Tuesday, April 16, 2024
ہومکالم وبلاگززراعت دشمن پالیسیوں کی وجہ سے کپاس کی پیدوار30 سال کی کم ترین سطح پر

زراعت دشمن پالیسیوں کی وجہ سے کپاس کی پیدوار30 سال کی کم ترین سطح پر

رواں مالی سال پیدوار ایک کروڑ 9لاکھ گانٹھ کے ہدف کے مقابلے صرف ساڑھے55لاکھ گانٹھ تک محدود
تحریر، ارمان یوسف
موجودہ اور گزشتہ حکومت کی طرف سے کپاس کی فصل کو نظر انداز کئے جانے اور زراعت دشمن پالیسیوں کی وجہ سے اہم ترین فصل کپاس تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے،رواں مالی سال کپاس کی پیدوار30 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئی ہے،حکومت کی طرف سے رواں مالی سال کپاس کی پیدوار کا ہدف ایک کروڑ 8 لاکھ 90 ہزار گانٹھ مقرر کیا گیا تھا تاہم بعد میںپیدوار 85 لاکھ 97 ہزار گانٹھ تک رہنے کی توقع ظاہر کی گئی تاہم حکومتی توقعات کے برعکس ملک میں کپاس کی پیداوار55 لاکھ 71 ہزار گانٹھوں تک محدود رہی جو 1982کے بعد کم ترین پیدوار ہے ،گزشتہ مالی سال بھی حکومت کی طرف سے کپاس کی پیدوار کا ہدف ایک کروڑ 42لاکھ گانٹھ مقرر کیا گیا تھا تاہم پیدوار صرف 98لاکھ گانٹھ تک محدود رہی ، گزشتہ تین سالوں میں کپاس کی پیدوار میں ریکارڈ 90لاکھ گانٹھ کی کمی واقع ہوئی ہے ، اس سال کپاس کی کاشت کا ہدف بھی حاصل نہ ہو سکا اور کاشت صرف 22لاکھ ایکڑ تک محدود رہی ، رواں مالی سال کپاس کی پیداوار میں دونوں بڑے صوبوں پنجاب اور سندھ میں نمایاں کمی ہوئی ،پنجاب میں اس سال کپاس کی پیدوار کا ہدف 60لاکھ گانٹھ مقرر کیا گیا تھا جس کے مقابلے میں رواں سال پیدوار صرف 34 ہزار 36 لاکھ گانٹھ تک محدود رہی جبکہ گزشتہ سال پنجاب میں کپاس کی پیدوار 50لاکھ 14ہزار گانٹھ تھی ، سندھ میں رواں مالی سال کپاس کا پیداواری ہدف 46 لاکھ گانٹھ مقرر کیا گیا تھا جس کے مقابلے میں پیداوار21لاکھ 34 ہزار گانٹھ ریکارڈ کی گئی ، گزشتہ سال سندھ میں پیدوار 34 لاکھ 72 ہزار گانٹھ رہی تھی ۔ ذرائع کے مطابق ناقص زرعی ادویات ، معیاری بیج کی عدم دستیابی اور کپاس کی بجائے گنے کو پروموٹ کئے جانے کی وجہ سے کپاس کی پیدوار میں کمی ہو رہی ہے، اس کے علاوہ آب و ہوا میں تبدیلی، گرمی کی لہر، روئی کی پتیوں پر کرل وائرس، پنک بال وارم اور سفید مکھیوں کا حملہ بھی کپاس کی کم پیداوار کی بنیادی وجوہات ہیں۔حکومت کی طرف سے دو سال 2019میں نئی کاٹن پالیسی کا اعلان کرنے اور فصل والے علاقوں کی زوننگ کرنے کے اعلانات کئے گئے تھے تاہم تاحال اس حوالے سے عمل درآمد نہیں ہو سکا ہے، کپاس کی پیداوار میں کمی کی وجہ سے رواں سال ٹیکسٹائل کا شعبہ بھی متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے ، ٹیکسٹائل ملوں کو رواں سال اپنی ضروریات پوری کرنے کیلئے ایک سے ڈیڑھ کروڑ گانٹھ تک 20فیصد مہنگی کپاس درآمد کرنا پڑے گی ۔