shireen mizari 67

اسلام آباد میں پہلے ٹرانس جینڈر پروٹیکشن سنٹر کا افتتاح

اسلام آباد،وزیر انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری نے اسلام آباد میں پہلے ٹرانس جینڈر پروٹیکشن سنٹر کا افتتاح کیا۔ وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری نے ایچ نائن فور اسلام آباد میں پاکستان کے پہلے ٹرانس جینڈر پروٹیکشن سنٹر کا افتتاح کیا۔ تقریب میں حاضرین سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر شیریں مزاری نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ پاکستان کے دیگر شہروں میں ٹرانس جینڈر پروٹیکشن سنٹر قائم کیا جائے گے تاکہ پاکستان کی خواجہ سرا برادری کو مرکزی دھارے میں لایا جا سکے اور ان کے حقوق کو یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے مزید اس بات پر زور دیا کہ خواجہ سرا برادری کو وہی روزگار اور صحت کے حقوق فراہم کیے جائیں جیسے پاکستان کے دیگر شہریوں کو دیے جاتے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ پی ٹی آئی حکومت نے خواجہ سرا برادری کو احساس پروگرام اور ہیلتھ کارڈ کے اقدامات میں شامل کیا جس کا مقصد ان کو ترقی کے مواقع فراہم کرنا ہے۔ ڈاکٹر مزاری نے یہ بھی بتایا کہ ٹرانس جینڈر پروٹیکشن سینٹر قانونی امداد ، صحت کی بنیادی سہولیات ، نفسیاتی مشاورت اور عارضی پناہ گاہ بھی فراہم کرے گا۔وزارت انسانی حقوق نے خواجہ سراوں(حقوق کا تحفظ) ایکٹ 2018 کے مثر نفاذ کے لیے مختلف اقدامات کیے ہیں جس کا مقصد خواجہ سرواں کے تحفظ ، بحالی اور بنیادی حقوق کو یقینی بنانا ہے جیسا کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان 1973 کے آئین کی میں ہر شہری کوضمانت دی گء ہے ٹرانس جینڈر پروٹیکشن ایکٹ کے سیکش چھ (اے)کے تحت وزارت انسانی حقوق نے 35.8 ملین لاگت سے ایک ٹرانس جینڈر پروٹیکشن سنٹر قائم کیا ہے۔ یہ مرکز ٹرانس جینڈر افراد کو بحالی ، قانونی اور طبی ، نفسیاتی دیکھ بھال کی سہولیات اور ریفرل خدمات بھی فراہم کرتا ہے۔ اس سے عام لوگوں اور متعلقہ سٹیک ہولڈرز میں بیداری شعور پیدا کرنے میں بھی مدد ملے گی۔اس تقریب میں پارلیمانی سیکرٹری برائے انسانی حقوق مسٹر لال چند ، سیکرٹری ، وزارت انسانی حقوق جناب انعام اللہ ، وزارت انسانی حقوق کے عہدیداران ، اور خواجہ سرا کارکنان اور ان کی برادری کے نمائندے اور میڈیا پرسنز نے بھی شرکت کی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

رائے کا اظہار کریں