Thursday, April 18, 2024
ہومتازہ ترینکسی دبا ومیں آئے ہیں نہ آئیں گے، وزیراعظم کے بیان سے دکھ ہوا، الیکشن کمیشن

کسی دبا ومیں آئے ہیں نہ آئیں گے، وزیراعظم کے بیان سے دکھ ہوا، الیکشن کمیشن

اسلام آباد،الیکشن کمیشن نے کہاہے کہ سینیٹ الیکشن سے متعلق وزیراعظم اور کچھ کابینہ اراکین کے بیانات سن کر دکھ ہوا۔چیف الیکشن کمشنر سردار سکندرکی سربراہی میں ہونے والے اجلاس میں وزیراعظم عمران خان کے گزشتہ روز کے بیان کا جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں الیکشن کمیشن نے کہا کہ سینٹ کے الیکشن آئین اور قانون کے مطابق کروانے پر ہم خداوند تعالی کے شکر گذار ہیں کہ وہ خوش اسلوبی سے اختتام پذیر ہوئے۔ الیکشن کے رزلٹ کے بعد میڈیا کی وساطت سے جو خیالات ہمارے مشاہدے میں آئے ان کو سن کر دکھ ہوا۔ خصوصی طورر پر وفاقی کابینہ کے چند ارکان اور بلخصوص جناب وزیر اعظم پاکستان نے جو کل اپنے خطاب میں فرمایا۔اس ضمن میں وضاحت کی جاتی ہے کہ الیکشن کمیشن ایک آئینی اور آزاد ادارہ ہے۔ اس کو ہی دیکھنا ہے کہ آئین اور قانون اس کو کیا اجازت دیتا ہے اور وہی اس کامعیا ر ہے۔ ہم کسی کی خوشنودی کی خاطر آئین اور قانون کو نظر انداز کر سکتے ہیں اور نہ ہی ترمیم کر سکتے ہیں۔ اگر کسی کو الیکشن کمیشن کے احکامات /فیصلوں پر اعتراض ہے تو وہ آئینی راستہ اختیار کریں اور ہمیں آزادانہ طور پر کام کرنے دیں۔ ہم کسی بھی دبا ومیں نہ آئے ہیں اور نہ ہی انشااللہ آئیں گے۔الیکشن کمیشن کو کسی بھی وفود نے ملنا چاہا الیکشن کمیشن نے ان کا موقف سنا ان کی تجاویز کا تفصیلی جائزہ لیا۔ الیکشن کمیشن سب کی سنتا ہے مگر وہ صرف اور صرف آئین وقانون کی روشنی میں ہی اپنے فرائض سرانجام دیتا ہے اور آزادانہ طور پر بغیر کسی دبا وکے فیصلے کرتا ہے تاکہ پاکستانی عوام میں جمہوریت کو فروغ ملے۔یہ حیران کن بات ہے کہ ایک ہی روز ایک ہی چھت کے نیچے ایک ہی الیکٹرول میں ایک ہی عملہ کی موجودگی میں جوہار گئے وہ نامنظور جو جیت گئے وہ منظور، کیا یہ کھلا تضاد نہیں؟ جبکہ باقی تمام صوبوں کے رزلٹ قبول۔ جس رزلٹ پر تبصرہ اور ناراضگی کا اظہار کیا گیا ہے الیکشن کمیشن اس کو مسترد کرتا ہے۔ یہی ہے جمہوریت اور آزادانہ الیکشن اور خفیہ بیلٹ کا حسن جو پوری قوم نے دیکھا اور یہی آئین کی منشا تھی۔ جن خیالات کا اظہار کیاگیا ہے وہ پارلیمنٹ سے منظور کروانے میں کیا امر مانع تھا جبکہ الیکشن کمیشن کا کام قانون سازی نہیں ہے بلکہ قانون کی پاسبانی ہے۔ اگر اسی طرح آئینی اداروں کی تضحیک کی جاتی رہی تو یہ ان کی کمزوری کے مترادف ہے نہ کہ الیکشن کمیشن کی۔ہر سیاسی جماعت اور شخص میں شکست تسلیم کرنے کا جذبہ ہونا چاہیے اگر کہیں اختلاف ہے تو شواہد کے ساتھ آ کر بات کریں۔ آپ کی تجاویز سن سکتے ہیں تو شکایات کیوں نہیں۔لہذا ہمیں کام کرنے دیں۔ ملکی اداروں پر کیچڑ نہ اچھالیں۔ کچھ تو احساس کریں۔الیکشن کمیشن انشااللہ خدا کے فضل وکرم سے اپنی آئینی ذمہ داریا ں بخوبی قانون اور آئین کی بالا دستی کے لیے احسن طریقے سے انجام دیتا رہے گا۔