chairman nab 14

چینی، آٹا اور منی لانڈرنگ کے ملزمان کو انجام تک پہنچانا اولین ترجیح ہے، چیئرمین نیب

اسلام آباد(آئی پی ایس ) چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال کا کہنا ہے کہ چینی، آٹا، منی لانڈرنگ، جعلی اکانٹس، اختیارات کا ناجائز استعمال، آمدن سے زائد اثاثے، غیر قانونی ہاؤسنگ سوسائٹیزاور مضاربہ اسکینڈل کے ملزمان کو قانون کے مطابق منطقی انجام تک پہنچانا نیب کی اولین ترجیح ہے۔ قومی احتساب بیورو کے چیئرمین جسٹس (ر) جاوید اقبال کی زیرصدارت اسلام آباد میں ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس ہوا۔ جس میں 17 انکوائریز کی منظوری دی گئی۔ جن میں جعلی بینک اکاؤنٹ اسکینڈل میں پبلک آفس ہولڈرز، لیگل پرسنز اور دیگرکے خلاف 10 انکوائریز، پبلک آفس ہولڈرز، جعلی بینک اسکینڈل میں اومنی گروپ کی متعلقہ شوگر ملز کے مالکان و ڈائریکٹرز، سمٹ بینک لمیٹڈ کا متعلقہ عملہ اور دیگر، او جی ڈی سی ایل کے افسران و اہلکار، عمران سلیم انسپکٹر پنجاب پولیس، محمد نعیم اکبر، عامر اسحاق ملک سٹی ہاسنگ اسکیم پرائیویٹ لمیٹڈ، کیپٹن محمد اعجاز ہارون سابق منیجنگ ڈائریکٹر پی آئی اے،علی طاہر قاسم چیف کمرشل آفیسر پی آئی اے، طارق محمود شیخ چیف ایگزیکٹیو آفیسر میسرز ائیر انٹرنیشنل پرائیویٹ لمیٹڈ اور دیگر، اکبر ناصر خان سابق چیف آپریٹنگ آفیسر پنجاب سیف سٹی اتھارٹیرز افسران و اہلکار اور دیگر کے خلاف انکوئریز کی منظوری شامل ہے۔ اس کے علاوہ آئل اینڈ گیس ڈویلپمنٹ اتھارٹی کمپنی لمیٹڈ کی انتظامیہ کے خلاف انوسٹی گیشنز کی بھی منظوری دی گئی۔ قومی احتساب بیورو کے چیئرمین جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال نے کہا کہ میگا کرپشن کے مقدمات کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے تمام وسائل بروئے کار لائے جار ہے ہیں۔ چینی، آٹا، منی لانڈرنگ، جعلی اکانٹس، اختیارات کا ناجائز استعمال، آمدن سے زائد اثاثے، غیر قانونی ہاسنگ سوسائٹیزاور مضاربہ اسکینڈل کے ملزمان کو قانون کے مطابق منطقی انجام تک پہنچانا نیب کی اولین ترجیح ہے۔ جاوید اقبال نے کہا کہ نیب نے گزشتہ تین سال سے زائد عرصہ میں ان افراد کو انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کیا جن سے احتساب کے بارے میں پہلے سوچا بھی نہیں جا سکتا تھا۔ نیب نے گزشتہ 3 سال سے زائد عرصہ میں 535 ارب روپے بالواسطہ اور بلاواسطہ طور پر بدعنوان عناصر سے برآمد کئے جو کہ ایک ریکارڈ کامیابی ہے۔ نیب نے بزنس کمیونٹی کے کے مسائل حل کرنے کیلئے انکم ٹیکس،سیلز ٹیکس اور انڈر انوائسنگ کے مقدمات ایف بی آر کو بھجوادئیے۔ بیوروکریسی کسی بھی ملک کیلئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ نیب بیوروکریسی کا نہ صرف احترام کرتا ہے بلکہ ان کی خدمات کو قدر کی نگا ہ سے دیکھتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

رائے کا اظہار کریں