Saturday, June 15, 2024
ہومکالم وبلاگزپاکستان ، اسلامی نظام اور سیاسی جماعتیں

پاکستان ، اسلامی نظام اور سیاسی جماعتیں

پاکستان ، اسلامی نظام اور سیاسی جماعتیں
تحریر ۔سید وسیم احمد زیدی
یہ بات تاریخی حقیقت کے طور پرتسلیم شدہ ہے کہ مدینے کی ریاست ایک ایسی رول ماڈل ریاست تھی جو آج چودہ صدیاں گزر جانے کے بعد بھی اپنی خوبیوں میں اپنے وقت کی بہترین پُر امن اورخوشحال ریاست کے طور پر تسلیم کی جاتی ہے خوشحالی ایسی کہ زکوٰة دینے والے تھے لینے والاکوئی نہیں تھا امن و امان قابلِ رشک تھا یہ بھی ایک تسلیم شدہ تاریخی حقیقت ہے کہ مدینہ کی ریاست کے سنہری دور میں یورپ اور آج کی مغربی تہذیب او ر تاریک دور سے گزر رہی تھیں مغربی نشاةِ ثانیہ کا آغاز سولھویں صدی عیسوی سے ہوا تاریخ کی اس حقیقت سے کسی کو انکار ممکن نہیں لیکن یہ راقم کا موضوع نہیں، موضوع مدینہ کی ریاست ہے مدینے کی ریاست کے خدوخال 21ویں صدی کے تناظر میںبیان کرنے یاتجویزکرنے سے پہلے راقم چند سوالات علماء و مشائخ عصر کے سامنے رکھنا چاہتا ہے:پہلا سوال: اللہ سبحانہ تعالیٰ نے نبوت و رسالت کا دروازہ خاتم النبین ۖ کی رسالت کے بعد قیامت تک کیلئے بند کرنے کے بعد انسانوں کی رُشد وہدایت کا کیا انتظام کیاہے؟دوسرا سوال: قرآنِ کریم ہمیں صرِیحاً بتلاتا ہے کہ رسولِ اکرم ۖ کے درج ذیل 4 فرائضِ نبوی تھے اور وہی فرائض تمام نبییوں کے رہے ہیں۔کیا یہ درست نہیں ہے؟ الف) یتلو علیھِم آیٰتہ تلاوتِ قرآن ب) وَیُزکیھِمْ تذکیہ نفس ج) ویُعلمُ الکتاب کتاب کی تعلیم د) والحکمہ حکمت کی تعلیم پہلے اور دوسرے سوال کو ملا کر تیسرا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ تیسرا سوال: قیامت تک آنے والے انسانوں کے لئے یہ 4 فرائض ادا کرنا اب کس کی ذمہ داری ہے؟راقم کے تمام سوالوں پر قارئین شائد حیران ہونگے لیکن میرا سوال فکر و نظر اور قلب و دماغ کی کربناک اذیّیتوں سے گزر کر تشکیل پایا ہے، سرِدست راقم ‘مدینہ کی ریاست ‘ 21 صدی کے خدو خال پر بات کرنا چاہتا ہے، اس لئے یہ سوالات نہ صرف ناگزیر ہیں بلکہ مدینہ کی ریاست کے خدوخال میں بہت کلیدی نکات کا درجہ رکھتے ہیں۔راقم کے علم و فہم کی حد تک’مدینہ کی ریاست’ کی بات سب سے پہلے قائدِ اعظم محمد علی جناح بانیِ پاکستان نے کی تھی اور پاکستان کو دو قومی نظریہ کی بنیاد پر ایک آزاد اسلامی ریاست کے طور پرحاصل کیا گیا ۔ بد نصیبی بانیِ پاکستان قائدِ اعظم محمد علی جناح کو مہلتِ عمر نہ ملی اور ملکی حالات کی ستم ظریفی کی ان کی رحلت کے بعداُن جیسی قیادت پاکستان کو نصیب نہ ہوئی اور ستم بالائے ستم پاکستان کی مذہبی اشرافیہ اپنے فرائض منبر و محراب کو کما حقہ’ تو دُور کی بات ہے برائے نام بھی ادا کرنے سے قاصر رہی فرائضِ منبر و محراب کی ادائیگی میں جہاں شعوری ادراک کا فقدان رہا وہاں سماجی و معاشی اور مسلکی مسائل شعوری ارتقاء کے سفر میں حائل رہے حکومتی سطح پر بھی کسی حکمران بشمول مردِ مومن مردِ حق ضیاء الحق بھی ”مدینہ کی ریاست ”کے تصور سے پورے دور اقتدار میں عملاًنا آشناء رہے۔ اگرچہ ریاست میں نظامِ زکوٰة اور نظامِ صلوٰةکے قیام کا سہر ا انہیں کے سر پر ہے۔ پاکستانی تاریخ کا 13واں الیکشن جو 25 جو لائی2018 کو منعقد ہوا اس میں ایک مغربی تعلیم یافتہ نوجوان جو ”کھلنڈرا” کی شہرت رکھتا تھا مشیتِ ایزدی سے اقتدار کی کرسی پر فائز ہوا اور وزیرِ اعظم بنا اسکے قلب ودماغ میں ”مدینہ کی ریاست” کا تصور بیدار ہوا جس کا اس نے اعلان بھی کر دیا۔” مدینہ کی ریاست” کے خدوخال پر موثر لائحہ عمل کی تجاویز کے ساتھ کر نے کے عملی کام کی چیک لسٹ پیش کرے گا 1۔ مسلمانوں کے معاشرے میں مسجد کا اصلی اور حقیقی رول: یہ بات تاریخی طور پر دورِ نبوت اور دورِ خلافت ِراشدہ سے ثابت ہے کہ مسجدِ نبوی مسلمانوں کے معاشرے میں نہایت اہم کردار کی حامل رہی ہے پاکستان میں مساجد ملک کے کونے کونے میں موجود ہیں، مسجد جہاں 5 وقت اذان بلند ہوتی اور 5 وقت نماز ادا ہوتی ہے صدیاں گزر گئیں کبھی اذان اور نماز کا ناغہ نہیں ہوتا ایک سروے کے مطابق پاکستان کی 80 فیصدمسلمان آبادی مسجد سے وابستہ ہے پنج وقتہ نماز سے لیکر نمازِ جمعہ تک عیدین کی نماز کو شامل کریں تو تعداد 80 فیصد سے زیادہ بنتی ہے، چنانچہ80 فیصد مسلمان آبادی مختلف مسالک کی بنیاد پر مساجد کی مقتدی شمار کی جاتی ہے:بقیہ 20 فیصد آبادی کا بیشتر حصہ اپنے اپنے مذاہب کی عبادت گاہوں میں اپنے اپنے اوقات میں جاتا ہے جسکی تقسیم یوں ہے:گویا آبادی کاکم و بیش 90 فیصد حصہ اپنے اپنے دینی مراکز سے وابستہ ہے اور اپنے اپنے دینی راہنما کو سنتا ہے اور حسبِ ضرورت ان سے منسلِک ہے اوراپنے مسائل اور امورمیں ان سے رجوع کرتا ہے خواہ نکاح ہو یا جنازہ یا رسوماتِ مرگ بمطابق مذہب اپنے اپنے طریقہ پر کاربند ہے۔یہی وہ مقامی قیادت ہے جس کو مقامی اورقومی ضرورت کے تحت مقامی اور قومی دھارے میں لا کرانفرادی اور قومی کردار سازی کیلئے درج ذیل مقاصد کیلئے بروئے کار لایا جا سکتا ہے: 1۔اچھا انسان 100فیصد آبادی کیلئے ٹارگٹ 2۔ اچھا پاکستانی 100 فیصد آبادی کیلئے ٹارگٹ 3۔اچھا مسلمان مسلمان آبادی کیلئے ٹارگٹ…!مدینہ کی ریاست کیلئے یہی 3 اہداف مقررکر لئے جائیں اور ان 3 اہداف کے حصول کیلئے جُملہ پالیسی سازی، قانون سازی اور قوتِ نافذہ کی تشکیل کی جائے تو کوئی وجہ نہیں کہ انتہا پسندی اعتدال پسندی میں پاکستان کا عوامی ہجوم ایک منظّم قوم میں تبدیل نہ ہو۔پاکستان میں قوتِ نافذہ کے طور پرپہلے سے بہت سارے ادارے موجود اورسرگرمِ عمل ہیں صِرف اور صِرف پالیسی سازی اور قانون سازی کے ذریعے اشتراکِ عمل کی ضرورت ہے یہی وہ سمت ہے جس کی جانب مدینہ کی ریاست کے دعویدار حکمرانوں کو اپنا سفرشروع کردینا چاہیے جتنی جلدی سفر شروع ہو گااتنی ہی جلدی قدم بہ قدم اور دن بدن تبدیلی اور بہتری کا عمل شروع ہوجائے گا ان شاء اللہ ۔قیامِ پاکستان کو72 سال ہونے کو ہیںلیکن کسی بھی شعبے میں تبدیلی اور بہتری کے عمل کے لئے درست سمت کی جانب سفر شروع نہیں کیا گیا چنانچہ نوبت ایں جارسید کہ ہرہر شعبہ زوال اور انحطاط کا شکار اور تباہ حال ہے، تبدیلی اور بہتری کیلئے انقلابی اقدامات کرتے ہوئے مدینہ کی ریاست کے خواب کو شرمندہِ تعبیر کرتے ہوئے درست سمت کی جانب سفر کا فوری آغازنہ صِرف ضروری بلکہ قومی زندگی اور موت کا مسئلہ ہے اگرچہ حکومت کے تین سال ہونے کو ہیں لیکن ہنوزعملی پیش رفت صفرہے۔
سفر ہے شرط مسافر نواز بہتیرے
ہزارہا شجرِ سایہ دار راہ میں ہیں
مذکورہ بالا 3 اقدامات محض خیالی یا نظری (Theoretical or conceptual) نہیں ہیں بلکہ نہایت عملی ہیں، دنیا کا کون شخص اچھا انسان بننے سے انکار کرے گا یا اچھے انسان کے دعوے سے دست بردار ہو گا جبکہ ہر شخص اپنے تئیں خود کو اچھا انسان ہی سمجھ رہا ہوتاہے لیکن اچھے انسانی اوصاف سے عاری ہوتا ہے اچھے انسان کے عمومی اوصاف درج ذیل ہیں:اچھا انسان پابند ہوتا ہے: 1)انسانیت کے ڈسپلن کا 2)اپنے ملک کے ڈسپلن کا 3)اپنے خاندان اور معاشرے کے ڈسپلن کا 4)کاروبار یا ملازمت کے ادارے کے ڈسپلن کا باالفاظِ دیگر 1) اچھا انسان سچ بولتا ہے 2) اچھا انسان کسی کو تکلیف پہنچاتا ہے نہ حق مارتا ہے 3) اچھا انسان رشوت نہ لیتاہے نہ دیتا ہے ( 4) اچھا انسان اپنافرض منصبی دیانت داری سے ادا کرتا ۔لہٰذا راقم مذکورہ بالا اہداف کے حصول کیلئے عملی اقدامات کی جانب بڑھتا ہے ۔کسی بھی ریاست میں ایک فرد( شہری) کی خدمت کے حوالے سے ہم ریاستی اور غیر ریاستی اداروں کا جائزہ لیں تو درج ذیل ادارے نمایاں طور پر سامنے آتے ہیں جو فرد کی کسی نہ کسی نوعیت کی خدمت آج بھی کر رہے ہیں: 1 ۔ یونین کونسل… ریاستی ادارے 2۔ پولیس سٹیش 3۔مسجد / غیر ریاستی ادارہ 4۔ ڈسپنسری / ہسپتال 5۔ سکول 6۔ پوسٹ آفس ۔آبادی کی دیہی اور شہری تقسیم کے حوالے سے دیگر ادارے بھی ہیں اس طرح فہرست طویل بن جاتی ہے لیکن راقم اپنے موضوعِ گفتگو کے حوالے سے صرف3 اداروں کے اشتراکِ عمل سے فرد کی اصلاح کردار سازی او ر اچھا انسان بنانے کی کاوشوں کا آغاز گراس روٹ سطح سے کرنا تجویز کرتا ہے جو بالآخر قومی سطح کی تبدیلی کا پیش خیمہ ہو گا یہ کام اگر 1947 سے شروع ہوتا تو15-20 سال میں مکمل ہو جاتا آج بھی اگر شروع ہو گا تو 15-20 سال میں ہوہی جائے گا ان شاء اللہ العزیز 100 فیصد نہ سہی 90 فیصد تبدیلی کی امید کی جا سکتی ہے تاریخِ انسانی میں کوئی تہذیب اور کوئی تمدن ایسانہیں گزراجہاں معاشرہ 100 فیصد اچھے انسانوں پر مشتمل ہو اللہ رب العزت کا ڈیزائن ہی یہ نہیں ہے جیسا کہ قرآنِ حکیم میں ہمیں معلوم ہوتا ہے آج بھی تہذیبِ جدید میں ترقی یافتہ ریاستوں میں جرائم کی شرح صِفر نہیں ہے۔چنانچہ مسجد کو پاکستان اور آزاد کشمیر میں انفرادی اور اجتماعی اصلاح و تربیت اور کردار سازی کیلئے مرکزو محور بنایا جائے، اسی طرح معاشرے میں مسجد کی عظمت ِرفتہ کوبحال کرنے کاموقعہ ملے گا یہ امر مسلمہ حقیقت کے طور پرتسلیم شدہ ہے کہ ریاستِ مدینہ میں ” مسجدِ نبوی” کو ایک مرکزی مقام حاصل تھا اورمسجدِ نبوی ہی انفرادی ،اجتماعی، ریاستی اور بین الاقوامی سرگرمیوں کا مرکزو محور تھی مسجدِ نبوی ایوانِ حکومت تھی ایوانِ پارلیمان تھی اور ایوانِ عدالت بھی مسجدِ نبوی کی یہ حیثیت ایک عرصہ برقرار رہی کم از کم خلافتِ راشدہ کے دور میں تو صِرف مسجدِ نبوی ہی رہی بعد میں قصرِ شاہی اور ایوان ِ پارلیمان او ر ایوانِ قضاء الگ الگ تعمیر ہوئے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔