نارووال(آئی پی ایس )وفاقی وزیر پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ احسن اقبال نے کہاکہ پی ٹی آئی عدالت کو اسٹیبلشمنٹ اور حکومت سے لڑا کر اپنے لئے راستہ بنانا چاہتی ہے۔
وفاقی وزیر پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ احسن اقبال نے نارووال میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی سمت صحیح کی طرف ہو چکی ہے، پاکستان کی معیشت ترقی کی طرف گامزن ہو رہی ہے، سٹاک مارکیٹ 76 ہزار انڈیکس کراس کر گئی ہے۔احسن اقبال نے کہا کہ اس کا مطلب ہے کہ بیرونی اور اندرونی سرمایہ کار کو حکومت کی پالیسیوں پر بھرپور اعتماد کا اظہار ہے، اگلے پانچ سالوں میں پاکستان کی معیشت کی بحالی کے سفر کو محاذ آرائی کی سیاست سے بچائیں، پاکستان کی میعشیت مشکلات کا شکار ہوتی ہے تو مشکلات پی ٹی آئی پر نہیں ن لیگ پر آئیں گی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اگر ملک ترقی کرے گا تو 24 کروڑ عوام کا بھلا ہو گا، اگر ملک بحران کی طرف جائے گا تو عوام اس کی سزا بھگتیں گے، پی ٹی آئی قیادت کو مشورہ ہے سڑکوں کو چھوڑ کر ایوانوں میں آئے، ایوانوں میں مثبت اپوزیشن کا کردار ادا کرے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ 2029 تک انتظار کریں، خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کی حکومت ہے، عوام کی خدمت کریں، جہاں پر جس کو مینڈیٹ ملا ہے عوام کی خدمت کریں، ہمیں اب جلسوں کا کھیل نہیں کھیلنا ہمیں عوام کی خدمت کا مقابلہ کرنا ہے، ہمارے دروازے بامقصد بامعنی مذاکرات کے لئے تمام جماعتوں کے لئے کھلیں ہیں۔احسن اقبال نے مزید کہا کہ لیکن بامقصد بامعنی مذاکرات تبھی ہوسکتے ہیں جب ہر فریق کھلے دل سے مثبت ایجنڈے کے ساتھ مذاکرات کرے، ضد انا کے ساتھ مذاکرات ہوں گے تو وہ کامیاب نہیں ہو گے، 9 مئی کے واقعات کو قوم کبھی معاف نہیں کر سکتی۔وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی سیاست میں مار کھانے کے بعد عدالت کا کندھا استعمال کررہی ہے، آج پھر سیاست میں مات کھا چکی ہے، اس کو امکان نظر نہیں آرہا، اپنی سیاست کے لئے عدالت کے کندھے استعمال کرنا چاہتی ہے، پاکستان کی عدلیہ بہت جہاں دیدہ اور میچور ہیں، پاکستان کے تمام ستون سمجھتے ہیں ہم سب کو مل کر پاکستان کے لئے کام کرنا ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ رول آف لا کا مقصد یہ ہوتا ہے کسی ملک کے اندر آرڈر ہو، کسی عدالتی فیصلے سے ملک کے اندر بے یقینی ہو ڈس آرڈر ہو تو رول آف لا نہیں ہوتا کچھ اور ہوتا ہے۔
