پنجاب حکومت کی جانب سے لاہور میں لگائی گئی دفعہ 144 کے معاملے پر پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی )کی جانب سے الیکشن کمیشن آف پاکستان میں پٹیشن دائر کردی گئی ہے۔ درخواست دائر کرنے کا فیصلہ چیئرمین عمران خان اور بابر اعوان کے درمیان رابطے کے دوران کیا گیا۔
پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے آج بروز اتوار 12 مارچ کو بابر اعوان کو دفعہ 144 کے خلاف الیکشن کمیشن آف پاکستان (اسلام آباد)میں پٹیشن دائر کرنے کی ہدایت کی، جس کے بعد بابر اعوان کی جانب سے دفعہ 144 کو ای سی پی میں چیلنج کیا گیا۔
تحریکِ انصاف کی جانب سے تیار کی گئی درخواست میں کہا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن دفعہ 144 کے نفاذ کو ختم کرے۔
درخواست میں موقف اپنایا گیا کہ لاہور میں تحریکِ انصاف کی ریلی پر دفعہ 144 کا نفاذ غیرقانونی ہے، پنجاب حکومت پی ایس ایل کے میچ کو جواز بنا کر ریلی روکنے کی کوشش کر رہی ہے۔
پی ٹی آئی نے اپنی درخواست میں کہا ہے کہ تحریکِ انصاف کی ریلی اور پی ایس ایل کے میچ کا روٹ مختلف ہے، ریلی ساڑھے 5 بجے ختم ہوگی، جب کہ پی ایس ایل کا میچ 7 بجے شروع ہوگا۔
دائر درخواست میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پنجاب حکومت دفعہ 144 کا نفاذ کر کے سپریم کورٹ کے فیصلے کے پیرا 15 کی خلاف ورزی کر رہی ہے۔
پی ٹی آئی کے مطابق اس سے پہلے کسی شہر میں پی ایس ایل کے دوران دفعہ 144 کا نفاذ نہیں کیا گیا۔ الیکشن کی مہم تحریکِ انصاف کا آئینی حق ہے، پنجاب حکومت غیر قانونی طور پر الیکشن کی مہم روک رہی ہے۔
دوسری جانب لاہور میں دفعہ 144 کے نفاذ کے خلاف پی ٹی آئی رہنما یاسمین راشد نے چیف الیکشن کمشنر کو درخواست دے دی ہے۔
درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن پنجاب میں انتخابی شیڈول جاری کرچکا ہے۔ قانون کے مطابق تمام سیاسی جماعتوں کو انتخابی مہم کی اجازت ہوتی ہے۔ پی ٹی آئی کی ریلی روکنے کیلئے لاہور میں دفعہ 144 کا نفاذ کیا گیا ہے۔ پی ٹی آئی کی ریلی روکنے کیلئے دوسری مرتبہ دفعہ 144 کا نفاذ کیا گیا۔
8 مارچ کو پی ٹی آئی کی ریلی روکنے کیلئے کارکنوں پر تشدد کیا گیا۔ پولیس تشدد کے باعث ظل شاہ کی شہید جبکہ کئی کارکنان زخمی ہوئے۔ نگران پنجاب حکومت کا ایسا رویہ بڑے سیاسی سانحے کی شکل اختیار کرسکتا ہے۔پی ٹی آئی کی ریلی 2 بجے جبکہ پی ایس ایل کا میچ 7 بجے ہوگا۔
درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ الیکشن کمیشن دفعہ 144 کے نفاذ کو غیر قانونی قرار دیکر کالعدم قرار دے۔ پی ٹی آئی کو الیکشن مہم کیلئے ریلی نکالنے کی اجازت دی جائے۔
واضح رہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے آج بروز اتوار 12 مارچ کو دوپہر دو بجے انتخابی ریلی نکالنے کا اعلان کیا ہے۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ وہ خود ریلی کی قیادت کریں گے۔
عمران خان نے دعویٰ کیا کہ پی ڈی ایم نہیں چاہتی کہ الیکشن ہو، یہ الیکشن سے پہلے کچھ نہ کچھ کرنا چاہتے ہیں، یہ چاہتے ہیں کہ ملک میں ایمرجنسی لگ جائے۔
قبل ازیں لاہور میں پریس کانفرنس کے دوران نگراں وزیر عامر میر کا کہنا تھا کہ حالات خراب ہوئے تو پابندی میں توسیع کر دیں گے۔ عمران خان قانون ہاتھ میں لینے کی کوشش نہ کریں۔ ریاست کی رٹ کو چیلنج کیا گیا تو سختی کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ خان صاحب کو مشورہ ہے کہ وہ پرہیز کریں کیونکہ ان کے بقول علاج بھی چل رہا ہے اور ہماری دعا ہے کہ وہ جلد صحت یاب ہوجائیں، پلستر اترنے پر خان صاحب کو مبارکباد پیش کرتے ہیں۔
وزیر داخلہ پنجاب کے مطابق بارہ مارچ کو لاہور میں پی ایس ایل کا میچ ہے، آج لاہور میں میراتھن ریس اور سائیکل ریس کے بھی ایونٹس ہے، ان تمام ایونٹس کا فیصلہ ایک ماہ سے پہلے ہی کیا جا چکا ہے، لیکن عمران خان نے اچانک سے ان ایونٹس کے باوجود سیاسی ریلی کا اعلان کر دیا، اس سے قبل بھی شہر میں میچ اور عورت مارچ تھا تو انہوں نے ریلی کا اعلان کیا تھا۔
صوبائی وزیر داخلہ نے کہا کہ اگر پی ٹی آئی کی جانب سے مزاحمت کی گئی تو دفعہ 144 کو آگے بڑھا دیا جائے گا، انتخابی مہم 6 اپریل سے شروع ہوگی اور اس سے پہلے جو بھی ہے اسے سیاسی سرگرمی کے طور پر لیا جائے گا۔
پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے ریلی کے اعلان کے بعد نگران پنجاب حکومت نے لاہور میں رینجرز کو طلب کر لیا ہے۔
پنجاب حکومت کی جانب سے تحریک انصاف کی ریلی کو روکنے کے لیے رینجرز کو طلب کیاگیا، رینجرز کی نفری کو زمان پارک کے ساتھ ساتھ دیگر اہم مقامات پر بھی تعینات کیا گیا ہے۔
یاد رہے کہ گزشتہ روز وزارت داخلہ پنجاب نے لاہور میں ایک بار دفعہ 144 نافذ کرتے ہوئے کسی بھی قسم کی ریلی یا جلوس پر پابندی عائد کی ہے۔
صوبائی وزیر داخلہ پنجاب کا کہنا تھا کہ دفعہ 144 صرف ایک روز کے لیے ہے۔ دفعہ 144 کے تحت لاہور میں کسی بھی قسم کی ریلی نکالنے پر پابندی ہوگی۔
