36

چیئرمین نیب کی توسیع کیلئے آرڈیننس تیار ،وزیراعظم نے مسودے کی منظوری دیدی

اسلام آباد، وزیر اعظم عمران خان نے چیئرمین نیب کی مدت ملازمت میں توسیع کیلئے نیب ترمیمی آرڈیننس میں ترامیم کے مسودے کی منظوری دیدی ہے ،حکومت کی طرف سے بدھ کو آرڈیننس جاری کئے جانے کا امکان ہے ، چیئرمین نیب کی تقرری کے معاملے پر حکومت نے اپوزیشن سے مشاورت کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے ۔
تفصیلات کے مطابق حکومت نے موجودہ چیئرمین نیب کی مدت ملازمت میں توسیع کا نیا حل نکال لیا۔ وزارت قانون نے نیب ترمیمی آرڈیننس کا حتمی مسودہ تیار کرلیا جس کے تحت موجودہ چیئرمین نیب کی مدت ملازمت میں اضافہ کیا جاسکے گا۔ذرائع کے مطابق چیئرمین نیب کی تقرری کے لیے وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر کی مشاورت قانون کا حصہ رہے گی اگر مشاورت نہ ہوسکی تو معاملہ پارلیمانی کمیٹی میں جائے گا تاہم قانون میں ایک نئی شق شامل کی گئی ہے جس کے مطابق نئے چیئرمین نیب کی تقرری کا عمل مکمل ہونے تک پرانے چیئرمین نیب کام جاری رکھیں گے، چیئرمین نیب کو ہٹانے کیلئے سپریم جوڈیشل کونسل سے رجوع کرنا ہوگا،نئے چیئرمین نیب کیلئے جسٹس جاوید اقبال کے نام پر بھی غور ہوسکے گا۔ علاوہ ازیں وزیر اعظم عمران خان کی سربراہی میں قانونی ٹیم کا اجلاس ہوا جس میں وزیراعظم نے نیب آرڈیننس میں ترمیم کے مسودہ کی منظوری دیدی،وزیر اعظم کی منظوری کے بعد سمری کابینہ ارکان کو بھجوائی جائے گی،سمری کی سرکولیشن کے ذریعے منظوری دی جائے گی۔مجوزہ آرڈیننس کے مطابق ٹیکس کیسز کو نیب ڈیل نہیں کرے گا اور یہ کیسز فیڈرل بورڈ آف ریونیو میں جائیں گے۔ نیب عدالتوں کے ججز کے لیے صوبائی چیف جسٹس سے مشاورت ہوگی، اگر کسی ریٹائرڈ جج کی تعیناتی کرنی پڑی تو حکومت یہ کام خود کرے گی۔ آرڈیننس کے مسودے کے مطابق ضمانت کا اختیار ٹرائل کورٹ کو دیا جائے گا۔دوسری طرف اسلام آباد میں کابینہ اجلاس کے بعد میڈیا بریفنگ کے دوران وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہا کہ چیئرمین نیب سے متعلق آرڈیننس مکمل ہو گیا، یہ آرڈیننس بدھ کو لے آئیں گے، اپوزیشن کے پاس ایسا کوئی قائد حزب اختلاف ہی نہیں ہے جو کرپشن سے پاک ہو، شہباز شریف خود نیب کے ملزم ہیں، ان سے پوچھ کر اگلا چیئرمین نیب نہیں لگایا جاسکتا، اپوزیشن کو اپنا لیڈر تبدیل کرنا چاہیے تاکہ چیئرمین نیب پر مشاورت کرسکیں۔علاوہ ازیں وفاقی حکومت نے چیئرمین نیب کی تقرری کے معاملے پر اپوزیشن کے ساتھ مشاورت کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ اٹارنی جنرل خالد جاوید نے اپوزیشن لیڈر کے ساتھ مشاورت کرنے کی تصدیق کردی۔نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے اٹارنی جنرل خالد جاوید خان نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت نے چیئرمین نیب کی تقرری کے معاملے پر اپوزیشن کے ساتھ مشاورت کرنے کا فیصلہ کیا ہے، نئے چیئرمین نیب کی تقرری تک موجود چیئرمین اپنی ذمہ داریاں سرانجام دیتے رہیں گے۔ چیئرمین نیب کو ہٹانے کا فورم سپریم جوڈیشل کونسل ہو گی، چیئرمین نیب کو ہٹانے کا طریقہ کار نئی ترامیم میں واضح کردیا ہے۔مشیر پارلیمانی امور بابر اعوان کا کہنا ہے کہ آج آرڈیننس کی کمیٹی کے بعد وزیراعظم نے منظوری دی، سیشن جج، ایڈیشنل سیشن، سابق ججز کو بھی نیب کی عدالتوں میں لگایا جائے گا، اسفند یار ولی کیس میں محترمہ شہید کا میں وکیل تھا، ریمانڈ کونہیں چھیڑا گیا، ٹرائل کورٹ کو ضمانت کا اختیار دیا گیا ہے، مختلف دفعات کی وجہ سے بزنس مین کوہراساں کیا جاتا تھا انہیں تبدیل کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ شہبازشریف کوضد کے بجائے بڑے دل کا مظاہرہ کر کے خود ہی ہٹ جانا چاہیے تھا، شہبازشریف کے ساتھ خواجہ آصف بیٹھتے ہیں انہیں اپوزیشن لیڈر کا موقع دینا چاہیے۔مشیر برائے پارلیمانی امور کا کہنا تھا کہ عمران خان کے خلاف اس وقت کوئی مقدمہ نہیں ہے، الیکشن کمیشن میں سب سے زیادہ سکروٹنی پی ٹی آئی کی ہوئی، الیکشن کمیشن میں دوسری جماعتوں نے رسیدیں نہیں دی ان کے خلاف کچھ نہیں ہورہا۔ان کا کہنا تھا کہ مشاورتی عمل تک موجودہ چیئرمین ہی عہدے پربرقراررہیں گے، 90دن تک مشاورت کا عمل مکمل کرلیا جاتا ہے۔ چیئرمین نیب کوہٹانے کے لیے سپریم جوڈیشل کونسل سے رجوع کرنا ہوگا۔ادھر نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم کا کہنا تھا کہ نیب ترمیمی آرڈیننس میں شہبازشریف سے ہی مشاورت کی جائے گی، اس وقت تک شہبازشریف سے رابطہ نہیں ہوا، قانون کہتا ہے اپوزیشن لیڈرسے مشاورت کرنی ہے، اپوزیشن لیڈرسے مشاورت کوئی بری بات نہیں۔ ایشوتب بنے گا جب آئین کی خلاف ورزی ہوگی، اس میں کسی قسم کی کوئی آئین کی خلاف ورزی نہیں ہورہی۔ اگرمعاملے میں ڈیڈ لاک ہوا توپارلیمانی کمیٹی کومعاملہ ریفرکیا جائے گا۔وفاقی وزیر قانون نے کہا کہ جو نئی ترمیم لا رہے ہیں اس میں اپوزیشن کو ایشو بنانے کا موقع نہیں ملے گا، نئے آرڈیننس میں ناقابل توسیع کا لفظ ہٹایا جارہا ہے، اپوزیشن سے مذاکرات میں ڈیڈ لاک رہا توموجودہ چیئرمین برقراررہیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کی ہدایت پرنیب ترمیمی آرڈیننس کا ڈرافٹ تیارکرلیا، ٹیکس کیسزکونیب ڈیل نہیں کرے گا، ایف بی آرمیں جائیں گے، جب تک چیئرمین نیب نئے نہیں آئے پرانے چیئرمین کام کریں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

رائے کا اظہار کریں