Monday, April 22, 2024
ہومکالم وبلاگزقیادت کا فقدان

قیادت کا فقدان

عبدالصمد سیٹھی


قائداعظم کے بعد ملک میں قیادت کے فقدان نے جہاں باربار مارشل لا کو رچنے بسنے کو جگہ دی،وہیں سیاسی قیادت عدم تحفظ کا شکار رہی اور درست فیصلوں کی جگہ مقبول فیصلوں کی جانب راغب-پاکستان میں بسنے والے لوگ جنہوں نے اپنی آنکھوں میں خوشحالی کے خواب سجائے تھے وہ روٹی پوری کرنے سے قاصر رہے اور پاکستانی حکمرانوں نے بھی اسی روٹی کو ووٹ کے حصول اور اصل مسائل سے توجہ ہٹانے کیلئیخوب استعمال کیا-کبھی راشن کارڈ تو کبھی وزیرآعلی سستا آٹاسکیم کبھی سستی روٹی سکیم کے نام پر غریب آدمی کی تذلیل کی گئی اور کوشش کی گئی کہ عوام روٹی کے چکر سے ہی باہر نہ نکل سکیں،انہی عوامی فلاہی منصوبوں کے چکر میں عوام اربوں سے محروم ہوئے -آج 74 سال ہونے کو ہیں لیکن ایک آٹا جو بنیادی ضرورت ہے اور غریب آدمی کا جسم اور روح کا تعلق قائم رکھنے کیلئے واحد سہارا،ہم زرعی ملک ہونے کے باوجوداس کی بلا تعطل فراہمی میں ناکام ہیں حکومت گندم حریدتی ہے اور پھر فلور ملوں کو کوٹہ سسٹم کہ تحت گندم تقسیم کرتی ہے یہیں سے خرابی شروع ہوتی ہے کہ کوٹہ تقسیم کرتے وقت پنجاب کے 36 اضلاع میں اپنی مرضی کے مطابق کسی بھی میکنزم پر عمل کر لیا یہ سوچے بغیر کہ زمینی حقائق کیا ہیں طلب اور رسد کا فرق گرانی کا باعث ہوتا ہے آپ کس طرح روٹی کا کوٹہ طے کر سکتے ہیں کیا حکومت کے پاس ضرورت معلوم کرنے کی اہلیت نہیں مسائل کی وجہ حکومتی بے جا مداخلت بھی ہے یہ مداخلت ہی ہے جوبہت سے صحیح کاموں کو کاغذی پابندیوں میں جگڑ کر اپنا حصہ وصول کرنے کا احتیار دیتی ہیجس کا بوجھ بلآخر عام آدمی برداشت کرتا ہے-2020 اپریل میں جب گندم کی فصل آئی تو بلاشبہ تیار فصل پربارش نے فصل کی مقدار کو نقصان پہنچایا جس سے حکومت پرگھبراہٹ طاری ہو گئی بجائے اس کے کہ مشکل حالات میں حکومت اس کاروبار سے وابستہ لوگوں سے مشورہ کرتی اور صورتحال کو مشترکہ کوششوں سے بہتر کیاجاتا- گھبراہٹ میں حکومتی پابندیوں اور ریاستی طاقت کے ماحول میں اس کاروبار سے وابستہ سب سے بڑے اسٹیک ہولڈرز فلور ملنگ انڈسٹری کی نمائندہ تنظیم پاکستان فلور ملز ایسوسی ایشن (pfma) نے عزت بچانا مناسب جانا-حال یہ تھا کہ فلور مل کے لیئے منڈیوں سے گندم سے بھری گاڑیاں بزریعہ پولیس زبردستی سرکاری گوداموں میں حالی کر لی گئی لیکن کوئی پوچھنے والا نہ تھا کہ گندم اگر فلور ملوں پر نہیں پہنچے گی تو آٹا کیسے بنے گا اور عوام کو دستیاب کیسے ہو گا ایسی ریاستی طاقت دکھائی گئی کہ گندم منڈیوں میں پہنچی ہی نہیں اور غائب ہو گئی پھر وہی ہوا کہ فلور ملیں تو ہر سال کی طرح گندم خرید نہ سکیں لیکن ان لوگوں نے خرید لی جن کا اس کاروبار سے کوئی لینا دینا نہ تھا سپلائی چین ایسی بگڑی کہ پنجاب حکومت کی جانب سے41 لاکھ ٹن مقامی مارکیٹ سیاکٹھی کرنے اور 23لاکھ ٹن درآمد کرنے اور کسی بھی سال میں موجود سب سے زیادہ گندم ذحیرہ کے باوجود (ٹوٹل 64لاکھ ٹن )بحران تھمنے کا نام نہیں لے رہا کمی گندم کی نہیں فقدان ہے منصوبہ بندی کا اگر گہرائی سے دیکھا جائے تو بحران آٹے کی دستیابی کا نہیں ہے بحران ہے تو آٹے کی گرانی کا – یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ pfma کے چیئرمین عاصم رضا احمد کی تجاویز پر جو انہوں نے بارہا میڈیا پر آکر دی عمل کیا جاتا تو حالات مختلف ہوتے-اگر گندم تقسیم کرتے وقت ان تین سالوں کا ریکارڈ دیکھنے کی زحمت کی جاتی جن میں بحران نہیں تھا 2016-2017-2018 اور دیکھا جاتا کہ ان سالوں میں کس علاقے میں گندم کی کتنی کھپت تھی(کیونکہ یہی اعدادوشمار مستندہیں) اور اسی حساب سے گندم تقسیم کی جاتی تو بھی حالات محتلف ہوتے- اب حکومت سیاسی مصلحت کے تحت گندم کی امدادی قیمت بڑھانے کے درپے ہے اور وفاقی اور ایک صوبائی حکومت کے درمیان مقابلہ بھی کہ کون کسانوں کا زیادہ خیر خواہ ہے اور اس درست یا غلط فیصلے کو صحیح ثابت کرنے کیلئیسرکاری خزانے سے اربوں کے اشتہارات بھی دیئیجائیں گے حالانکہ کسان کو ریلیف دینے کیلئے گندم کی قیمت بڑھانے کی بجائے حکومت کو بیج ،زرعی دوائیاں ،اور بجلی کے بلوں میں آسانی دینی چاہئیے- ایسے ریلیف کا کیا فائدہ کہ آپ نے گندم کی قیمت بڑھا کر آٹا تومہنگا کر دیا لیکن کسان نے بیج مارکیٹ سے مہنگے خریدے زرعی دوائی لینے گیا تو وہ مہنگی بھی اور جعلی بھی ٹیوب ویل چلایا تو بجلی نہیں مجبوری میں مہنگا ڈیزل لیااور کھیت کو پانی لگایا-ضرورت ان ڈراموں کی بجائے مستقل مسائل حل کرنے کی ہے حال یہ ہے کہ حکومت اربوں روپے سالانہ صوبائی محکمہ خوراک پر خرچ کرتی ہے اور نام سبسڈی کا دیتی ہے حقیقت یہ ہے کہ یہ اربوں روپے انتظامی خرچہ ہوتا ہے نہ کہ ان پیسوں سے گندم قیمت خرید سیسستی دی جاتی ہے،یہ پیسے بچا کر حقیقی فلاہی منصوبوں پہ خرچ کیئے جائیں جس سے لوگوں کو روزگار ملے اور ان کیلئے آٹا خریدنا کوئی مسئلہ نہ رہیلیکن پھر بھی ضروری ہو تو مستحق غریب آدمی کو بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام طرز کے کسی پروگرام کے تحت نقد رقم دی جائے تاکہ وہ اس رقم سے اپنی حقیقی ضرورت پوری کر سکے یہ نہ ہو کہ ضرورت اسے ادویات کی ہو تو اسے کہا جائے کہ 200 روپے سستا آٹا لے لو ضرورت تعلیم کیلئے رقم کی ہو تو اسے کہا جائے کہ 100روپے سستا گھی لے لو- ترقی یافتہ ممالک میں بھی حکومت کی طرف سے مستحق آدمی کی مدد کی جاتی ہے لیکن ہر خاص و عام کے کیلئے چیزیں بذریعہ سبسڈی سستی کر کے نہیں بلکہ نقد رقم دے کر تا کہ صرف مستحق آدمی مستفید ہو سکے -اب وقت آگیا ہے کہ حکومت اس کاروبار سے نکلے ،جب کاروبار کاروباری آدمی کو کرنے دیا جائے گا اور حکومتی مداخلت نہیں ہو گی تو صحت مندکاروباری مقابلے کی وجہ سے بہت سے مسائل حل ہو جائیں گے آج ملک میں آٹا بنانے والی صنعت ضرورت سے چھ گنا زیادہ ہے اسی صنعت کو آپ برآمدی صنعت بناسکتے ہیں لیکن اس کیلئے آپ کو طویل مدتی حکمت عملی بنانی پڑے گی اس کا ماڈل آپ ترکی سے لے سکتے ہیں کہ ترکی میں گندم کی پیداوار اتنی زیادہ نہیں ہے لیکن گندم کی مصنوعات کی برآمد پیداوار سے زیادہ کہ وہ اپنی صنعت کو ملک میں خام مال کی کمی کی صورت میں درآمد کی اجازت دیتے ہیں اور درآمد کی گئی گندم کے مطابق آٹے کی برآمد کی اجازت بھی-اس سے محصول اور زرمبادلہ بھی آتا ہے اور روزگار کے مواقع بھی پیدا ہوتے ہیں آپ بھات کو لیلیں یورپ کے بازاروں میں آپ کو بھارتی آٹا نظر آئے گا کیا وجہ ہے کہ بھارت ڈیڈھ ارب کی آبادی کی روٹی پوری کرنے کے ساتھ ساتھ اس صنعت سے زرمبادلہ بھی کمانے میں کامیا ب ہے اور ہم ناکام-آپ کو زرمبادلہ اسی طرع اکٹھا کرنا ہے اسی طرح بہت سے دوسرے شعبے بھی ہونگیجس پر توجہ دے کر زرمبادلہ کا حصول ممکن ہیلیکن اس کیلئے ایک مضبوط یو ٹرن کے بغیر طویل مدتی حکمت عملی کی ضرورت ہے لیکن اس کیلئے آپ کو طویل مدتی حکمت عملی بنانی پڑے گی اس کا ماڈل آپ ترکی سے لے سکتے ہیں کہ ترکی میں گندم کی پیداوار اتنی زیادہ نہیں ہے لیکن گندم کی مصنوعات کی برآمد پیداوار سے زیادہ کہ وہ اپنی صنعت کو ملک میں خام مال کی کمی کی صورت میں درآمد کی اجازت دیتے ہیں اور درآمد کی گئی گندم کے مطابق آٹے کی برآمد کی اجازت بھی اس سے محصول اور زرمبادلہ بھی آتا ہے اور روزگار کے مواقع بھی پیدا ہوتے ہیں آپ بھات کو لیلیں یورپ کے بازاروں میں آپ کو بھارتی آٹا نظر آئے گا کیا وجہ ہے کہ بھارت ڈیڈھ ارب کی آبادی کی روٹی پوری کرنے کے ساتھ ساتھ اس صنعت سے زرمبادلہ بھی کمانے میں کامیا ب ہے اور ہم ناکام-آپ کو زرمبادلہ اسی طرع اکٹھا کرنا ہے اسی طرح بہت سے دوسرے شعبے بھی ہونگیجس پر توجہ دے کر زرمبادلہ کا حصول ممکن ہیلیکن اس کیلئے ایک مضبوط یو ٹرن کے بغیر طویل مدتی حکمت عملی کی ضرورت ہیلیکن اس کیلئے آپ کو طویل مدتی حکمت عملی بنانی پڑے گی اس کا ماڈل آپ ترکی سے لے سکتے ہیں کہ ترکی میں گندم کی پیداوار اتنی زیادہ نہیں ہے لیکن گندم کی مصنوعات کی برآمد پیداوار سے زیادہ کہ وہ اپنی صنعت کو ملک میں خام مال کی کمی کی صورت میں درآمد کی اجازت دیتے ہیں اور درآمد کی گئی گندم کے مطابق آٹے کی برآمد کی اجازت بھی اس سے محصول اور زرمبادلہ بھی آتا ہے اور روزگار کے مواقع بھی پیدا ہوتے ہیں آپ بھات کو لیلیں یورپ کے بازاروں میں آپ کو بھارتی آٹا نظر آئے گا کیا وجہ ہے کہ بھارت ڈیڈھ ارب کی آبادی کی روٹی پوری کرنے کے ساتھ ساتھ اس صنعت سے زرمبادلہ بھی کمانے میں کامیا ب ہے اور ہم ناکام-آپ کو زرمبادلہ اسی طرع اکٹھا کرنا ہے اسی طرح بہت سے دوسرے شعبے بھی ہونگے جس پر توجہ دے کر زرمبادلہ کا حصول ممکن ہے لیکن اس کیلئے ایک مضبوط یو ٹرن کے بغیر طویل مدتی حکمت عملی کی ضرورت ہے۔ اس کے لیئے آپ کو طویل مدتی حکمت عملی بنانی پڑے گی آپ ترکی کی مثال لے لیں ترکی میں گندم کی پیداوار اتنی زیادہ نہیں لیکن ان کی گندم سے تیار مصنوعات کی برآمدات پیداوار سے زیادہ ہیں کہ وہ اپنی صنعت کو ملک میں حام مال کم ہونے کی صورت میں گندم درآمد کرنے کی اجازت دیتے ہیں اور درآمد کی گئی گندم کے برابر آٹا برآمد کرنے کیاجازت بھی- اس سے محصول بھی آتا ہے اور زرمبادلہ بھی اور روزگار کے مواقع بھی پیدا ہوتے ہیں آپ بھارت کو دیکھ لیں کہ بھارت ڈیڑھ ارب آبادی کی روٹی پوری کرنے کے باوجود گندم سے بنی مصنوعات برآمد کر رہاہے-یورپ کے بازاروں میں آپ کو گندم سے بنی بھارتی مصنوعات نظر آئیں گی کیا وجہ ہے کہ بھارت اس صنعت سے زرمبادلہ کمانے میں کامیاب ہے اور ہم ناکام- آپ کو اسی طریقے سے زرمبادلہ اکٹھا کرنا ہے اسی طرح اور بھی شعبے ہونگے جن پر توجہ دے کر زرمبادلہ کاحصوم ممکن ہے،لیکن اس کیلئے آپ کومضبوط،طویل مدتی اور یو ٹرن کے بغیر حکمت عملی کی ضرورت ہے۔