لاہور (آئی پی ایس )جماعت اسلامی نے عید الاضحی کے بعد آئین کی بالادستی کے لیے تحریک شروع کرنے کا اعلان کردیا۔
امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے 2روزہ مرکزی مجلس شوری کے اجلاس کے بعد منصورہ میں پارٹی رہنماوں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ہم جانتے ہیں پاکستان مشکلات کا شکار ہے، 76 سال سے ہم مختلف غلامیوں میں مبتلا ہیں، ملک پر اشرافیہ قابض ہے جس وجہ سے یہ ملک ترقی نہیں کرپایا۔حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ ہماری خارجہ پالیسی بھی آزاد نہیں ہے، کشمیرسے متعلق سودے بازی کے معاملات کی تحقیقات ہونی چاہیے، نوازشریف اور بھارت کا کلچرایک ہوگا ہمارا نہیں، یہ لوگ ہمیں بھارت کا غلام بنانا چاہتے ہیں، بھارت سے دوستی کرنا امریکی ایجنڈا ہے، امریکی آشیرباد اور فارم 47 والے بھارت سے دوستی کی ہی بات کریں گے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ غزہ کا مسئلہ انسانیت کا مسئلہ ہے، فلسطین کے معاملے پر جنوبی افریقہ عالمی عدالت گیا پاکستان کیوں نہیں ؟ پاکستان کو جنوبی افریقا کے عالمی عدالت جانے پرشرم نہیں آئی؟ مسلم لیگ (ن)، پیپلزپارٹی والے رسمی باتوں کی بجائے حماس کوتسلیم کریں، ان کو تو اسرائیل کا نام لیتے ہوئے تکلیف ہوتی ہے۔انہوں نے کہا کہ ملک میں آئین کی بالادستی بہت ضروری ہے، اگر ملک آئین کے مطابق چلے گا تو سب کیلئے بہتر ہے، جب آئین پر قبضہ کیا جاتا ہے تو ملک اور ادارے دونوں برباد ہوتے ہیں، چند لوگوں کی انا پورے ملک کو برباد کررہی ہے، عید کے فوری بعد آئین کی بالادستی کے لیے بڑی تحریک شروع کریں گے۔امیر جماعت اسلامی کا کہنا تھا کہ پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ پاکستان کیلئے بہت اہم ہے، اس منصوبے کو مکمل ہونا چاہیے، حکمرانوں کی نااہلی کی وجہ سے ملین ڈالرز کی گیس امپورٹ ہوتی ہے، پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ مکمل ہونے سے اربوں ڈالر بچ سکتے ہیں۔حافظ نعیم الرحمان نے مزید کہا کہ لوڈشیڈنگ سیتنگ آکر لوگوں نے سولر لگائے اب یہ ظالم حکمران آئی ایم ایف کے کہنے پرٹیکس لگانے جا رہے ہیں، ہم اور یہ عوام اس جعلی حکومت کو نہیں مان سکتے، اس ظالم ٹولے کے رحم و کرم پر 25 کروڑ عوام کو نہیں چھوڑ سکتے۔حافظ نعیم الرحمان کا مزید کہنا تھا زراعت کے شعبے میں بہت کچھ ہو سکتا ہے مگر یہ لوگ نہیں کررہے، اس معاملے پر ہم بھرپور طریقے سے کام کریں گے، ہمارا ایجنڈا اس وقت انتخابی نہیں قومی اور عوامی ہے، ہم کسانوں ،مزدوروں اور نوجوانوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔
