Monday, April 22, 2024
ہومتازہ ترینسینٹ الیکشن میں مسلم لیگ(ن)نے پیپلز پارٹی اور پیپلز پارٹی نے جے یو آئی کی پیٹھ میں چھرا گھونپا ، شبلی فراز

سینٹ الیکشن میں مسلم لیگ(ن)نے پیپلز پارٹی اور پیپلز پارٹی نے جے یو آئی کی پیٹھ میں چھرا گھونپا ، شبلی فراز

اسلام آباد،وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف قومی اسمبلی اور سینٹ میں سب سے بڑی جماعت بن کر ابھری ہے حکومت انتخابی معاشی اور عدلیہ اصلاحات ، عوام کی فلاح و بہبود کے ایجنڈے کو آگے بڑھائے گی ،اپوزیشن اگر اس میں ہمارا ساتھ دینا چاہے تو اس کا خیر مقدم کرینگے، سینٹ الیکشن میں مسلم لیگ(ن)نے پیپلز پارٹی اور پیپلز پارٹی نے جے یو آئی کی پیٹھ میں چھرا گھونپا ہے ، کسی بھی شارٹ یا لانگ مارچ کی کوئی پروا نہیں ، اپوزیشن کو اسلام آباد میں ایک گملا بھی نہیں توڑنے دیں گے ، پی ڈی ایم قصہ پارینہ بن چکی ہے ، اس میں شامل تمام جماعتیں عوام کا خون چوسنے اور ملکی خزانے کو بے دردی سے لوٹنے پر قوم سے معاف مانگ کر کفارہ ادا کریں ،وزیراعظم نے الیکشن کو شفاف بنانے کے لئے ہمیشہ اوپن ووٹنگ پر زور دیا اور اپوزیشن ووٹوں کی خریدوفروخت کر کے سیکرٹ بیلٹنگ چاہتی تھی ، سینٹ کا انتخاب عام انتخاب سے مختلف ہے یہاں ہاوس چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کا انتخاب رولز کے تحت کرتا ہے ،اگر اپوزیشن اس معاملے پرعدالت یا کسی بھی فورم پر جانا چاہیں تویہ ان کی اپنی مرضی ہے ، وہ ہفتہ کو پی آئی ڈی میں پریس کانفرنس سے خطاب کررہے تھے ۔

وفاقی وزیر اطلاعات سینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ ہمارے ملک میں جمہوری عمل کا مرحلہ مکمل ہو چکا ہے۔ نومنتخب چیئرمین سینٹ صادق سنجرانی ، ڈپٹی چیئرمین مرزا آفریدی اور پاکستانی عوام کو مبارکباد پیش کرتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ صادق سنجرانی بلوچستان سے تعلق رکھتے ہیں اور وزیراعظم عمران خان کی دیرینہ خواہش تھی کہ وہ علاقے جو ماضی میں نظر انداز کیے گئے ان کے لئے عملی طور پر کچھ کیا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ سابقہ فاٹا بھی بہت پیچھے رہ گیا تھا اس کی ترقی کے لئے وزیراعظم نے فاٹا کا خیبر پختونخوا میں انضمام کیا ، یہ ایک مشکل کا م تھا ، صدیوں سے چلنے والے نظام کو احسن طریقے سے خیبر پختونخوا میں ضم کیا گیا اور اس علاقے کی ترقی کے لئے 100ارب کا فنڈ دیا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ تاریخ میں پہلی مرتبہ بلوچستان اور فاٹا کو بطور سینٹ کے چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین نمائندگی دی گئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت سمجھتی ہے کہ ادارے اپنا اپنا کام کرتے ہوئے عوام کی خدمت کریں ، اور ترقی کے لئے اپنا کردار ادا کریں ۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ کا کام قانون سازی کرنا ہے جو براہ راست عوام کے لئے ہوتی ہے لیکن پچھلے اڑھائی سالوں میں بدقسمتی سے پنجاب سے مسلم لیگ(ن) اور دیہی سندھ کی علاقائی جماعت پیپلز پارٹی نے قوانین اور اصلاحات کو منظور نہیں ہونے دیا ۔اپوزیشن کی سیاست کا مقصد ذاتی فوائد حاصل کرنا ہے یہ ایسے لوگوں کو پارلیمنٹ میں لانا پسندکرتے ہیں جو خاص گروہ کے مفادات کا تحفظ کر سکیں انہی بنیادوں پر پچھلے 30 سے 35 سالوں کی سیاست نے اداروں کو مفلوج ، اور عوام کو انصاف اور خوشحالی سے محروم رکھا ۔ اس دوران عوام کے لئے تو کچھ نہیں ہوا لیکن نواز شریف اور آصف علی زرداری اور انکے خاندانوں نے لندن ، امریکہ اور بیرون ممالک میں اپنی جائیدادیں اور فیکٹریاں بنائیں ،جب یہ لوگ سیاست میں آئے تو ایک فیکٹری تھی اور اب29فیکٹریاں ہیں ۔انہوں نے کہا کہ عوام نے عمران خان کے عزم اور بے داغ قیادت پر اعتماد کرتے ہوئے 2018کے الیکشن میں بھاری مینڈیٹ سے کامیاب کرایا۔ عمران خاان چاہتے ہیں کہ پارلیمنٹ میں آنے والے لوگوں کے لئے ایک معیار اور ایسا طریقہ کار ہو جس میں یپسے کی سیاست نہ ہو ،قابلیت اور اہلیت کی بنیاد پرلوگ پارلمینٹ میں آئیں اورعلاقے کے عوام کی آواز بلند کریں ۔ اسی انتھک محنت کے بعد آج پی ٹی آئی قومی اسمبلی اور سینٹ میں سب سے بڑی پارٹی بن کر ابھری ہے۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ 40سال سیاست کرنے والے پارٹیاں آج علاقائی پارٹیاں بن چکی ہیں ۔ اپوزیشن نے کبھی بھی قانون کی بالادستی نہیں چاہیے کیونکہ یہ انکے مفادات کے راستے میں وکاوٹ بنتی ہے ۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں حکومت کی محنت کے ثمرات آنا شروع ہو چکے ہیں ۔آج ملک میں ریکارڈ ترسیلات آرہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مہنگائی چیلنج ہے۔ وزیراعظم نے اپنی پوری توجہ اسی پر مرکوز کی ہوئی ہے روزانہ کی بنیاد پر مہنگائی پر قابو پانے کے اقدامات کی نگرانی کر رہے ہیں ۔وفاقی وزیر سینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ سینٹ کے الیکشن بارے میں اپوزیشن کہتی ہے کہ انھیں سمجھ نہیں آئی ،ان کو تب سمجھ آنا تھا جب ان کے امیدوار جیت جاتے ۔انہوں نے کہا کہ عمران خان نے ہمیشہ شفاف الیکشن کے لئے بات کی اور عملی اقدامات اٹھائے ، سینٹ کے الیکشن اوپن بیلٹ سے کرانے کے لئے سپریم کورٹ سے رجوع کیا ،ایوان میں بل لائے اور صدارتی آرڈیننس جاری کیا ۔ اپوزیشن میثاق جمہوریت میں کہتی آئی ہے کہ ووٹ اوپن ہونے چاہیے لیکن اس موقع پر اوپن ووٹ کی شدید مخالفت کی دراصل اپوزیشن پیسے اور دھونس کی سیاست جاری رکھنا چاہتی تھی ،اگر وزیراعظم کی بات مان لیتے تو آج انھیں سب سمجھ آجاتا ۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن سے تعلق رکھنے والے سینیٹرز رضا ربانی ، فاروق نائیک اور دیگر وکلا نے ایوان میں بیٹھ کر الیکشن کا عمل دیکھا ، یہ حیرت انگیز بات ہے کہ یوسف رضا گیلانی کے نام پر مہر کو درست اور سنجرانی کے نام پر مہر کو غلط کہہ رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم غیر فطری اتحاد ہے اس میں شامل جماعتوں کے مفادات میں تضادات اور راستے مختلف ہیں ،تو ایک منزل کیسے ہوسکتی ہے ۔ یہ این آر او کی صورت میں ذاتی ریلیف چاہتے تھے ،بلاول بھٹو اور طلال کے درمیان مکالمہ نے ثابت کر دیا کہ یہ ایک دوسرے کے خیر خواہ نہیں ہیں ۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ چور کی ڈارھی میں تنکا ہوتا ہے ، اس دفعہ ہم تیار تھے ، ووٹ خریدو فروخت کرنے والوں پر ہماری نظر تھی ۔ ہم نے الیکشن کو شفاف بنانے کے لئے آئینی، سیاسی اور اخلاقی راستے استعمال کیے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ملک میں معیشت بحالی کے سفر پر ہے ،ہمارا محور عوام اور انکی تکالیف کو دور کرنا ہے ، پی ڈی ایم پیچھے رہ گئی ہے ان کی تدفین ہوچکی ہے ۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سینٹ الیکشن عام الیکشن نہیں تھا ،ہاوس کا اپنا الیکشن تھا ، اس پر عدالتوں پر جانے سے کوئی کسی کو نہیں روک سکتے حقیقت یہ ہی ہے سینٹ کا انتخاب ہاہوس کے رولز کے مطابق ہے اسے باہر نہیں لے کر جایا جاسکتا ۔ انہوں نے کہا کہ عدم اعتماد اپوزیشن کا حق بنتا ہے ، جب عدم اعتماد آئے گی تو اسکا مقابلہ کریں گے ۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن سے قبل کیمریکے معاملے پر کمیٹی بنے گی اور معاملے کی تہہ تک جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس کی بڑھتی ہوئی شرح میں سب کو احتیاط کرنی چاہیے، کوئی ایسی سرگرمی نہیں کرنی چاہیے جو ہماری صحت اور سلامتی کے لئے چیلنج بنے ۔