Wednesday, January 28, 2026
ہومتازہ ترینججز کا خط، 300سے زائد وکلا کا سپریم کورٹ سے نوٹس لینے کا مطالبہ

ججز کا خط، 300سے زائد وکلا کا سپریم کورٹ سے نوٹس لینے کا مطالبہ

اسلام آباد (آئی پی ایس )300سے زائد وکلا نے سپریم کورٹ آف پاکستان پر زور دیا ہے کہ عدلیہ کے معاملات میں خفیہ اداروں کی مداخلت کے الزامات کا آئین کے آرٹیکل 184(3) کے تحت نوٹس لیا جائے۔ وکلا کا کہنا ہے کہ کسی حکومتی شخصیت کے زیرقیادت تشکیل پانے والے والا تحقیقاتی کمیشن تفتیش کے لیے مطلوب اختیارات اور غیر جانب داری کا حامل نہیں ہوگا۔آئین کا آرٹیکل 184(3) سپریم کورٹ کا اصل دائرہ کار متعین کرتا ہے اور اسے عوامی اہمیت کے حامل معاملات میں کارروائی کے قابل بناتا ہے، بالخصوص پاکستان کے شہریوں کے بنیادی حقوق پر عمل کے حوالے سے۔اتوار کو 300 سے زائد وکلا نے، جن میں ایمان زینب مزاری، زیناب جنجوعہ، عبدالمعز جعفری، سلمان اکرم خواجہ، تیمور ملک ثاقب جیلانی شامل ہیں، ایک بیان جاری کیا۔ یہ پورا بیان سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بھی شیئر کیا گیا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ اس بیان پر دستخط کرنے والے قانون کی بالا دستی، عدلیہ کی خود مختاری اور انصاف یقینی یقینی بنانے پر یقین رکھتے ہیں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ وکلا برادری اسلام آباد ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن، اسلام آباد بار ایسوسی ایشن، سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن، پاکستان بار کونسل، خیبر پختونخوا بار کونسل اور بلوچستان بار کونسل کی منظور کردہ قراردادوں کی مکمل حمایت کرتی ہے اور اسلام آباد ہائی کورٹ کے 6 ججوں سے مکمل اظہارِ یکجہتی کرتی ہے اور ان کے جرات مندانہ اقدام کو سراہتے ہوئے مطالبہ کرتی ہے کہ متعلقہ معاملے میں موزوں کارروائی کی جائے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ اپنی نوعیت کا پہلا الزام نہیں۔ جسٹس (ر)شوکت عزیز صدیقی نے بھی ایسے ہی الزامات عائد کیے تھے جس پر انہیں غیر شائستہ انداز سے ان کے عہدے سے ہٹادیا گیا تھا۔

وکلا نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ ماضی کی غلطیوں کو تسلیم کرنا اچھی بات ہے مگر اب اس سے کہیں آگے جاکر حقیقتا کچھ ایسا کرنا ہے جس سے واقعی معاملات درست ہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ ریاستی سطح کی زیادتیوں اور شہریوں کے بنیادی حقوق کے درمیان سرپرست و محافظ کی حیثیت کے حامل ججوں ہی کو ڈرایا دھمکایا جاتا ہے جو پورا عدالتی نظام ہی ساکھ کھو بیٹھتا ہے۔ ججوں کو بے خوف ہوکر انصاف کرنے سے روکا جائے تو وکلا سمیت پورے لیگل سسٹم کی قدر ختم ہو جاتی ہے۔وکلا نے اپنے بیان میں پاکستان بار کونسل اور دیگر تمام بار ایسوسی ایشن پر زور دیا ہے کہ وکلا کا ایک کنونشن ہنگامی بنیاد پر بلایا جائے تاکہ عدلیہ کی آزادی و خود مختاری کے لیے اتفاقِ رائے سے اجتماعی لائحہ عمل تیار کیا جاسکے۔ بیان میں اس بات پر بھی زور دیا گیا ہے کہ سپریم کورٹ ایک بینچ تشکیل دے کر اس معاملے کو سنے اور کارروائی براہِ راست نشر کی جائے۔وکلا کے بیان میں سپریم کورٹ پر زور دیا گیا ہے کہ تمام ہائی کورٹس سے ہم آہنگی اختیار کرتے ہوئے راہ نما اصول بھی وضع کیے جائیں تاکہ عدلیہ کی خود مختاری گھٹانے کی کسی بھی کوشش کو ناکام بنانے کے لیے شفاف انسٹیٹیوشنل میکینزم تیار کیا جاسکے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔