Monday, April 22, 2024
ہوماسلام آبادلگژری گڈز پر بھاری امپورٹ ٹیرف سے سملنگ بڑھتی ہے پالیسی پر نظرثانی کی جائے،سردار یاسر الیاس خان

لگژری گڈز پر بھاری امپورٹ ٹیرف سے سملنگ بڑھتی ہے پالیسی پر نظرثانی کی جائے،سردار یاسر الیاس خان

اسلام آباد،اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر سردار یاسر الیاس خان نے کہا کہ حکومت نے تجارتی خسارے کے مسئلے سے نمٹنے کیلئے لگژری گڈز پر بھاری امپورٹ ٹیرف عائد کر دیئے تھے لیکن اس پالیسی سے معیشت کو کوئی خاص فوائد حاصل نہیں ہوئے بلکہ اس پالیسی سے ان اشیا کی سمگلنگ میں عام طور پر اضافہ ہو جاتا ہے جس سے حکومت کیلئے بھی ٹیکس محصولات میں کمی واقع ہوتی ہے۔ لہذا انہوں نے کہا حکومت کو چاہئے کہ وہ اس پالیسی پر دوبارہ غور کرے کرے اور لگژری گڈز پر عائد بھاری امپورٹ ٹیرف پرنظرثانی کرے جس سے کاروباری سرگرمیوں میں اضافہ ہو گا اورٹیکس محصولات میں بھی بہتری آئے گی۔

سردار یاسر الیاس خان نے کہا کہ لگژری گڈز کا شعبہ عام طور پر اپنے حجم کے مقابلے میں قومی خزانے کو بہتر ریونیو فراہم کرتا ہے لہذا حکومت کو اس حقیقت کو مدنظر رکھنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ لگژری گڈز پر ٹیرف کم کرنے سے سمگلنگ کا سدباب ہو گا اور کاروباری سرگرمیوں میں بہتری آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ لگژری گڈز پر ٹیرف بڑھانے سے لوگ عام طور پر بیرون ملک سفر کے دوران یہ اشیا وہاں سے خرید لیتے ہیں جس سے ان ممالک کو فائدہ ہوتا ہے لیکن ہماری معیشت کیلئے یہ چیر نقصان دہ ثابت ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے بڑے شہروں میں اب شاپنگ مالز اور شاپنگ سنٹرز کا رجحان فروغ پا رہا ہے لہذا ان مالز میں لگژری برانڈز کی موجودگی زیادہ صارفین کو اپنی طرف متوجہ کرتی ہے جس سے مقامی مصنوعات کی خریداری کی بھی حوصلہ افزائی ہوتی ہے تاہم لگژری سامان پر امپورٹ ٹیرف میں اضافہ مالز میں گاہکوں کی ٹریفک میں کمی کا سبب بنتا ہے جس سے معاشی سرگرمیاں متاثر ہوتی ہے جبکہ مالز میں بین الاقوامی برانڈز کی عدم دستیابی صارفین کو بھی مایوس کرتی ہے۔آئی سی سی آئی کے صدر نے کہا کہ حکومت لگژری گاڑیوں پر بھی بھاری امپورٹ ٹیرف کم کرے کیونکہ یہ گاڑیاں پاکستان میں نہ تیار ہوتی ہیں اور نہ ہی اسمبل ہوتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان گاڑیوں پر امپورٹ ٹیرف کم کرنے سے نہ صرف ان کے مخصوص صارفین کی ضرورت پوری ہو گی بلکہ حکومت کے ٹیکس ریونیو میں بھی اضافہ ہو گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت پانچ سال اور تین سال پرانی گاڑیوں کو امپورٹ کرنے کی بھی اجازت دے جس سے ٹیکس محصولات میں اضافہ ہو گا اور عوام کو بھی ایسی گاڑیاں خریدنے کا موقع ملے گا۔سردار یاسر الیاس خان نے کہا کہ ہماری معیشت میں امپورٹ ٹیکسوں میں اضافے کا رجحان فروغ پا رہا ہے کیونکہ رواں مالی سال کی پہلی ششماہی کے دوران ایف بی آر نے درآمدات سے 441ارب روپے کا سیلز ٹیکس اکھٹا کیا ہے تاہم انہوں نے کہا کہ درآمدات پر سیلز ٹیکس میں اضافے سے کاروبار کرنے کی لاگت میں اضافہ ہوتا ہے اور عوام کے لئے بھی قیمتوں میں اضافہ ہوتا ہے لہذا حکومت کو چاہئے کہ اس پالیسی پر نظر ثانی کرے۔