لاہور(آئی پی ایس)لاہور کی مقامی عدالت نے ریاست مخالف بیان سے متعلق کیس میں مسلم لیگ (ن)کے رکن قومی اسمبلی جاوید لطیف کے جسمانی ریمانڈ میں 2روز کی توسیع کردی۔تفصیلات کے مطابق جاوید لطیف کو ریاست مخالف بیان سے متعلق کیس میں جسمانی ریمانڈ مکمل ہونے پر لاہور کی مقامی عدالت میں پیش کیا گیا۔جاوید لطیف نے عدالت کے روبرو موقف اختیار کیا کہ اگر عوامی نمائندہ اداروں میں بیٹھے لوگوں کی غلطیوں کی نشاندہی نہیں کرسکتا تو وہ حلف کی خلاف ورزی ہے، جاوید لطیف نے ٹی وی چینل پر دیا گیا بیان عدالت میں دوہرایا۔پراسیکیوٹر نے مقف اختیار کیا کہ پولی گرافک سمیت 3 ٹیسٹ کروا لئے ہیں، دوسرے موبائل میں موجود واٹس ایپ گروپس دیکھنے ہیں، ملزم کا 2 روزہ جسمانی ریمانڈ دیا جائے۔دلائل مکمل ہونے پر عدالت نے جاوید لطیف کے جسمانی ریمانڈ میں 2روز کی توسیع کردی۔خیال رہے کہ رہنما مسلم لیگ (ن)جاوید لطیف نے مارچ میں ایک ٹی وی پروگرام میں مریم نواز کو مبینہ دھمکی دینے سے متعلق پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں کہا تھا کہ ‘اگر خدانخواستہ مریم نواز شریف کو کچھ ہوا تو ہم پاکستان کھپے کا نعرہ نہیں لگائیں گے’۔اس بیان پر 20 مارچ کو جاوید لطیف کے خلاف ریاست کے خلاف بغاوت پر اکسانے اور غداری سمیت سائبر کرائم ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کرلیا گیا تھا۔
ریاست مخالف بیان :جاوید لطیف کے جسمانی ریمانڈ میں 2روز کی توسیع
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
