Saturday, February 28, 2026
ہومپاکستاننیب کی کارروائی ،جعلی چیئرمین نیب اور ڈی جی نیب بن کر عوام الناس کو بلیک میل کر کے لوٹنے والے دو نو سر باز گرفتار

نیب کی کارروائی ،جعلی چیئرمین نیب اور ڈی جی نیب بن کر عوام الناس کو بلیک میل کر کے لوٹنے والے دو نو سر باز گرفتار

اسلام آباد ،قومی احتساب بیورو (نیب)کے چیئرمین جسٹس (ر)جاوید اقبال کی ہدایت پر نیب کراچی نے ایک نوسر باز گروہ کے رکن عامر حسین کو جعلی چیئرمین نیب اور جعلی ڈی جی نیب کراچی بن کر بڑے پیمانے پر عوام الناس کو لوٹنے کے الزام میں گرفتار کر کے قانونی کاروائی شروع کر دی ہے جبکہ نوسر باز گروہ کے سر غنہ خالد سولنگی جو کہ دبئی سے مختلف سرکاری افسران اور دیگر افراد کو جعلی چیئرمین نیب اور جعلی ڈی جی نیب کراچی بن کر نہ صرف بلیک میل کرتاہے بلکہ ان سے بھاری رقوم لوٹنے میں بھی مبینہ طور پر ملوث ہے۔ چئیرمین نیب جسٹس (ر)جاوید اقبال کی ہدایت پر نیب نے نوسر باز گروہ کے سر غنہ خالد سولنگی کا پاسپورٹ کینسل کرنے اور انٹر پول کے ذریعے اسے دبئی سے واپس پاکستان لانے کے لئے وزارت داخلہ کو خط تحریر کر دیا ہے۔تفصیلات کے مطابق ملزم عامر حسین کا والد دبئی سے مختلف سرکاری افسران اور دیگر افراد کو جعلی چیئرمین نیب اور جعلی ڈی جی نیب کراچی بن کر بلیک میل کرتاجبکہ اس کا بیٹاعامر حسین سرکاری افسران اور دیگر افرادسے پیسے بٹورتا تھا۔تحقیقات کے دوران ملزم عامر حسین نے ہوش ربا انکشافات کئے ہیں جن کی روشنی میں تحقیقات کو قانون کے مطابق مزیدآگے بڑھانے کا فیصلہ کیا گیاہے۔ چئیرمین نیب جاوید اقبال کی ہدایت پر نیب کراچی نے ملزم سے تحقیقات کے نتیجے میں حاصل ہونے والی معلومات کی بنیا د پر مختلف سرکاری افسران اور دیگر لٹنے والے افراد کی ابتدائی فہرست تیار کرلی ہے۔ متعلقہ افراد کے بیانا ت بھی قانون کے مطابق قلم بند کیئے جائیں گے۔واضح رہے کہ نیب کراچی نے 27 نومبر 2020 کو چیف سیکرٹری سندھ کوخط کے ذریعے آگاہ کیا تھا کہ تمام سرکاری افسران کو جعل ساز گروہ کی سرگرمیوں کے بارے میں خصوصا اس نوسر باز اور جعل ساز گروہ کے کسی قسم کے جھانسے میں نہ آئیں۔ مزید برآں نیب نے مختلف اخبارات میں اشتہار کے ذریعے بھی عوام الناس کو اطلاع دی تھی کہ عوام اس نوسرباز گروہ جو کہ دبئی سے کام کر رہا ہے کے کسی قسم کے جھانسے میں نہ آئیں اور نہ ہی کسی کو رشوت دیں۔ کیونکہ نیب ہمیشہ آئین اور قانون کے مطابق اپنے فرائض سر انجام دینے پر یقین رکھتا ہے اور ایسے نوسر باز اور جعلی گروہ کا نیب سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ چیئرمین نیب جسٹس (ر)جاوید اقبال نے اپنے منصب کی ذمہ داریاں سنبھالنے کے بعد ملک سے بدعنوانی کے خاتمہ اور بدعنوانی عناصر کے خلاف قانون کے مطابق کاروائی کے لئے نیب کی انٹی کرپشن حکمت عملی کا اعلان کیا تھا اس پر نہ صرف نیب سختی سے عمل پیرا ہے بلکہ اب تک3 سال میں 10 ایسے افراد کو گرفتا رکیا ہے جو نیب کا نام استعمال کرکے نیب کے جعلی افسران بن کر عوام الناس کو لوٹنے میں مبینہ طور پر ملوث تھے۔چیرمین نیب جناب جسٹس (ر)جاوید اقبال نے نیب کے انٹیلی جنس ونگ کو سخت ہدایات جاری کی تھیں کہ نیب کا نام استعمال کرکے نیب کے جعلی افسر بن کر عوام الناس کو لوٹنے والے عناصر کے خلاف قانون کے مطابق کاروائی عمل میں لائی جائے۔ چئیرمین نیب کی ہدایت پر عمل کرتے ہوئے نیب کے انٹیلی جنس ونگ نے اب تک 10نیب کے جعلی افسر بن کر عوام الناس کو لوٹنے والے عناصرکو نہ صرف گرفتار کیا ہے بلکہ ان کے خلاف قانون کے مطابق کاروائی عمل میں لائی جارہی ہے۔ نیب عوام النا س کو ان کے بہترین مفاد میں ایک بار پھر آگاہ کرتا ہے کہ نیب کے افسران کسی ملزم کو ٹیلی فون کرنے کے مجاز نہیں ہیں اگر کسی ملزم یا گواہ کوقانون کے مطابق بلانا مقصود ہو تو اسے خط لکھ کر بلایا جاتا ہے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔