Thursday, April 18, 2024
ہومپاکستانملک کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے حزب اقتدار اور حزب اختلاف کو سرگرم کردار ادا کرنا ہو گا،اسپیکر قومی اسمبلی

ملک کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے حزب اقتدار اور حزب اختلاف کو سرگرم کردار ادا کرنا ہو گا،اسپیکر قومی اسمبلی

اسلام آباد،اسپیکرقومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا کہ ملک کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے حزب اقتدار اور حزب اختلاف کو سرگرم کردار ادا کرنا ہو گا،ایوان میں خوشگوار ماحول میں بحث اور قانون سازی پارلیمان کے تکریم میں اضافہ کرے گی،موجودہ انتخابی عمل میں شفافیت وقت کی اہم ضرورت ہے،اپوزیشن کو پارلیمانی کمیٹی کے قیام کے لیے خطوط لکھ دیے ہیں جواب کا انتظار ہے۔جمعرات کو اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر سے چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے ملاقات کی ،قائد ایوان سینٹ ڈاکٹر شہزاد وسیم بھی اس موقع پر موجود تھے ۔ملاقات میں ملکی سیاسی اور پارلیمانی امور سمیت دیگر اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔اسپیکرقومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا کہ ملک کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے حزب اقتدار اور حزب اختلاف کو سرگرم کردار ادا کرنا ہو گا،ایوان میں خوشگوار ماحول میں بحث اور قانون سازی پارلیمان کے تکریم میں اضافہ کرے گی۔ اسد قیصر نے کہا کہ موجودہ انتخابی عمل میں شفافیت وقت کی اہم ضرورت ہے،اپوزیشن کو پارلیمانی کمیٹی کے قیام کے لیے خطوط لکھ دیے ہیں جواب کا انتظار ہے۔اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ مستقبل کے لیے انتخابی عمل پر اعتماد کو بحال کرنا اپوزیشن اور حکومت کی مشترکہ ذمہ داری ہے،انتخابی اصلاحات کی لیے پارلیمانی کمیٹی کے قیام اپوزیشن کی جانب سے نام وصول ہونے پر نوٹیفکیشن جاری کر دیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ سینٹ میں قائد حزب اختلاف سے ہونے والا رابطہ خوش آئند تھا، پیپلز پارٹی کا قومی اسمبلی میں ماحول کو سازگار بنانے اور اپنے تعاون کا یقین دلانا قابل ستائش ہے۔اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا کہ پی پی پی کی جانب سے ایوان کا ماحول کو خوشگوار بنانے کے لیے اپنے تعاون کی یقین دہائی اور اس سلسلے سید نوید قمر کا بطور فوکل پرسن تقرر سیاسی بالغ نظری کا مظہر ہے،۔چیئرمین سینیٹ نے اسپیکر قومی اسمبلی کی پارلیمانی نظام کو مزید مضبوط بنانے کے لیے کوششوں کی تعریف کی اور کہا کہ انتخابی اصلاحات وقت کی اہم ضرورت ہے اور کمیٹی کا جلد قیام مثبت قدم ہو گا۔قائد ایوان سینٹ ڈاکٹر شہزاد وسیم نے کہا کہ حکومت پارلیمانی نظام کی مضبوطی کے لیے تمام تر معاملات کو افہام وتفہیم سے حل کرنا چاہتی ہے۔