حکومت کی جانب سے گرمیوں سے قبل ہی عوام پر بجلی کے پے درپے بم گرانے کا سلسلہ شروع کر دیا گیا۔
عوام پرایک اوربجلی بم گرانے کی تیاریاں،فی یونٹ 3.23 روپیاضافی سرچارج لگا کربجلی صارفین پر335 ارب روپے کا مزید بوجھ ڈالنے کی درخواست کردی گئی۔
گزشتہ ہفتے نیپرا کی جانب سے بجلی صارفین کیلئے فی یونٹ قیمت 14 روپے بڑھانے کے فیصلے کے فوری بعد صارفین کیلئے بجلی مزید مہنگی کرنے کی ایک اور درخواست دائر کی گئی ہے۔
بتایا جارہا ہے کہ عالمی مالیاتی فنڈزکے مطالبے پرحکومت نے بجلی صارفین پر 335 ارب کا اضافی بوجھ ڈالنے کیلئے نیپرا میں درخواست دائر کر دی۔
حکومت کی جانب سے دائردرخواست میں کہا گیا ہیکہ 6 مارچ کوبجلی کی قیمتوں میں کیا گیا اضافہ ناکافی ہے،لہذا بجلی مزید مہنگی کی جائے۔
بجلی کی قیمت میں 3.23 روپے اضافی سرچارج لگانے کیلئے درخواست دائر کی گئی ہے، اضافی سرچارج آئندہ مالی سال سے لگایا جائے گا۔
درخواست میں جولائی سے 30 اکتوبر تک 300 یونٹ سیزائد والے صارفین پر 3 روپے 23 پیسیجبکہ زرعی ٹیوب ویلوں کے لیے 43 پیسے فی یونٹ سرچارج عائد کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔ نومبر2023 سے 3 روپے 23 پیسے فی یونٹ سرچارج عائد کرنیکی درخواست بھی کی گئی ہے۔
نیپرا کی جانب سے درخواست پر16 مارچ کو سماعت کی جائیگی۔ بتایا گیا ہے کہ اضافی سرچارج کا اطلاق کے الیکٹرک صارفین پربھی ہوگا۔
واضح رہے کہ نیپرا نے گزشتہ ہفتے ہی ملک بھرکے صارفین کیلئے بجلی کی فی یونٹ قیمت میں 14 روپے سے زائد اضافے کی منظوری دی تھی۔اس فیصلے کے تحت ملک بھر کے بجلی صارفین سے رواں سال اکتوبرتک کھربوں روپے اضافی وصول کیے جائیں گے۔
عوام پرایک اور بجلی بم گرانے کی تیاریاں
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
