آخر کار آج پچیس جولائی وہ دن آ ہی گیا جب کشمیر الیکشن کی پولنگ کا آغاز ہوا ہی چاہتا ہے۔
اب تک کی گئی تگ و دو د جو تمام جماعتوں نے کی ہے اسکا حاصل کیا ہو گا۔
آج کے دور میں اور بالخصوص خطے میں تبدیل ہوتے طاقت کے توازن میں یہ الیکشن بھی اہم ہے کیونکہ اگر عمران خان کی پارٹی کشمیر الیکشن جیت جاتی ہے تو اس کو مستقبل میں حکومت سے دور رکھنا انتہائی مشکل ہو جائے گا اور اس صورت میں انٹرنیشنل اسٹیبلشمنٹ کے پپٹ اپنا سب کچھ داؤ پر لگانے کے باوجود کسی کام کے نہیں رہیں گے اور عوام میں اپنی گرتی ساکھ کی وجہ سے انٹرنیشنل اسٹیبلشمنٹ کے لئے یہ پپٹ ایک بیکار بوجھ سے بڑھ کر کچھ نہیں ہونگے اور آخر کار عمران خان کی طاقت کو تسلیم کرتے ہوئے پاکستان کے مفادات کی نگہبانی کرنا فرض ہو جائے گا۔یا کوئی ایسا حادثہ جو جنرل ضیاء کے ساتھ کیا گیا تھا وقوع پذیر نہ ہو جائے (میرے منہ میں خاک) اللہ ایسے حادثے سے خان صاحب کو بچائے
تو ہی جا کر پاکستان میں انٹرنیشنل اسٹیبلشمنٹ کے مفادات کا تحفظ ہو پائے گا۔بصورت دیگر پاکستان اور چین نے مل کر اس خطے کے تمام خدوخال تبدیل کر دینے ہیں جس سے یہ خطہ تیزی سے ترقی کی طرف گامزن ہو جائے گا۔جس طرح گلگت بلتستان کو صوبے کا درجہ دیا گیا اور اس کی ڈاکیومینٹیشن میں روکاوٹ دور کی گئی ہے ایسا اب کشمیر میں بھی کچھ ہونے کو متوقع ہے جس سے انڈیا پر کافی پریشر آئے گا۔اور یہ بھارت کو منظور نہیں ہو گا کہ کوئی اس کی ڈائنامکس کو اسکی خواہش کے بغیر تبدیل کرے اس لئے اس نے اپنے تمام اثاثے اب ایک ٹوکری میں جمع کرنا شروع کر دیئے ہیں محب حمد اللہ اور نواز شریف کی ملاقات اسی تناظر میں ہے کہ آنے والے چیلنجوں سے کیسے نمٹا جائے۔ مریم نواز کا بیان کہ ہم کشمیر کو کسی صورت صوبہ نہیں بننے دینگے پاکستانی عوام کو سمجھ جانا چاہئے کہ کون کس کی ڈوریاں کہاں سے ہلا رہا ہے
ان سب کے باوجود اتنا ہی کہوں گا۔
ایک چال تم چلتے ہو اور ایک تدبیر اللہ کرتا ہے اور سب سے بہترین تدبیر اللہ ہی کی ہے۔
پاکستان زندہ باد
پاک افواج پائندہ باد
ارشاد خان
@i_irshad_
