Tuesday, May 28, 2024
ہومپاکستانآرڈیننس لا کر سپریم کورٹ پر دبائو ڈالنے کی کوشش کی جارہی ہے، پیپلز پارٹی

آرڈیننس لا کر سپریم کورٹ پر دبائو ڈالنے کی کوشش کی جارہی ہے، پیپلز پارٹی

کراچی ،یپلز پارٹی کے رہنمائوں سینیٹر رضا ربانی اور شیری رحمان نے سینیٹ انتخابات اوپن بیلٹ کے ذریعے کرانے کے لیے منظور کیے گئے آرڈیننس پر کہا ہے کہ مجھے ایسی کوئی مثال نہیں ملی جس میں آرڈیننس کا اطلاق سپریم کورٹ کے فیصلے کے ساتھ مشروط ہو۔

کراچی میں پریس کانفرنس کے دوران رضا ربانی نے کہا کہ اگرسپریم کورٹ صدارتی ریفرنس ہولڈ کردیتی تو حکومت آرڈیننس لے آتی، میں نے ایسی قانون سازی اپنی زندگی میں نہیں دیکھی۔انہوں نے کہا کہ میں یہ سوال پوچھنا چاہتا ہوں کہ جب آپ نے آرٹیکل 6 کے تحت سپریم کورٹ سے رائے طلب کی تو آپ کو عدالت کی رائے کا انتظار کرنا چاہیے تھا۔ان کا کہنا تھا کہ آرڈیننس لا کر سپریم کورٹ پر دبائو ڈالنے کی کوشش کی جارہی ہے۔سینیٹر رضا ربانی نے کہا کہ آرڈیننس بدنیتی پر مبنی ہے اور اس کے اندر تضاد ہے کیونکہ پہلے لکھا گیا کہ آرڈیننس کا اطلاق فوری ہوگا اور کہا گیا کہ آرڈیننس کا اطلاق سپریم کورٹ کے فیصلے سے مشروط ہوگا۔انہوں نے کہا کہ حکومت پارلیمان کو پہلے ہی غیر فعال بنا چکی اور اب مزید مذاق کیا جارہا ہے۔رضا ربانی نے کہا کہ سینیٹ انتخابات کو متنازع بنایا جارہا ہے۔انہوں نے کہا کہ آئین میں ترمیم کرنا پارلیمان کی صوابدید ہے لیکن ترمیم کے لیے کوئی اقدامات نہیں کیے گئے۔۔ان کا کہنا تھا کہ اس ضمن میں کوئی مشاورت نہیں کی گئی کیونکہ مقصد صرف سیاست ہے۔سینیٹر رضا ربانی نے کہا کہ پیپلز پارٹی الیکشن میں دھاندلی کی وجہ سے متعدد مرتبہ شکار ہوئی، موجودہ حکومت نے بل یا ترمیم کے حوالے سے کوئی اتفاق رائے پیدا کرنے کی کوشش نہیں کی۔انہوں نے کہا کہ ایک کابینہ ملک پر مسلط ہے کہ جس کی ایک آرا ہی نہیں ہے۔اس موقع پر پیپلز پارٹی کی رہنما شیری رحمن نے کہا کہ حکومت کو آئینی ترمیم پاس کرانے کے لیے دو تہائی اکثریت حاصل نہیں ہے۔انہوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت الیکشن سے ایک ماہ پہلے ترمیم کا بل کیوں لے آئی؟۔ان کا کہنا تھا کہ حکومتی اقدام آئین اور پارلیمان پر حملہ ہے کیونکہ آئین میں ترمیم کرنا پارلیمان کی صوابدید ہے۔شیری رحمن نے کہا کہ راتوں رات آرڈیننس لا کر آئینی بحران پیدا کردیا ہے کیونکہ ان کے ہاتھ میں لگتا ہے ان کے مہرے نہیں ہیں۔اپوزیشن خصوصی طور پر پیپلز پارٹی نے کہا تھا کہ الیکشن قوانین پر بات چیت کریں اور شراکت داری قائم کریں لیکن انہوں نے کسی کی نہیں سنی اور اب عدالت پر دبائو ڈال رہے ہیں۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔