اسلام آباد(آئی پی ایس )یونان کشتی حادثے کے بعد 281 خاندانوں نے حکومت سے رابطہ کیا ہے، جبکہ 193 ڈی آکسیرائبو نیوکلیک ایسڈ (ڈی این اے) سیمپل جمع کیے جا چکے ہیں، شناخت کا عمل مکمل ہونے کے بعد لاشیں وطن واپس لائی جاسکیں گی۔ وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے واقعے کی تفصیلات سے قومی اسمبلی کو آگاہ کردیا۔
رانا ثنا اللہ نے کہا کہ انسانی اسمگلنگ میں ملوث ملزمان کے خلاف کریک ڈان کیا جارہا ہے، 5 سال میں ملنے والے ڈیٹا کے مطابق کسی کو شاذ و نادر ہی سزا ہوئی ہے۔ وفاقی حکومت نے اینٹی ہیومن اسمگلنگ اور ٹریفکنگ ایکٹ 2018 میں ترمیم کا فیصلہ کرلیا ہے، جس کے بعد انسانی اسمگلنگ میں ملوث افراد کے بینک اکانٹس اور اثاثے منجمد کیے جائیں گے، انسانی اسمگلنگ اور ٹریفکنگ ناقابلِ ضمانت جرم ہوگی۔
