سابق ایرانی صدر محمود احمدی نژاد کی نقل وحرکت محدود ہو گئی ہے۔ ان کے گھر میں داخلے اور باہر نکلنے کی سکیورٹی سروسز کی نگرانی کی گئی تھی۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق یہ پابندیاں اس کے ملک کے شمال میں سفر سے واپس آنے کے بعد لگائی گئی ہیں۔
خیال رہے احمدی نژاد نے رواں ماہ کے آغاز میں 28 جون کو ہونے والے صدارتی انتخابات کے لیے اپنی امیدواری کا اندراج کرایا تھا۔ دو جون کو اپنی امیدواری جمع کرانے کے فوراً بعد انہوں نے کہا تھا ’’کہ ملک کے تمام مسائل کو دنیا کے ساتھ تعمیری بات چیت کے ذریعے حل کیا جا سکتا ہے۔‘‘
احمدی نژاد پاسداران انقلاب کے سابق رکن رہے ہیں۔ وہ 2005 میں پہلی مرتبہ ملک کے صدر بنے اور 2013 تک خدمات انجام دیں۔
انہوں نے “خوشحال، آزاد اور خوش ایران” کے نعرے کے تحت صدارتی انتخابی مہم کی تصدیق کی ہے۔9 جون کو ایران کی گارڈین کونسل نے انتخابات میں حصہ لینے کے لیے 6 امیدواروں، جن میں اکثریت قدامت پسندوں کی تھی، کی اہلیت کی منظوری دی۔
کونسل نے مئی میں ہیلی کاپٹر حادثے میں صدر ابراہیم رئیسی کی موت کے بعد انتخابات میں حصہ لینے کے لیے درخواست دینے والے 80 میں سے 6 افراد کا انتخاب کیا ہے۔
امیدواروں میں پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف، مصطفی بور محمدی، مسعود پزشکیان، امیر حسین قاضی زادہ، علی رضا زکانی اور سعید جلیلی شامل ہیں۔
حتمی فہرست میں محمود احمدی نژاد اور شوریٰ کونسل کے سابق سربراہ علی لاریجانی کی قیادت میں نمایاں نام شامل نہیں تھے۔
ایجنسی فرانس پریس کے مطابق اس میں اصلاح پسند تحریک کے ایک امیدوار مسعود پزشکیان کو شامل کیا گیا ہے۔
خامنہ ای کو کھلا چیلنج
واضح رہے احمدی نژاد نے اپنے دور اقتدار کے دوران سپریم لیڈر علی خامنہ ای کو کھلم کھلا چیلنج کیا تھا اور حکام نے ان کی 2021 میں انتخاب لڑنے کی کوشش کو روک دیا تھا۔
گارڈین کونسل نے 2017 میں بھی ان پر انتخابات میں حصہ لینے پر پابندی لگا دی تھی۔
ایک سال بعد خامنہ ای نے انہیں خبردار کیا تھا کہ مقابلے میں شامل ہونا ان کے اور ملک کے مفاد میں نہیں ہے۔
احمدی نژاد کی طرف سے واضح طور پر خامنہ ای کے مطلق اختیار پر کنٹرول مسلط کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا اور اس کے بعد دونوں کے درمیان تنازع پیدا ہو گیا تھا۔ 2018 میں خامنہ ای پر ایک نادر تنقید میں احمدی نژاد نے انہیں خط لکھا جس میں ان سے آزاد انتخابات کرانے کا مطالبہ کیا تھا۔ واضح رہے ایرانی سپریم لیڈر نے 2009 میں دوبارہ منتخب ہونے کے بعد احمدی نژاد کی حمایت کی تھی۔
اس سے ملک میں مظاہرے شروع ہو گئے تھے اور ان مظاہروں میں درجنوں افراد ہلاک اور سینکڑوں کو گرفتار کیا گیا تھا۔
ان مظاہروں نے حکمران اشرافیہ کی شبیہ کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ بعد میں پاسداران انقلاب کی قیادت میں سکیورٹی فورسز نے بدامنی کو ختم کردیا تھا۔
