اسلام آباد:وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال نے بدھ کے روز سیکرٹری پلاننگ سید ظفر علی شاہ، صوبائی چیف سیکرٹریز اور چیف مردم شماری کمشنر ڈاکٹر نعیم الظفر پر مشتمل کمیٹی تشکیل دینے کی ہدایت کی ہے .۔ یہ کمیٹی لو کوریج کے معاملے کو حل کرنے کے لئے طریقہ کار وضع کرے گی اور بڑے شہروں میں شفاف اور قابل اعتماد مردم شماری کے فیلڈ آپریشن کو یقینی بنانے کے لیے راستہ تجویز کرے گی۔
وزیر نے یہ ہدایات زوم کے ذریعے مردم شماری کے فیلڈ آپریشن کی جاری مشق پر پیشرفت کا جائزہ لینے کے لیے ایک اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے دیں۔ اجلاس میں وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ، وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن سید امین الحق، چیف مردم شماری کمشنر پاکستان ادارہ شماریات (پی بی ایس) ڈاکٹر نعیم الظفر، سیکرٹری پلاننگ کمیشن سید ظفر علی شاہ ، چیئرمین نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی نادرا، منیجنگ ڈائریکٹر این ٹی سی، سپارکو اور دیگر اسٹیک ہولڈرز نے شرکت کی ۔وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے پی بی ایس کو ہدایت کی کہ وہ سیکرٹری پلاننگ سید ظفر علی شاہ، صوبائی چیف سیکرٹریز اور چیف مردم شماری کمشنر ڈاکٹر نعیم الظفر پر مشتمل کمیٹی تشکیل دے جو بڑے شہروں میں کم گنتی کے معاملے کو دیکھنے کے لیے ایک طریقہ کار وضع کرے اور آگے بڑھنے کا راستہ تجویز کرے۔
مردم شماری کے ایک شفاف اور قابل اعتماد فیلڈ آپریشن کو یقینی بنانے کے لیے مسئلہ کو حل کریں۔ انہوں نے مزید ہدایت کی کہ مردم شماری کی نگران کمیٹی کو بلایا جائے تاکہ ڈیڈ لائن کو مکمل کرنے کے لیے مشاورت کی جائے۔ میٹنگ کے دوران وزیر نے سپارکو کو گمشدہ کچی آبادیوں کی گنتی کی شناخت کے لیے جیو ٹیگنگ کرنے کی بھی ہدایت کی۔قبل ازیں چیف سیسنس کمشنر نے حاصل کردہ اہداف کی مختصر وضاحت کی ۔ مسائل کے شکار علاقوں (یعنی بڑے شہروں، اونچی عمارتوں اور کچی آبادیوں میں زیرِ کوریج) پر روشنی ڈالی -انہوں نے مزید وضاحت کی کہ PBS نیبیشتر علاقون میں لو کوریج کی وجہ جاننے کے لیے مانیٹرنگ ٹیمیں روانہ کر دی ہیں تاکہ اصل مسئلے کی چھان بین کی جا سکے۔
انہوں نے دعوی کیا کہ کم کوریج کی ایک بڑی وجہ شمار کنندگان کی انڈر رپورٹنگ ہے۔ تمام اسٹیک ہولڈرز کے خدشات کو دور کرنے کے لیے ڈیش بورڈز کی فراہمی کو یقینی بنایا گیا ہے۔ انہوں نے صوبائی عہدیداروں سے درخواست کی کہ وہ اس انتظامی مسئلے کو حل کرنے کے لیے مزید چوکس رہیں۔
