اسلام آباد: نگراں وفاقی وزیر اطلاعات مرتضی سولنگی نے کہا ہے کہ الیکشن کے بروقت انعقاد پر کسی کو شک و شبہ نہیں ہونا چاہیے۔ وفاقی دارالحکومت میں پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیولپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) کے زیر اہتمام اصلاحاتی منشور کے اجرا کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے نگراں وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات مرتضی سولنگی کا کہنا تھا کہ 17 اگست 2023کو نگراں کابینہ کے حلف اٹھانے کے بعد سے مسلسل یہی کہہ رہے ہیں کہ انتخابات اپنے مقررہ وقت پر ہوں گے اور الیکشن کمیشن کو معاونت فراہم کرنا ہماری ذمے داری ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کے آئین کے دیباچے میں لکھا ہے کہ یہ ملک اس کے منتخب نمائندے چلائیں گے۔ انتخابات کے بروقت انعقاد کے حوالے سے کسی کو شک و شبہ نہیں ہونا چاہیے۔ انتخابات کے انعقاد کے حوالے سے میڈیا کی ذمے داری پہلے سے زیادہ بڑھ جاتی ہے۔ میڈیا کو بھی اس ضمن میں ذمے دارانہ رپورٹنگ کرنا ہوگی۔
وفاقی وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ ملک کو معیشت، خارجہ پالیسی، ٹیکس اصلاحات، صحت، تعلیم اور آبادی میں اضافے جیسے مسائل اور چیلنجز درپیش ہیں۔ زراعت ملک کی جی ڈی پی کا ایک چوتھائی حصہ ہے لیکن اس شعبے سے ٹیکس کی وصولی بہت کم ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 140 اور 140 اے کے تحت مقامی حکومتیں مالی، سیاسی اور انتظامی طور پر خودمختار ہوں گی۔ 18 ویں ترمیم کے تحت صوبوں کو زیادہ اختیارات دہء گئے لیکن یہ اختیارات نچلی سطح پر منتقل نہیں ہو سکے۔ قومی و صوبائی اسمبلیوں کے ارکان کا اصل کام قانون سازی اور ملک کے پیچیدہ مسائل کو حل کرنا ہے۔
مرتضی سولنگی نے مزید کہا کہ دعووں اور وعدوں کی تکمیل سیاسی جماعتوں کا کام ہے۔ سیاسی جماعتوں کے اندر جمہوری رویوں کی ضرورت ہے، کچھ دن پہلے ایک عدالتی فیصلے سے ایک نظیر قائم ہوئی ہے کہ جماعتوں کے اندر انتخابات اور جمہوری رویے ہونے چاہییں۔ اگر کسی جماعت کے اندر جمہوریت نہ ہو تو وہ کس طرح ملک میں جمہوریت کی دعویدار ہو سکتی ہے؟۔انہوں نے کہا کہ ملک کے بنیادی مسائل پر گفتگو ہونی چاہیے اور عوام کے شعور میں اضافہ ہونا ضروری ہے۔
