اسپیکر راجہ پرویز اشرف سے افریقی بلاک کے ممبر ممالک کے سفراء کی ملاقات

اسلام آباد-اسپیکر راجہ پرویز اشرف سے آئی پی یو افریقی بلاک کے ممبر ممالک کے سفرء کی ملاقات۔ ملاقات میں موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ ترقی پذیر ممالک کو ہونے والے نقصانات کے ازالے کے لیے روانڈا میں ہونے والی جنرل اسمبلی اجلاس میں قومی اسمبلی آف پاکستان کا عالمی فنڈ کے قیام کے لیے آئی پی یو کے جنرل سیکرٹری کو ایمرجنسی ایجنڈا آئٹم کے ذریعے ہنگامی قرارداد پیش کرنے کے لیے خط ارسال کرنے سے متعلق سفرا کو آگاہ کیا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کو اس وقت موسمیاتی تبدیلیوں سے پیدا ہونے والی زہریلی گیسوں کی وجہ ماحولیاتی تباہی کا سامنا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کا زہریلی گیسوں کے اخراج میں 1فیصد سے بھی کم حصہ ہے۔انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ پیدا ہونے والی سیلابی صورتحال نے پاکستان کا ایک تہائی حصہ پانی میں ڈوبا ہوا ہے۔ اسپیکر نے کہا کہ افریقی بلاک کے آئی پی یو ممبر ممالک کو بتایا کہ اس میٹنگ کا مقصد افریقی ممبران پارلیمنٹ کی قومی اسمبلی کی طرف سے 11 سے 15 اکتوبر کو روانڈا میں ہونے والی 145ویں آئی پی یو جنرل اسمبلی اجلاس میں قرارداد کی منظوری کے ذریعے عالمی موسمیاتی فنڈ کے قیام کی تجویز کے لیے حمایت حاصل کرنا تھا۔ سپیکر نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی 21ویں صدی کے سب سے بڑا چیلنج ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں حالیہ بارشوں اور سیلاب سے ہزاروں افراد اپنی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں جبکہ لاکھوں لوگوں کا معاش براباد ہو چکا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ آج پاکستان اس تباہی کا نشانہ بنا کل کوئی اور ملک بھی ہو سکتا ہے۔انہوں نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ برے اعظم ایشیا اور افریقہ دونوں میں ترقی پذیر ممالک کو درپیش خطرات کے بارے میں دنیا کو آگاہ کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی برادری پاکستان کی حمایت کے لیے آگے تاکہ ترقی پزیر ممالک کو موسمیاتی تبدیلیوں سے ہونے والی تباہی سے سے بچایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان مدد نہیں مانگ رہا بلکہ اس کا جائز حصہ مانگ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قومی اسمبلی نے تمام افریقی پارلیمانوں کو خطوط بھیجے ہیں جس میں اسمبلی کی تجویز کی حمایت کی درخواست کی گئی ہے۔ انہوں نے افریقی بلاک کے ممالک ممبر ممالک کے سفیروں پر زور دیا کہ وہ موسمیاتی انصاف کی جدوجہد میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں۔ افریقی سفارت کاروں نے سپیکر کی تجویز کی تائید کی اور انہیں یقین دلایا کہ وہ اپنے اپنے ممالک کی قیادت کو پاکستان کی آئی پی یو کی جنرل اسمبلی اجلاس میں پاکستان کی تجویز کی حمایت پیغام پہنچائیں گے۔ افریقی بلاک کے سفرا نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی افریقہ میں موسمیاتی تبدیلیاں زیادہ درجہ حرارت، خشک سالی، بارش کے بدلتے ہوئے نمونوں اور موسمیاتی تغیرات میں اضافہ انسانی ترقی میں رکاوٹ بن رہی ہیں۔ملاقات میں شریک شرکا نے اس تجویز سے اتفاق کیا کہ موسمیاتی تبدیلی ایک عالمی مسئلہ ہے اور اجتماعی کوششوں کے ذریعے اس مسئلے کا حل ممکن ہو سکتا ہے۔ اجلاس میں مصر، کینیا، ماریشس، مراکش، ایتھوپیا، نائجیریا، جنوبی افریقہ، صومالیہ اور لیبیا کے مندوبین نے شرکت کی۔

رائے کا اظہار کریں