بیجنگ :چین کے وزیرخارجہ وانگ ای نے دورہ روس کے دوران ” رشیا ٹوڈے “بین الاقوامی میڈیا گروپ کو خصوصی انٹرویو دیا۔بد ھ کے روزانٹرویو کے دوران یوکرین بحران کو حل کرنے کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پیش کردہ نئی تجویز اور روس -امریکہ رہنماوں کی ٹیلی فونک بات چیت کے حوالےسے سوالات کا جواب دیتے ہوئے وانگ ای نے کہا کہ یوکرین بحران چار سال سے جاری ہے،
جسے سرد جنگ کے بعد سب سے بڑا جغرفیائی تنازعہ قرار دیا گیا ہے۔ تنازعہ کے پہلے دن سے ہی چین نے مذاکرات کے ذریعے سیاسی حل کی وکالت کی ہے اور امن کے لیے کیے جانے والے تمام اقدامات کی حمایت کی ہے۔ یہ موقف بین الاقوامی برادری کی اکثریت کی آواز کو بھی ظاہر کرتا ہے۔ وانگ ای نے کہا کہ چین نے صدر پیوٹن اور صدر ٹرمپ کے درمیان دو ٹیلی فونک بات چیت کا مشاہدہ کیا ہے،
اور دونوں ممالک کی ٹیموں نے آپس میں متعدد رابطے کیے ہیں۔ یہ بات چیت یوکرین کے بحران کے سیاسی حل اور روس-امریکہ تعلقات کو بہتر بنانے پر سنجیدہ غور و خوض پر مشتمل تھی، جس سے کچھ اتفاق رائے بھی حاصل ہوا۔ اگرچہ یہ امن کی طرف ایک چھوٹا سا قدم ہے، لیکن یہ قدم مثبت اور ضروری ہے۔ امن کے لئے بیٹھ کر انتظار نہیں کیا جا سکتا،اسے فعال طور پر حاصل کرنا ہو گا۔
وانگ ای نے مزید کہا کہ یہ بھی دیکھنا ضروری ہے کہ اس بحران کی جڑیں پیچیدہ اور کثیر الجہتی ہیں۔ اہم مسائل پر فریقین کے موقف میں ابھی بھی نمایاں فرق موجود ہیں، اور امن کی بحالی کا سفر ابھی طویل اور مشکل ہے۔