تحریر عنبرین علی
مون سون بارشیں جب سے ہو رہی ہیں تب سے ہی کچھ نیا سننے کو ملتا ہے ہر سال مون سون بارشوں سے ندی نالوں کا فل ہوجانا،سیلاب کا خطرہ سر پر منڈلانا معمول کی بات ہےاسلیے زیادہ تر باسیوں کے لیے مون سون کی بارشیں زحمت ہوتی ہیں،اسلام آباداور پنڈی میں تو مون سون کاصحیح پتہ لگتا ہے جب سننے میں آتا ہےکہ نالہ لئی فل ہو گیا ہےاورراول ڈیم میں پانی کی سطح بلند ہوگئی ہے سپل ویز کھول دیے گئے۔یوں مون سون زیادہ تر خطرے کی گھنٹیاں کسی نہ کسی صورت میں بجاتا ہی رہا ہے۔
لیکن اسلام آباد میں مون سون بارشوں سے قدرت کاایک سرپرائز بھی موجود ہے جو کہ یہاں رہنے والوں کو نصیب ہواہےان بارشوں نےہمیں صرف مصیبت میں مبتلا نہیں کیا بلکہ اس سیزن نے ہمیں تحفہ بھی دیاہے مارگلہ ہلزپرخوبصورتی توپہلے ہی تھی مگراب مون سون بارشوں نےتقریبا چھ سال بعدچھوٹے چھوٹےچشموں کوجنم دے کر خوبصورتی میں اضافہ کردیا ہے،چھ سال قبل یہاں چشمے پھوٹے تھےاسکے بعد چشمےتو تھے مگرپانی کابہاؤ خاص نہیں تھا۔
اب حالیہ بارشوں سے متعدد چشمے پھرسے پھوٹے ہیں پانی کا بہاؤخاصا تیز ہے،مارگلہ ہلز جیسے ہی داخل ہوکرتھوڑا پیدل جائیں توقدرت کےحسین نظارےخوش آمدید کہتے ہیں چشموں کاپانی انتہائی صاف ہے۔وہاں جا کر محسوس ہوتا ہےکہ قدرت ہم پر کس قدر مہربان ہوئی ہے ایسا لگتا ہے چشموں کا پانی اپنی ہی دھن گنگنا رہا ہو قہقہے لگا رہا ہواور وہاں اگرآپ ہائیکنگ کے بعد آتے ہوئے یا جاتے ہوئےتھوڑی دیربیٹھتے ہیں تو چشمے کا پانی یوں لگتاہے آپ سے باتیں کر رہا ہو ۔
مارگلہ ہلز پر سبزہ تو پہلے ہی موجود ہے اب اس سبزے کے درمیاں صاف چشمے کے پانی کو غور سے دیکھتے ہیں تو سبزے کی وجہ سے چشمہ گرین کلر کا دکھائی دیتاہے ذہن میں سوچیں توکیا ہی نظارہ ہے اردگرد آنکھوں کو ٹھنڈک دیتی گرینری ہے اورجب پتھروں کے درمیان سے چشمہ نکلتاہےتو لگتا ہے جیسے کوئی دودھ کی نہر ہو مجھے یہ سب دیکھ کرقرآن پاک کی آیت سورہ رحمن یاد آتی ہےکہ فبای آلاء ربکما تکذبن یعنی کہ تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کوجھٹلاؤ گے۔اسلام آباد میں لوگ دور دراز سے لیک ویو پارک ،راول ڈیم،سملی ڈیم ،شاہدرہ کا رخ کرتے ہیں کیونکہ پانی والی جگہوں پر جا کر سکون تو ملتا ہے۔اور اسلام آباد میں پانی والی جگہیں اتنی نہیں کہ لوگ بیٹھ کر زندگی کی الجھنوں کو مٹاسکیں۔
قدرت کایہ تحفہ کسی نعمت سے کم نہیں شہری قدرت کے یہ حسین نظارےکیمرے کی آنکھ میں قید کرتے ہیں مارگلہ ہلز پر چشمے چونکہ لے پرڈ زون میں ہیں اسلیے جانوروں کے لیے بھی فائدہ ہے کہ وہاں سے پانی پیتے ہیں پارک رینجرز کےاہلکارصبح سے پٹرولیم پرہوتے ہیں شہریوں کو گند پھیلانے سے روکتے ہیں چشموں کوصاف رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں مارگلہ ہلز اینٹری سےقبل بورڈ لگایا گیا ہے جس پرلکھا ہے یہاں کچرا نہ پھینکیں کیونکہ ان چشموں کوگندا کریں گےتوجانور،چرند پرند تو پانی سے محروم ہوں گے ہی ساتھ میں قدرت بھی ہم سے روٹھ جائےگی اورخدانخواستہ یہ نظارے ماضی کا قصہ اورمیری ایک تحریر بن کر رہ جائیں گے ۔
