ہومپاکستانچوتھی کورونا لہر نے سر اٹھا لیا، حکومت کا ایس او پیز پر عملدرآمد کیلئے 18جولائی تک سختی کرنیکا فیصلہ

چوتھی کورونا لہر نے سر اٹھا لیا، حکومت کا ایس او پیز پر عملدرآمد کیلئے 18جولائی تک سختی کرنیکا فیصلہ

اسلام آباد،کورونا کی نئی قسم کے ممکنہ حملے کے پیش نظر حکومت نے 18جولائی تک ایس او پیز پر عملدرآمد کے لئے سختی کا فیصلہ کرلیا۔

تفصیلات کے مطابق کورونا کی بھارتی قسم (ڈیلٹا وائرس)کو انتہائی خطرناک قراردے دیا گیا ہے اور پاکستان میں ڈیلٹا وائرس کے کیسز سامنے آنے لگے ہیں جو کورونا کی چوتھی لہر بھی ہو سکتی ہے، جس کے پیش نظر این سی او سی نے ڈیلٹا وائرس اور پاکستان میں موجود دیگر وائرس کے حوالے سے جامع حکمت عملی ترتیب دے دی ہے۔این سی او سی کا کہنا ہے کہ اگر ڈیلٹا وائرس پہ قابو پانے کے لئیے احتیاطی تدابیر اختیار نہ کی گئیں تو خطرناک نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، اس وائرس کی وجہ سے بھارت نے نہ صرف لاکھوں اموات کا سامنا کیا بلکہ اسپتالوں میں آکسیجن کی کمی کے باعث عوام بے یار و مددگار اذیتیں جھیلتے رہے، تاہم پاکستانی عوام کو اس وائرس کے مضر اثرات سے بچانے کے لیے این سی او سی نے خصوصی اقدامات کئے ہیں۔این سی او سی کے مطابق کورونا کی چوتھی لہر کے پیش نظر متعلقہ ایس او پیز پر عمل درآمد اور ویکسین لگوانے کی رفتار کو تیز کرنے پہ زور دیا جائے گا، اس ضمن میں موجودہ ایس او پیز کا شدت سے نفاذ 9 سے 18 جولائی تک یقینی بنایا جائے گا، اور عید الاضحی کے موقع پہ وبا کے پھیلا کی صورت میں غیر ضروری نقل و حرکت کو محدود رکھنے کیے لیے مختلف تجاویز زیر غور ہیں، جن پہ عمل درآمد کا فیصلہ کورونا کے پھیلا کو مدنظر رکھ کر آئندہ چند دن میں کیا جائے گا، جب کہ بڑھتی ہوئی وبا کے پیش نظر سیر و سیاحت پہ پابندی کا بھی امکان ہے۔این سی او سی کا کہنا ہے کہ ایک بار پھر اس امر کو یقینی بنانے کے لیے ہدایات جاری کی جا رہی ہیں کہ تمام پرائیویٹ سیکٹر ملازمین، بشمول کارپوریٹ سیکٹر، چھوٹی درمیانی اور بڑی انڈسٹری کے ملازمین، زراعت، میڈیا، وکلا پرائیویٹ کمپنیاں، فیکٹری مزدور، مارکیٹ میں کام کرنے والے ملازمین، ٹرانسپورٹ سیکٹر سے منسلک افراد، ہوٹل ورکز، ریڑھی بان، جمنیزیم ملازمین ، مساجد کے خدام اور آئما، شادی ھال اور ورکشاپس پر کام کرنے والے افراد کو لازما 31 جولائی سے قبل ویکسین لگوائی جائے، 18 سال سے زائد عمر کے طلبہ اور طالبات کے لیے 31 اگست تک ویکسن لگوانا لازمی قرار دیا گیا ہے۔این سی او سی کے مطابق یکم اگست سے ویکسینیشن سرٹیفکٹ کے بغیر ہوائی سفر کرنے پر پابندی عائد کردی گئی ہے، پاکستان کے تمام سیاحتی مقامات پہ جانے والے 30 سال یا اس سے زائد عمر کے افراد پر بغیر ویکسینیشن سرٹیفیکٹ کے سفر اور ہوٹل بکنگ پر عائد پابندی کو یقینی بنانے کے لئیے احکامات جاری کردئے گئے ہیں، یکم اگست سے اس پابندی کا اطلاق 18 سے 30 سال تک کے افراد پہ بھی ہو گا، اس ضمن میں تمام متعلقہ اداروں کو ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔دوسری طرف ملک بھر میں عالمی وبا سے اموات کا سلسلہ جاری ہے ، ملک بھر میں مزید 25افراد جاں بحق ہو گئے ،مجموعی اموات کی تعداد 22 ہزار 520 ہو گئی، مثبت کیسز کی شرح 3 اعشاریہ پانچ چھ فیصد رہی۔ این سی او سی کے مطابق پاکستان میں ایکٹو کیسز کی تعداد 35 ہزار573 ہے، مجموعی کیسز کی تعداد 9لاکھ 69ہزار 476 تک پہنچ گئی۔ پاکستان میں مزید ایک ہزار 737 نئے مریض سامنے آئے جبکہ کورونا سے صحت یاب ہونے والوں کی تعداد 9لاکھ 11 ہزار 383 ہو گئی ہے۔اعدادو شمار کے مطابق پنجاب میں 3لاکھ 47ہزار553، سندھ میں 3لاکھ 44ہزار223، خیبرپختونخوا میں ایک لاکھ 39ہزار 8، اسلام آباد میں 83ہزار 400 اور بلوچستان میں 27ہزار 781 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ آزاد کشمیر میں 20ہزار 811اور گلگت بلتستان میں 6ہزار 700افراد کورونا سے متاثر ہیں۔ وزیراعظم عمران خان نے عید پر عوام سے احتیاط کی اپیل کر دی، ماسک کے استعمال اور ویکسی نیشن پر بھی زور دیا۔ کہتے ہیں بھارتی ویر ینٹ بہت بڑا خطرہ ہے، ایس او پیز پر عملدرآمد ہی بچا کا واحد راستہ ہے، لاک ڈائون غریب طبقے کیلئے نقصان دہ، احتیاطی تدابیر اختیار کرکے ہی معیشت کو بچا سکتے ہیں۔علاوہ ازیں وفاقی وزیر منصوبہ بندی اور این سی او سی کے سربراہ اسد عمر نے خبردار کیا ہے کہ ملک میں کرونا وائرس کی چوتھی لہر کے قابل از وقت آغاز کے واضح شواہد ملے ہیں۔ جمعہ کو سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے بیان میں سربراہ این سی او سی اسد عمر نے بتایا ہے کہ ملک میں انڈور شادیوں ، ریستورانٹس اورجمز میں صرف ویکسین شدہ افراد کی شرط پر عمل نہیں ہوا ہے۔ اسد عمر نے ان ڈور ریستورانٹس، انڈور شادیاں اور جمز کو بند کرنے کا عندیہ دیتے ہوئے خبردار کیا کہ فیلڈ رپورٹس کے مطابق ان ڈور تقریبات میں صرف ویکسین شدہ افراد کی شرکت کی شرط پر عمل نہیں ہو رہا ہے اور اگر ہوٹل اور جم مالکان نے ذمہ داری نہ دکھائی تو یہ سہولت بند کرنے کے سوا کوئی راستہ نہیں ہوگا۔ انھوں نے مزید بتایا کہ 2 ہفتے قبل کہا تھا کہ آرٹیفیشل انٹیلیجنس ماڈلز چوتھی لہر کے آغاز کو ظاہر کر رہے ہیں تاہم اب واضع طور پر چوتھی لہر کے آغاز کی ابتدائی علامات کو دیکھا جاسکتا ہے ملک میں ایس او پیز پرعمل درآمد نہ ہونا اور مختلف ویری انٹس خاص طور پر کرونا کی بھارتی قسم کا پھیلا بڑی وجوہات ہیں۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔