Sunday, July 21, 2024
ہومپاکستانحکومت کا سرکاری ملازمین کو تنخواہوں میں 25 فیصد ایڈہاک ریلیف دینے کا اعلان

حکومت کا سرکاری ملازمین کو تنخواہوں میں 25 فیصد ایڈہاک ریلیف دینے کا اعلان

اسلام آباد،سرکاری ملازمین کے ساتھ حکومتی کمیٹی کے مذاکرات کامیاب ہوگئے جس میں 1سے 19 گریڈ کے وفاقی ملازمین کو 25 فیصد ایڈہاک ریلیف دینے، ملازمین کے خلاف مقدمات واپس لینے اور گرفتار افراد کو رہا کرنے کا اعلان کیا گیا ۔تفصیلات کے طابق وزیر دفاع پرویز خٹک ،وزیرداخلہ شیخ رشید احمد اور وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان کے ہمراہ پریس کانفرنس میں مذاکرات کے دوران کیے گئے ،فیصلوں سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے ملازمین ایک سال سے تنخواہوں کے فرق دور کرنے کا مطالبہ کررہے تھے۔پرویز خٹک نے کہا کہ ملازمین کے حکومتی کمیٹی کے ساتھ ہوئے مذاکرات میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ وفاقی ملازمین کو 25 فیصد ایڈہاک ریلیف دیا جائے گا، انہوں نے واضح کیا کہ ایڈہاک پے اسکیل ایک سے لے کر 19 گریڈ کے لیے ہے۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے دو صوبائی وزرائے اعلی سے بات کی اور انہیں ملازمین کے مسائل حل کرنے کی ہدایت کی، چنانچہ وفاقی حکومت اپنے فیصلوں کے بعد صوبائی حکومت کو بھی تنخواہوں میں فرق دور کرنے کی سمت فراہم کردے گی۔پرویز خٹک نے بتایا کہ پنجاب اور خیبرپختونخوا میں ملازمین کی اپ گریڈیشن کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے، یہ سلسلہ جون میں آئندہ مالی سال کے بجٹ کے بعد شروع ہوجائے گا اور انہیں سہولیات ملنے لگیں گی۔وزیر دفاع نے بتایا کہ جون کے بجٹ میں ہی ایڈہاک ریلیف ان کے تنخواہوں کے اسکیل میں شامل کردیا جائے گا جو کہ ملازمین کا مطالبہ تھا۔پرویز خٹک نے کہا ٹائم اسکیل کی منظوری دی جائے گی لیکن اس کے لیے ایک طریقہ کار وضع کیا جائے گا اور کارکردگی کی بنیاد پر ترقی دینے کی پالیسی بنائی جائے گی جس پر بجٹ میں عملدرآمد کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ اس وقت ایڈہاک ریلیف آج وزارت خزانہ سے نوٹیفائیڈ کروادیا جائے گا جو کہ پے کمیشن کا فیصلہ آنے تک جاری رہے گا، پے کمیشن کے فیصلے کا اطلاق ملک بھر پر ہوگا۔انہوں نے کہ یہ تمام فیصلے وفاقی اور صوبائی ملازمین کی نمائندہ تنظیموں کے ساتھ مل کر متفقہ طور پر کیے گئے۔ساتھ ہی وفاقی وزیر نے کل اسلام آباد میں ملازمین کے احتجاج کے دوران شدید آنسو گیس کی شیلنگ اور جھڑپ پر معذرت بھی کی اور کہا کہ آپ کو کچھ صبر کرنا چاہیے تھا، حکومت آپ کا مسئلہ حل کرنے کے لیے پورا زور لگارہی ہے لیکن کبھی کبھی دیر ہوجاتی ہے اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم آپ کا خیال نہیں کررہی۔نیوز کانفرنس میں گفتگو کرتے ہوئے وزیر مملکت پارلیمانی امور علی محمد خان نے کہا کہ وہ ملازمین کے مسئلے کو حل کرنے میں دلچسپی لینے پر وزیراعظم عمران خان کا شکریہ ادا کرتا ہوں اور آج حکومت نے ریاست مدینہ کے تصور پر عمل کیا ہے اور سرکاری نے جس صبر کا مظاہرہ کیا اسے بھی سراہتا ہوں۔انہوں نے کہا اس پوری تحریک میں صرف کل کا دن ایسا رہا جس میں کل کا دن پر امن نہیں رہا باقی پوری تحریک پر امن رہی، ماضی میں بھی حکومتوں کے تنخواہوں میں اضافہ کیا ہے لیکن بنیادی تبدیلی عمران خان لار ہے ہیں۔علی محمد خان نے کہا کہ ملازمین کی اپ گریڈیشن کے ساتھ ان کی تنخواہوں میں فرق کو ختم کیا جارہا ہے، عمران خان 2 نہیں ایک پاکستان کی بات کرتے ہیں، اور شیخ رشید اور پرویز خٹک آپ کی فکر میں ساری رات نہیں سوئے۔شیخ رشید نے کہا کہ انہوں نے ان فیصلوں کی وفاقی وزیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ اور سیکریٹری خزانہ سے منظوری لی جاچکی ہے اور وزیراعظم سے خود درخواست کی کہ محنت کش افراد ایک سال سے ان مسائل میں گھرے ہوئے ہیں اس لیے ایک سے 19 گریڈ تک کے ملازمین کو ایڈہاک الانس دیا جارہا ہے۔وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ ہم ملازمین سے رابطے میں رہیں گے اور آئندہ مالی سال کے بجٹ میں 20، 21 اور 22 گریڈ کے افسران کی تنخواہوں میں اضافہ کردیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ جو مسائل رہ گئے ہیں انہیں جون کے بجٹ میں حل کرلیے جائیں اور ملازمین کے ساتھ ہونے والے مذاکرات مثبت رہے۔اسلام آباد میں احتجاج کے دوران ہونے والی شیلنگ کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں شیخ رشید نے کہا کہ کل کابینہ کے اجلاس میں پولیس کو فنڈز فراہم کررہے ہیں تا کہ وہ ساز و سامان خریدا جاسکے جس کی قلت ہے۔اس کے علاوہ شیخ رشید نے احتجاج کرنے والے ملازمین کے خلاف تمام مقدمات واپس لینے اور گرفتار افراد کو رہا کرنے کا بھی اعلان کیا۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔