Thursday, June 20, 2024
ہومپاکستانعمران خان کو ہر ظلم کا حساب دینا بڑے گا، بلاول بھٹو زرداری

عمران خان کو ہر ظلم کا حساب دینا بڑے گا، بلاول بھٹو زرداری

اسلام آباد،پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ عمران خان کو ہر ظلم کا حساب دینا بڑے گا،حکومت سینٹ الیکشن کیلئے آرڈیننس لا کر آئین میں ترمیم نہیں کر سکتی 2018 کے الیکشن کی طرح اداروں کو متنازع بنا کر اب سینٹ الیکشن میں دھاندلی کروائی جائیگی،جب ریفرنس عدالت میں ہے تو آرڈیننس لا کر سپریم کورٹ دبا میں لانے کی کوشش کی جارہی ہے،عمران کا پسینہ نکل رہا ہے اور ان کو اپنے ممبرز پر اعتماد نہیں اس لئے اوپن بیلٹ کی کوشش کی جارہی ہے تاکہ ممبران کو کنٹرول کیا جاسکے،عمران خان آئے روز کوئی نہ کوئی بلنڈر کر دیتا ہے ان کو اپنا نہیں تو اپنے عہدے کا لحاظ کرنا چاہیے ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران کیا

ان کے ہمراہ فرحت اللہ بابر،مصطفی نواز کھوکھر،فیصل کریم کنڈی،ہمایوں خان اور نزیر ڈھوکی بھی تھے چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ آج خبر چلی ہے کہ حکومت آرڈیننس جاری کرکے سینیٹ اوپن بیلیٹ کے ذریعے انتخابات کرانا چاہتی ہییہ ایک سیاسی اشارہ ہے کہ سینیٹ میں مقابلہ کرنے کے بجائے آرڈیننس کا سہارا لیا جارہا ہیحکومت سینیٹ انتخابات سے پہلے ہر حربہ استعمال کرنا چاہتی ہیاداروں کو استعمال کرکے اپنے مفادات حاصل کرنا چاہتی ہیاگرحکومت آئینی ترمیم کرنا چاہتی تھی تو اس پر اتفاق رائے کرتی کسی جماعت سے اس سلسلے میں کوئی رابطہ نہیں کیا گیاہم چاہتے ہیں کہ مکمل اور جامع انتخابی اصلاحات کی جائیںحکومت نے سپریم کو متنازع بنانے کا پہلا قدم اٹھایا ہے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ سپریم کورٹ کو اس پوزیشن میں لے آئے کہ وہ جو بھی فیصلہ کرے وہ متنازع ہو جائیاب جب معاملہ عدالت میں ہے تو آئینی ترمیم لائی گئی قومی اسمبلی میں نوید قمر سمیت کسی کو بات کرنے نہیں دی گئی اب آرڈیننس بائی سرکولیشن کابینہ سے پاس کرایا جا رہا ہیاب جب معاملہ عدالت میں ہے تو کیا یہ اقدام سپریم کورٹ پر دبا ڈالا جا رہا ہے ،بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ انشا اللہ پی ٹی آئی کی دھاندلی کی ہر کوشش ناکام ہوگی ادارے اور سینیٹ انتخابات کو متنازع بنانے کی کوشش کی جا رہی ہیعمران خان کو اپنے نمبرز پر اعتماد نہیں ہے اس لیے الیکشن سے پہلے غیر آئینی اقدام اٹھایا جارہا ہے ،جہاں تک مہنگائی مارچ کے ذریعے ہم اپنا جمہوری طریقہ استعمال کر رہے ہیں پیپلز پارٹی کا یہ موقف ہے کہ 2018 میں دھاندلی ہوئی تھی2013 کے انتخابات کو آصف زرداری نے آر او الیکشن قرار دیا تھاپی ڈی ایم پارلیمنٹ کے استعفوں سے پیچھے نہیں ہٹی یہ جمہوری طریقہ کار ہے انہوں نے کہا کہ تمام جماعتوں کی قیادتوں کے پاس استعفی جمع ہوچکے ہیں اگر استعفی دیتے تو پی ٹی آئی کو سینیٹ میں اکثریت مل جاتی پی ڈی ایم کے ایکشن پلان میں واضح ہے کہ تحریک عدم اعتماد کا آپشن استعمال کیا جائے گا انہوں نے کہا کہ ہم نے جو کارڈ کھیلے ہیں اس کے تحت مل کر سینیٹ انتخابات لڑ رہے ہیں سینیٹ انتخابات میں کچھ تو فرق ہوگا،اس لیئے خان کا پسینہ نکل رہا ہے ،پاکستان کی سیاست سے اسٹیبلشمنٹ کی مداخلت سمیت بہت سے مقاصد حاصل کرنے ہیں اٹھارویں ترمیم سمیت آئین کو ریورس کرنے کی ہر کوشش ناکام ہوگی بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ سینیٹ کے انتخابات میں مجھے اپنے ارکان پر اعتماد ہے،وہ کبھی مایوس نہیں کریں گے ،کسی درانی کے ساتھ کسی لنچ پر کوئی ملاقات نہیں ہورہی پی ڈی ایم نے فیصلہ کیا کہ بات نہیں کرنی تو نہیں کریں گیاگر بات چیت کا فیصلہ ہوا تو اس پر ہم اپنی رائے دیں گیعمران خان جب بھی بولتا ہے بلنڈر کرتا ہے ان کو اپنا نہیں تو اپنے عہدے کا خیال رکھنا چاہیے ،اگر عمران خان کی طرح وہ بات میں کرتا تو سیکورٹی رسک بن جاتے ،عمران خان وزیراعظم کے عہدے پر بیٹھا ہے سوچ کر بات کریاین آر او کی رٹ لگی ہوئی ہے ،احسان اللہ احسان سمیت چینی مافیا آٹا مافیا اور پاپا جونز کو این آر او دیا گیااب عمران خان اب پی ڈی ایم سے این آر او مانگ رہا ہے ،عمران خان کو ہم بھاگنے نہیں دیں گے ،عمران خان کو ہر گناہ کا حساب دینا پڑے گاہم پی ڈی ایم کو سافٹ لائن پر نہیں لائے ۔انہوں نے کہا کہ ہم صرف اور صرف عوام کی طاقت پر سیاست کرنا چاہتے ہیں پیپلز پارٹی کو جمہوریت کا سبق نہ سکھایا جائے ہم مل کر فیصلے کر رہے ہیں،کوئی دبائو نہیں ہے ،آصف زرداری نے کوئی ایسا بیان نہیں دیا تھا کہ بلوچستان حکومت کو گرائوں گا

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔