Sunday, July 21, 2024
ہومسائنس و ٹیکنالوجیچینی خلائی مشن چھانگ عہ 6 چاند سے نمونے لے کر زمین پر واپس آگیا

چینی خلائی مشن چھانگ عہ 6 چاند سے نمونے لے کر زمین پر واپس آگیا

بیجنگ: چینی خلائی مشن چھانگ عہ 6 چاند سے نمونے لے کر زمین پر پہنچ گیا، چین کی نیشنل اسپیس ایڈمنسٹریشن نے اسے مکمل اور تاریخی کامیابی قرار دیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق چینی خلائی مشن چھانگ عہ 6 چاند سے نمونے لے کر واپس زمین پر آگیا، جس کے بعد جین چاند کے دور دراز علاقے سے نمونے لانے والا پہلا ملک بن گیا۔
چینی مشن کامیابی کیساتھ چاند سے سفر کر کے منگولیا میں اترا، چین میں اس تاریخی لینڈنگ کو لائیو ٹیلی کاسٹ کیا گیا اور چین کی نیشنل اسپیس ایڈمنسٹریشن نے اسے مکمل اور تاریخی کامیابی قرار دیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے چانگ ای سکس سے حاصل چاند کے نمونے تحقیق کیلئے فائدہ مند ثابت ہوگے۔
چینی خلائی مشن دو جون کو چاند کے جنوبی قطب میں اترا تھا، چانگ ای سکس کیساتھ پاکستان نے بھی سیٹلائٹ بھیجا تھا جو اب بھی چاند کے مدار میں چکر لگا رہا ہے۔
یاد رہے 2 جون کو چین کا مشن چانگ ای 6 کامیابی سے چاند پر اترا تھا، چائنا نیشنل اسپیس ایڈمنسٹریشن نے اعلان کیا تھا کہ Chang’e-6 پروب جنوبی قطب آئٹکن بیسن میں اترا، جہاں یہ چاند کی سطح سے نمونے جمع کرنا شروع کردے گا۔
رپورٹ کے مطابق چانگ ای سکس پہلا مشن ہے جو چاند کے اس حصے پر اترا ہے جو سب سے دور سمجھا جاتا ہے اور یہ تحقیقی مقاصد کے لیے چاند سے پتھر اور مٹی اکٹھا کر کے زمین پر لائے گا۔
2019 کے بعد یہ دوسری لینڈنگ ہے جو کوئی مشن کامیابی سے چاند کے اس مقام تک پہنچا ہے اس سے قبل بھی یہ کارناکہ چین نے ہی انجام دیا تھا جب چینگ ای 4 نے وہاں کامیاب لینڈنگ اور تحقیقات مکمل کی تھیں۔
چین کے منصوبوں میں 2030 تک چاند پر خلابازوں کو اتارنا اور اس کے قطب جنوبی پر ایک تحقیقی اڈہ بنانا ہے، یہ چاند کا وہ حصہ ہے جہاں یہ خیال کیا جاتا ہے کہ پانی برف کی شکل میں موجود ہے۔
چینی صدر شی جن پھنگ کی جانب سے چاند کی تلاش کے منصوبے چھانگ عہ 6 کی شاندار کامیابی پر مبارکباد
کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کی مرکزی کمیٹی کے جنرل سیکریٹری، چینی صدر اور مرکزی فوجی کمیشن کے چیئرمین شی جن پھنگ نے سی پی سی سینٹرل کمیٹی، چین کی ریاستی کونسل اورمرکزی فوجی کمیشن کی جانب سے چاند کی تلاش کے منصوبے کے چھانگ عہ 6 مشن کے ہیڈکوارٹرز اور مشن میں شریک تمام افراد کو دلی مبارکباد پیش کی۔
بیجنگ وقت کے مطابق 25 جون کی سہ پہر دو بجکر سات منٹ پر چین کا چھانگ عہ 6 ریٹرنر چاند کے دور افتادہ حصے سے چاند کے نمونوں کے ساتھ چین کے اندرونی منگولیا کے مقررہ علاقے میں بحفاظت واپس اتر گیا۔ اپنے تہنیتی پیغام میں شی جن پھنگ نے نشاندہی کی کہ چھانگ عہ 6 نے انسانی تاریخ میں پہلی بار چاند کے دور افتادہ حصے سے نمونوں کے ساتھ واپسی کامیابی سے مکمل کی ہے جو چین کی خلائی طاقت اور سائنس و ٹیکنالوجی کی طاقت کی تعمیر کا ایک اور تاریخی کارنامہ ہے۔
گزشتہ 20 سالوں میں ، چاند کی تلاش کے منصوبے کی تعمیر و ترقی میں شامل تمام افراد نے بڑی کامیابیاں حاصل کرکے چاند کی تلاش کے اعلی معیار اور اعلی کارکردگی والے راستے کا آغاز کیا ہے۔ شی جن پھنگ نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ وہ گہری خلائی تحقیق جیسے بڑے ایرو اسپیس منصوبوں پر عمل درآمد جاری رکھیں گے، بین الاقوامی تبادلوں اور تعاون کو مضبوط کریں گے، اور چینی طرز کی جدیدکاری کے ساتھ ایک عظیم ملک کی تعمیر اور قومی نشاۃ ثانیہ کے عظیم نصب العین کو جامع طور پر فروغ دینے میں نئی خدمات سرانجام دیں گے۔
چھانگ عہ 6 مشن نے اپنے آغاز کے بعد سے 53 دن اور 11 پروازوں کے مراحل کے بعد چاند کے مدار کے ڈیزائن اور کنٹرول ، چاند کے دور افتادہ حصے پر ذہین اور تیز طریقے سے نمونے لینے ، اور چاند کے دور افتادہ حصے سے ٹیک آف جیسی اہم ٹیکنالوجیز میں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔