالکوٹ، شکرگڑھ، مریدکے، بہاولپور، کوٹلی اور مظفرآباد پر مشترکہ میزائل، فضائی اور ڈرون حملے کیے۔ ان حملوں میں جھوٹے الزامات کی بنیاد پر معصوم مرد، خواتین اور بچوں کو نشانہ بنایا گیا، جب کہ مساجد اور شہری انفرااسٹرکچر کو بھی نقصان پہنچایا گیا۔
قومی سلامتی کمیٹی نے ان حملوں کو پاکستان کی خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی اور بین الاقوامی قوانین کے مطابق اعلان جنگ قرار دیا۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ معصوم شہریوں کو نشانہ بنانا انتہائی شرمناک جرم اور انسانی اقدار کی سنگین خلاف ورزی ہے۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ پاکستان نے 22 اپریل کے بعد شفاف تحقیقات کی پیشکش کی تھی، جسے بھارت نے مسترد کر کے سچ چھپانے کی کوشش کی۔ کمیٹی نے واضح کیا کہ بھارت نے جھوٹ اور سیاسی مقاصد کے تحت معصوم شہریوں پر حملہ کیا، اور پاکستان ایسی جارحیت کو ہرگز برداشت نہیں کرے گا۔
اعلامیے میں بھارت کو خبردار کیا گیا کہ اگر خطے میں آگ بھڑکی تو اس کی تمام تر ذمہ داری بھارتی حکومت پر عائد ہوگی۔ اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ افواج پاکستان نے مادرِ وطن کا بہادری سے دفاع کیا اور دشمن کے پانچ طیارے اور ڈرونز مار گرائے۔
کمیٹی نے کہا کہ پاکستان کو اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت مکمل جوابی کارروائی کا حق حاصل ہے اور افواج پاکستان کو اس ضمن میں مکمل اختیارات دے دیے گئے ہیں۔
قومی سلامتی کمیٹی نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ بھارت کی غیرقانونی کارروائیوں کا فوری نوٹس لے اور اسے جوابدہ ٹھہرائے۔ اجلاس کے آخر میں واضح کیا گیا کہ پاکستان امن چاہتا ہے، لیکن اپنی خودمختاری، سالمیت اور شہریوں کی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
قومی سلامتی کمیٹی نے پاک فوج کو بھارتی جارحیت کا بھرپور جواب دینے کا اختیار دیدیا
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
